اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اپوزیشن جماعتوں کے درمیان حکومت مخالف گرینڈ الائنس تشکیل دینے کی کوششیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، تاہم اتحاد کی تشکیل سے پہلے ہی اختلافات اور تحفظات سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے درمیان سیاسی رابطوں اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربتوں کے تناظر میں بلوچستان کے قوم پرست رہنما اختر مینگل بھی اپوزیشن اتحاد کی قیادت سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اختر مینگل کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے ہونے والی اہم مشاورت اور بڑے سیاسی فیصلوں میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کی قربتیں بڑھنے کے بعد اختر مینگل کو سیاسی مشاورت کے عمل میں پہلے کی طرح اہمیت نہیں دی جا رہی، جس پر انہوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔اختر مینگل کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی تشکیل اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے ان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ اسی تناظر میں ان کا یہ شکوہ بھی سامنے آیا ہے کہ ”مجھ سے کسی نے مشورہ نہیں کیا، اختر مینگل پی ڈی ایم ٹو پوائنٹ زیرو سے ناراض”۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر مینگل کی ناراضی کی ایک وجہ بلوچستان کی بعض نشستوں اور سیاسی معاملات پر ہونے والی مشاورت بھی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی تعاون، نشستوں کی اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اختر مینگل کو نظر انداز کیے جانے کا تاثر پایا جاتا ہے، جس نے پہلے سے موجود تحفظات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کی نوجوان قیادت کی جانب سے اختر مینگل کو اپوزیشن اتحاد میں مدعو نہ کیے جانے کے سوال پر ایک دلچسپ اور معنی خیز جواب بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نوجوان قیادت کے ایک رہنما نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ بابے سیاستدان ہمیں بلیک میل کرتے ہیں”۔ اس جواب نے اپوزیشن اتحاد کے اندر سینئر اور نوجوان قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اور سوچ کے فرق کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔سیاسی حلقوں میں اپوزیشن اتحاد کی اس نئی صف بندی کو پی ڈی ایم کے ایک نئے سیاسی مرحلے یا پی ڈی ایم ٹو پوائنٹ زیرو سے بھی تشبیہ دی جا رہی ہے، تاہم اس مجوزہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان ابھی تک تمام معاملات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ ایک طرف تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان مولانا فضل الرحمن کے ساتھ سیاسی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں تو دوسری جانب اسی اتحاد سے وابستہ بعض سیاسی رہنماؤں کے تحفظات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔واضح رہے کہ چار نومبر کو مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی، جس میں متحدہ اپوزیشن کو مضبوط بنانے، پارلیمانی تعاون بڑھانے اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اجلاس میں اختلافات دور کرنے کے لیے کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم اس اجلاس میں اختر مینگل کی عدم شرکت نے ان کی سیاسی شمولیت اوراپوزیشن اتحاد کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی صفوں میں موجود اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ ایک جانب مولانا فضل الرحمن کے ساتھ سیاسی قربتیں بڑھانے، دوسری جانب بلوچستان کی قوم پرست قیادت کو ساتھ رکھنے اور تیسری جانب تحریک انصاف کے اندر موجود مختلف سیاسی آرا کو یکجا کرنے کا معاملہ ہے۔یوں حکومت کے خلاف کسی بڑے احتجاجی تحریک یا گرینڈ الائنس کی تشکیل سے پہلے ہی اپوزیشن کو اپنے اندرونی اختلافات، سیاسی ترجیحات اور قیادت کے باہمی تحفظات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن قیادت اختر مینگل سمیت دیگر ناراض سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دے سکے گی یا حکومت مخالف اتحاد کی تشکیل سے پہلے ہی اختلافات اس کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے؟دنیا کا بدترین بحران، سائبر حملے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو نگلنے لگے۔
حکومت مخالف اتحاد

