کوئٹہ، پشاور ( نیوز ایجنسیاں) سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان پر فتنہ الہندوستان کے 5ڈرون حملے ناکام بنادئیے۔ لکی مروت اور باجوڑ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2پولیس اہلکار شہید ہوگئے،جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آور بھی مارے گئے ادھر فتنہ الہندوستان کے سہولت کاروں نے دہشت گردوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے حملے کے خلاف موثراور فوری کارروائی کرتے ہوئے 5ڈرون گرا دئیے گئے۔دہشت گردوں نے ضلع خاران کے علاقے البٹ میں قائم چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بروقت ردِعمل میں پانچوں ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دئیے۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ واقعہ میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔سکیورٹی فورسز بلوچستان سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ادھر خیبرپختونخوا کے علاقوں لکی مروت اور باجوڑ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں مسلح افراد ہلاک کردئیے گئے ۔پولیس کے مطابق ضلع باجوڑ میں تھانہ برنگ کی سیلئی پٹی پولیس پوسٹ پر نامعلوم افراد کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ دوسری جانب لکی مروت کے علاقے شہبازخیل میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل شہید ہوگیا۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں ملزمان کا پیچھا کرکے دونوں مسلح افراد کوہلاک کردیا گیا۔دوسری جانب فتنہ الہندوستان کو چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے محمد سہیل بہرام اور محمد عرف مہروان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے ریاست سے وفاداری کا عہد کر لیا۔تربت کے رہائشی محمد سہیل اور محمد عرف مہروان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے فتنہ الہندوستان (کالعدم بی ایل اے) کے دہشت گرد ثابت عرف کماندان سے رابطہ ہوا اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے دہشت گرد تنظیم کی سہولت کاری کرتے رہے۔سہولت کاروں نے کہا کہ ہم اپنے ملک پاکستان سے غداری کرنے اور دہشت گردوں کا ساتھ دینے پر بہت شرمندہ ہیں، ہم آئندہ کسی دہشت گردتنظیم سے رابطہ نہیں رکھیں گے اور نوجوان نسل بھی ان تنظیموں سے دور رہے۔فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور انکے اہلخانہ کی دہشت گرد تنظیموں سے اعلانِ لاتعلقی بلوچ عوام کی بدامنی سے بڑھتی بیزاری کی عکاس ہے۔
ڈرون حملے

