اسلام آباد (عادل عباسی)سینیٹ آف پاکستان میں مارچ 2027 کے دوران بڑے پیمانے پر تبدیلی متوقع ہے، جب ملک بھر سے ایوانِ بالا کے 48 ارکان کی چھ سالہ آئینی مدت مکمل ہو جائے گی۔ ان میں خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے 12 سینیٹرز بھی شامل ہیں، جن کی مدت 11 مارچ 2027 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر نئے انتخابات کے نتیجے میں سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اور عددی توازن تبدیل ہونے کا امکان ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے تناظر میں صوبائی حکومت کی بحالی انتخابی عمل کے حوالے سے خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی ان 12 نشستوں پر ارکان کا انتخاب مارچ 2021 میں ہوا تھا۔ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ان نشستوں پر دوبارہ انتخاب کرایا جانا ہے۔ اس انتخاب میں صوبائی اسمبلی کے ارکان ووٹ ڈالتے ہیں، اس لیے صوبے میں اسمبلی کی آئینی و عملی حیثیت اور حکومتی معاملات انتخابی عمل کے لیے اہم ہوں گے۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے بعد صوبائی حکومت کی بحالی کو سینیٹ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی بحالی اور اسمبلی کے معمول کے آئینی و پارلیمانی امور کی بحالی کے بعد ہی سینیٹ انتخابات کے انعقاد کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ تاہم انتخابات کے حتمی شیڈول، طریق کار اور وقت کا تعین متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے مطابق ہوگا۔خیبرپختونخوا کی جن 12 نشستوں پر انتخابات متوقع ہیں، ان میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی قابلِ ذکر تعداد شامل ہے۔ اسی وجہ سے آئندہ انتخابات کو تحریک انصاف کے لیے اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کو نہ صرف اپنی موجودہ نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی بلکہ صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی پوزیشن کو بھی انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ صوبے میں گورنر راج کے خاتمے اور منتخب حکومت کی بحالی کی صورت میں اسمبلی کی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آنا بھی انتخابی تیاریوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ انتخابات اہمیت کے حامل ہوں گے۔ جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنی پارلیمانی پوزیشن کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ انتخابی مرحلے میں امیدواروں کے چنا، جماعتی رابطوں اور ممکنہ سیاسی اتحادوں کی اہمیت بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ووٹوں کی تعداد اور اسمبلی میں جماعتوں کی عددی قوت امیدواروں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔سینیٹ انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے خیبرپختونخوا میں حکومت اور اسمبلی کے معمول کے کام کی بحالی انتخابی تیاریوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ گورنر راج اور ہنگامی حالت کے بعد سیاسی و آئینی صورت حال معمول پر آنے کی صورت میں جماعتوں کو اپنے امیدواروں کے انتخاب، انتخابی مہم اور ووٹوں کی تقسیم سے متعلق حکمت عملی مرتب کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کی بحالی کے لیے کوئی مخصوص تاریخ یا طریق کار سینیٹ انتخابات کے انعقاد کی حتمی شرط بن چکا ہے۔ملک بھر میں مارچ 2027 کے دوران 48 سینیٹرز کی مدت مکمل ہونے سے ایوانِ بالا میں نئی صف بندی کا موقع پیدا ہوگا۔ ان نشستوں پر کامیاب ہونے والے نئے ارکان آئندہ چھ برس کے لیے سینیٹ کا حصہ بنیں گے۔ اس دوران سیاسی جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی پارلیمانی نمائندگی میں اضافہ کریں اور قانون سازی سمیت اہم قومی معاملات میں اپنا کردار مضبوط بنائیں۔خیبرپختونخوا کی 12 نشستوں پر ہونے والا انتخاب بھی اسی بڑے انتخابی عمل کا اہم حصہ ہوگا۔ صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے بعد حکومتی بحالی، صوبائی اسمبلی کے معمول کے امور اور سیاسی جماعتوں کی انتخابی تیاریوں کو خاص اہمیت حاصل رہے گی۔ آئندہ مہینوں میں صوبے کی آئینی و سیاسی صورت حال اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلے اس انتخابی عمل کی سمت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
بریکنگ نیوز
- لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنز ویکسین بھی ناپید مریض پریشان
- گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی گورنر ہائوس پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
- پنجاب بھر میں اوور سپیڈنگ کرنیوالوں کیخلاف کارروائیوں میں تیزی
- کریانہ سٹور سے 60 ہزار لے جانے کا الزام’ ایس پی شیخوپورہ 29 اکتوبر کو طلب
- ترکیہ ‘ لیبیا کے درمیان سمندری حدود معاہدے پر اسرائیل کو پریشانی
- چینی ماہرین کی معاونت سے پنجاب کے 65ریسکیو افسران کی خصوصی تربیت مکمل
- لاہور سے سعودی عرب جانیوالی متعدد پروازیں منسوخ، مسافروں کو مشکلات
- فیصل آبادغیرت کے نام پر بیوی اور اس کے آشنا کا قتل
- پنجاب پولیس کے افسران و اہلکار جمعتہ المبارک کے موقع پر ہائی الرٹ ہو کر سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔
- خاتون اے ایس پی کو ہراساں کرنے والے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
- بل کلنٹن کا بیان نفرتوں کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے،اختر اقبال
- صوبائی محتسب کے ضلعی ایڈوائزر کی کھلی کچہری
- آئی جی پنجاب عبدالکریم جرائم کے تدارک اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دے رہے ہیں۔
- کراچی، ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا آغاز
- آئی جی کا شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے پنجاب بھر میں پٹرولنگ بڑھانے کا حکم
- این سی سی آئی اے کی مختلف شہروں میں کارروائیوں کے دوران 24 ملزم گرفتار
- پنجاب میں انٹر پارٹ ون کے نتائج میں گزشتہ سال کی نسبت 6فیصد سے
- لاہور:جماعت اسلامی کے کارکنان نے پٹرولیم لیوی کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔
- ایک ہی خاندان کی 3 نسلوں کے 28افراد حافظِ قرآن بن گئے
- گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں 1507 ٹریفک حادثات 704 افراد شدیدزخمی 24
