لاہور(خبریں ڈیجیٹل)مہنگائی کا جن بے لگام ہو گیا، لاہور کی سبزی منڈیوں میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں ڈھیر!لاہور کے شہریوں کے لیے کچن چلانا ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹیں دکانوں پر صرف قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے لٹکائی جاتی ہیں، جبکہ اندرونِ خانہ "من مانے ریٹس” کا بازار گرم ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج لاہور کے عوام پر مہنگائی کا کتنا "جبر” ڈھایا جا رہا ہے۔سرکاری لسٹ اور گرانڈ ریئلٹی (Retail Market) میں پائے جانے والے اس بڑے فرق کو اس ترتیب سے سمجھا جا سکتا ہے: پیاز بنیادی ضرورت’ سرکاری نرخ: 220 روپے فی کلو’ مارکیٹ کا جبر: 260 سے 280 روپے (بغیر تڑکے کے ہنڈیا ناممکن ہو گئی) ٹماٹر (لال مرچ سے زیادہ تیز) سرکاری نرخ: 240 روپے فی کلو’ مارکیٹ کا جبر: 280 سے 300 روپے (ٹماٹر خریدنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں( ادرک و لہسن )شاہی مصالحے۔ سرکاری نرخ: ادرک 500 روپے | لہسن 440 روپے۔ دونوں آئٹمز 600 روپے فی کلو سے اوپر ،شملہ مرچ 335 روپے | مٹر 110 روپیجبکہ دوکاندار۔ شملہ مرچ 400 روپے تک فرعخت کر رہے ہیں۔پھلوں کی صورتحال قندھاری انار اور سیب۔ سرکاری نرخ درج ذیل ہیں۔ انار 481 روپے | سیب 251 روپے | کیلا 136 روپے (درجن)
بیمار کے لیے پھل خریدنا بھی خواب بن چکا ہے، پھل فروش سرکاری ریٹ لسٹ کو ردی کا کاغذ سمجھتے ہیں
شہریوں کی چیخیں نکل گئیں لاہور میں سبزی پھل خریدنا غریب کی پہنچ سے باہر

