تازہ تر ین

بوڑھے افراد کے دماغوں میں بھی نوجوانوں کی طرح نئے خلیات بنتے ہیں، تحقیق

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ماہرین نے یہ زبردست خبر دی ہے کہ بوڑھے افراد کے دماغ میں بھی نئے خلیات عین اسی طرح بنتے ہیں جیسے کہ نوجوانوں میں جنم لیتے ہیں۔اس سے قبل ماہرین کہتے رہے ہیں کہ 40 سال کے بعد سے دماغی زوال شروع ہوجاتا ہے اور بڑھاپے میں نئے اعصابی خلیات پیدا نہیں ہوتے تاہم نئی تحقیق نے اس خیال کو ہمیشہ کے لیے مسترد کردیا ہے۔ یہ تحقیق ’سیل‘ نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمر رسیدہ دماغوں میں بھی جوانوں کی طرح نئے خلیات بنتے رہتے ہیں۔کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر اعصابیات ڈاکٹر مورا بولڈرینی کہتے ہیں کہ مجھے اسکول کی ابتدائی جماعتوں میں یہ کہا جاتا رہا تھا کہ ایک عمر تک انسانی دماغ نئے سیلز بنانا چھوڑ دیتے ہیں لیکن اب بوڑھے چوہوں پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں نئے خلیات بنتے ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں جب انسانوں کو نوٹ کیا گیا تو ان میں بھی عین یہی نتائج برا?مد ہوئے، اس تحقیق میں پوری انسانی زندگی میں دماغی خلیات کی پیداوار کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر مورا بولڈرینی اور ان کے ساتھیوں نے صحت مند افراد کے جسم سے نکالے ہوئے ایسے 28 بھیجوں کا معائنہ کیا جو 14 سے لے کر 79 سال تک کے افراد کے تھے۔ یہ دماغ قبل ازمرگ وصیت میں عطیہ کیے گئے تھے۔ ان افراد کو کوئی دماغی یا بڑی بیماری لاحق نہ تھی اور نہ ہی وہ کسی قسم کا نشہ کرتے تھے کیونکہ منشیات دماغ پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ماہرین نے تمام دماغوں کے ہپوکیمپس کو کھول کر دیکھا اور اس کی قاشیں بنا کر اس میں بننے والے نئے خلیات کو خردبین سے دیکھا۔ اس کے بعد کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے دماغ میں بننے والے نئے خلیات کو شمار کیا گیا۔ سائنس دانوں نے کہا ہے کہ بوڑے دماغ مکمل طور پر نہیں بدلتے بلکہ وہ جوان دماغوں کی طرح نئے خلیات بناتے ہیں لیکن ان میں خون کی نالیاں کم کم بنتی ہیں جبکہ جوان دماغوں کے مقابلے میں ان میں خلیاتی کنکشنز جلدی نہیں بنتے۔اس نئی تحقیق کے بعد سے برسوں پرانا ایک مفروضہ ختم ہوگیا ہے کہ بڑھاپے میں انسانی دماغ میں نئے خلیات نہیں بنتے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain