لاہور (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے ساتھ ساختی اصلاحات پرعمل درآمد جاری ہے ،پاکستان نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں 3 ارب یورو کے بائونڈز جاری کیے جبکہ کا آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہوگا ،پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرہیں ،رواں مالی سال آئی ٹی برآمدات 5.5ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3بار بہتری آئی،رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے ،خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورتحال تسلی بخش ہے تاہم گیس اور ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے،ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اصلاحات کاسلسلہ جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نے گزشتہ روز لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ”پاکستان کا طویل مدتی اصلاحاتی ایجنڈا”کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3بار بہتری آئی،رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے ،حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس ختم اور ٹیکس سلیب کم کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ پاکستان کے لیے دو بڑے وجودی چیلنجز ہیں، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پاکستان کے معاشی اور سماجی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں اس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے وگرنہ وسائل کم ہی رہیں گے ۔
پاکستان کی آئی ٹی بر امدات5.5ارب ڈالر ترسیلات زر 44 ارب ڈالر پہنچنے کی توقع وزیر خزانہ

