واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کل ہی ہوسکتا ہے، ادھر ایران نے بندر عباس میں امریکی ڈرون ار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تہران نے عراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ کیا جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ذرا سی بھی عقل ہوئی تو حملہ نہیں کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا فیصلہ کن کارروائی کرنے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ایران سے معاہدہ کیا جائے یا اسے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کے حوالے سے کوئی بڑی پیشرفت نہیں کر رہا اور اس کی بیشتر جوہری تنصیبات تباہ کردی گئی ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا پِک ایکس ماؤنٹین میں سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایران میں جبل الفاس کے مقام پر کیا ہو رہا ہے۔ دریں اثناء امریکی سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے آبنائے ہرمز کا فضائی دورہ کیا اور سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے والے امریکی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشن میں مصروف اہلکاروں کی لگن کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خلیجی شراکت داروں اور شپنگ انڈسٹری کے ساتھ کھڑا ہے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہونا ضروری ہے، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے کسی ایک حصے میں جنگ اور تنازعات جاری ہوں تو پورے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ایرانی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ ایرانی میزائلوں نے زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے تباہ کیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ قبل ازیں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا ایسا جواب دیا جائے گا جو ناقابل تصور ہوگا۔باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم امریکا سے مرعوب نہیں ہوگی اور نہ ہی امریکی فوجی دھمکیوں یا دبا کے سامنے جھکے گی۔انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، دھمکیاں دینا بند نہیں کرتا اور اپنے توڑے ہوئے وعدے پورے نہیں کرتا، اس وقت تک امریکی دعوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
