اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ریاست سے متعلق بیان پر
سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ریاست کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کرنا کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمن کا بہت احترام کرتے تھے، تاہم گزشتہ روز ان کے بیان نے انہیں شدید مایوس کیا ہے اور اس کے بعد ان کے لیے احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی۔جمعرات کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے، تنقید اور سیاسی مقف پیش کرنے کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن اس کے اظہار کے لیے حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول کسی بھی سیاسی رہنما کو ایسی حدود عبور نہیں کرنی چاہئیں جن سے ریاست کے وقار اور قومی مفادات کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا تاثر پیدا ہو۔محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن گزشتہ کئی ہفتوں سے ان پر مسلسل تنقید کر رہے تھے، لیکن انہوں نے ان تنقیدوں کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ تاہم گزشتہ روز کے بیان پر انہیں اپنا مقف واضح کرنا ضروری محسوس ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے ایوان کو بھی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے درست صورت حال پیش نہیں کی، جس کے باعث ان کے دورہ ایران کے مقصد کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے دورہ ایران کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دفاعی معاہدے کے سلسلے میں ایران نہیں گئے تھے، بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر خطے میں جاری بحران اور جنگی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وہاں بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں اس معاملے پر خصوصی ذمہ داری سونپی تھی اور بعض امور میں ضروری معاونت بھی فراہم کی گئی تھی۔محسن نقوی کے مطابق ایران کا دورہ ان کی ذاتی خواہش یا شوق کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دورے کے اصل مقصد کو سمجھنے کے بجائے اس پر سوالات اٹھائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اور علاقائی سلامتی سے متعلق حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے حقائق کو مدنظر رکھنا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے سیاسی تنقید اور قومی مفادات کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ایک دوسرے کے سیاسی فیصلوں اور حکومتی کارکردگی پر تنقید کر سکتے ہیں، تاہم ریاست کے حوالے سے گفتگو میں احتیاط اور سنجیدگی ضروری ہے۔ انہوں نے مذہب کو کاروبار، سیاست اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ سیاسی و مذہبی قیادت کو اپنے طرز عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اپوزیشن رہنماں کے کردار پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے دعوی کیا کہ گورنر راج کے نفاذ سے قبل بعض اپوزیشن رہنما ان سے ملاقاتوں کے دوران گورنر راج لگانے کی درخواست کرتے رہے تھے۔ ان کے مطابق ان رہنماں کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے ان کی عزت اور جان بچائی جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ یہ بات محض زبانی طور پر نہیں کر رہے بلکہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے اپوزیشن رہنماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان کے دعوے کو غلط سمجھتے ہیں تو انہیں اس معاملے پر ان کا جواب بھی سننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں بعض اوقات پس پردہ ہونے والی گفتگو اور عوامی سطح پر اختیار کیے جانے والے مقف میں فرق ہوتا ہے، اس لیے کسی معاملے پر یک طرفہ مقف اختیار کرنے کے بجائے تمام حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔محسن نقوی نے واضح کیا کہ وہ سیاسی تنقید سے گریز نہیں کرتے، لیکن تنقید کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی سیاسی رہنما اس حد سے تجاوز کرے گا تو اس کا جواب دیا جائے گا اور ریاست کے بارے میں نامناسب زبان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان کو مولانا فضل الرحمن کے حالیہ مقف کے جواب اور اپوزیشن کے بعض رہنماں کے ساتھ جاری سیاسی کشمکش کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے خطاب میں ایک طرف ایران کے دورے کے حوالے سے وضاحت پیش کی گئی تو دوسری جانب گورنر راج سے متعلق اپوزیشن رہنماں کے مبینہ مطالبات کا ذکر کرکے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا گیا ہے۔محسن نقوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم قومی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب، ریاست کے احترام اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ ان کا مقف تھا کہ سیاسی رہنماں کو اپنے بیانات اور طرز عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ اختلاف رائے کو ذاتی محاذ آرائی اور ریاست سے متعلق غیر ضروری تنازعات میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
بریکنگ نیوز
- اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف پاکستان چائنا فرینڈشپ ہاسپٹل کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کررہے ہیں
- اسسٹنٹ کمشنر غازی کی زیرِ نگرانی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری
- اٹک:منشیات فروشی اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
- خودمختار مصنوعی ذہانت کیلئے شہریوں کی حکمتِ عملی ضروری ہے، عامر ابراہیم
- اے آئی پالیسی پر عملدرآمد میں تاخیر، ڈیٹا سینٹرز تاحال قائم نہ ہو سکے
- اے این ایف کا مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈان
- علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ناصر محمود بسر کے79ویں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔
- پاکستان اور چین کے درمیان گرین چینل فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط
- آراے بازار پولیس کی کارروائی،ڈینگی ٹیم سے مزاحمت کرنے والا شخص گرفتار
- ٹیلی نار مسلسل تیسرے سال پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی میں نمبر 1 قرار
- گندگی کے ڈھیر اور بند نالیاں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے
- تین مختلف ٹریفک حادثات میں دو شخص جاں بحق، کمسن بچے سمیت 3افراد زخمی
- ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات
- بیرونی کمپنیوں کی خدمات پاکستانی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ قرار
- جرائم کی روک تھام میں کوتاہی برتنے کے حوالے سے ضلع چکوال دیگر پندرہ اضلاع کی فہرست میں شامل
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 4افراد کو حراست میں لے کر شراب اوراسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کر لیا
- القائم مل کے قریب تیز رفتار ہائی ایس اور کیری وین میں تصادم
- موٹر سائیکل کھائی میں گرنےسے 55 سالہ شخص جاں بحق
- تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
- ذاتی تنازعہ پر شہری کو قتل کرنے والے مجرم کو معزز عدالت نے موت کی سزا سنا دی
