اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر آئندہ پانچ سالوں کیلئے قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اسد قیصر کو قومی اسمبلی کے سپیکر کیلئے 176ووٹ ملے اور کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ۔146ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر حلف اٹھانے کے بعد اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھائیں گے اور ڈپٹی سپیکر کیلئے انتخاب کروائیں گے۔قومی اسمبلی کیلئے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا تو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے دوبارہ گنتی کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے ایک مرتبہ دو بارہ گنتی کی گئی جس کے بعد حتمی نتیجہ تشکیل دیا گیا۔پولنگ کا عمل جاری تھا کہ اس دوران عمران خان سپیکر کے انتخاب کیلئے اپنا ووٹ ڈالنے کیلئے سپیکر کے ڈائس کے آگے پہنچے اور کارڈ نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ خالی تھی اور وہ اپنا کارڈ گھر بھول آئے تاہم انہوں نے سپیکر ایاز صادق سے کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت طلب کی جس پر اجازت دیدی گئی اور انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ عمران خان ووٹ ڈالنے کے بعد سپیکر ایاز صادق سے ہاتھ ملائے بغیر ہی سپیکر کی کرسی کے پیچھے سے نکل کر واپس چلے اور سر ہلاک کر سلام کیا۔عمران خان کی جانب سے بغیر کارڈ ووٹ ڈالنے پر پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس بھی کارڈ نہیں تھا تو مجھے کہا گیا کہ آپ کارڈ لے کر آئیں یا نیابنوائیں اور جب میں کارڈ بنو کر لایا تو اس کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تاہم عمران خان کارڈ کے بغیر ہی ووٹ ڈال کر چلے گئے۔عبدالقادر کے اعتراض پر سپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کارڈ نہ ہونے پر مجھ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دیدی لیکن آپ نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور اگر آپ بھی مجھ سے بات کرتے تو میں آپ کو اجازت دے دیتا۔سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو توسب سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری کانام پکارا گیا لیکن وہ ایوان میں موجود نہیں تھے تاہم انہوں نے بعد میں آکر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے اسد قیصر کو سپیکر جبکہ قاسم سوری جن کا تعلق بلوچستان سے ہے ڈپٹی سپیکر کیلئے امیدوار نامزدکیاگیاہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سپیکر کیلئے مشترکہ امیدوار خورشید شاہ اور ڈپٹی سپیکر کیلئے مولانا اسعدمحمود کو امیدوار نامزد کیاگیاہے۔تحریک انصاف کو ایم کیوایم، بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی مینگل، جی ڈی اے، ق لیگ، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 151 نشستیں ہیں جبکہ ایم کیوایم کی 7، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بی این پی مینگل کی 4، جی ڈی اے کی 3، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشست ہے۔ 4 میں سے 2 آزاد ارکان نے بھی تحریک انصاف کو حمایت کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ یوں تحریک انصاف کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 177 بنتی ہے۔دوسری جانب سید خورشید شاہ اور مولانا اسعد محمود کو مسلم لیگ ن کے 81، پیپلزپارٹی کے 53، ایم ایم اے کے 15 اور اے این پی کے ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اپوزیشن اتحاد کے امیدواروں کو 150 کے قریب ووٹ مل سکتے ہیں۔ ووٹوں میں سے اکثریت حاصل کرنے والا رکن اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو جائے گا۔ سپیکر ایاز صادق نومنتخب سپیکر سے حلف لیں گے۔ نیا سپیکر اپنی نشست سنبھالنے کے بعد ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرائے گا۔
کھلاڑی قومی اسمبلی کا سپیکر بن گیا

