لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں ایک دوسرے کیخلاف کرپشن کے کیسز بنائے گئے لیکن کسی کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا۔ ان ادوار میں مخالفوں کو پکڑنے اور دباﺅ میں رکھنے کا وطیرہ تھا‘ مقدمات درج ہوتے تھے مگر کوئی کارروائی یا سزائیں نہیں ہوتیں تھیں۔ اب پہلے سے موجود کرپشن کیسز میں گرفتاریاں ہو رہی ہیں تاکہ انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے اس لئے ایسا نہیں سمجھنا چاہئے کہ حکومت انتقام لے رہی ہے۔ سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں پکڑا گیا ہے ان پر یہ الزامات کافی عرصہ سے لگ رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے میٹر ریڈر کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا پھر قانون کا امتحان پاس کیا اور سیاست میں آ گئے۔ گزشتہ دنوں نیب قوانین میں ترامیم کی بات ہو رہی تھی تاہم کوئی مزید پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ نیب قوانین میں سقم ہیں تو حکومت کو ترامیم کے ذریعے اسے دور کرنا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر پر شہبازشریف اپوزیشن رہنماﺅں میں بارش کا پہلا قطرہ بنے ہیں انہوں نے نیویارک اور واشنگٹن میں اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ کشمیر بارے جلسہ ہو تو حکومت کا ساتھ دیں اس میں شریک ہیں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وزیراعلیٰ کی گرفتاری مشکل کام ہے۔ حکومت کی اپوزیشن کیخلاف کارروائیاں کچھ عرصہ کیلئے روک دینی چاہئیں اور صرف کشمیر کے ایشو پر یکجہتی سے بات کرنی چاہئے۔ ایک زمانہ میں فیشن کے طور پر اخبارات میں کہا جانے لگا کہ کشمیر مردہ گھوڑا ہے میں اس وقت صف اول کے ایک اخبار سے منسلک تھا تو ایک اعلیٰ افسر آغا شاہی سفارتکار بھی رہے نے مجھے بلایا اور کہاکہ کبھی بھی ایسا مضمون یا بیان نہ چھاپیں جس میں کہا جائے کہ کشمیر مردہ گھوڑا ہے۔ وقت اور حالات بدلتے رہتے ہیں آج کشمیر کا مسئلہ اگر دبا ہوا ہے تو اس میں پچاس سال بعد دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ صحیح بات کرتے رہنا چاہئے جو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ آغا شاہی نے ٹھیک بات کی کہ ہمیں صحیح بات کرتے رہنا چاہئے اصولی بات ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کو کرنے دینا چاہئے اور ہمیں یہی مو¿قف اپنانا چاہئے اپنی مرضی ان پر نہیں تھوپنی چاہئے اگر وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں تو خوش آمدید کہنا چاہئے۔ پاکستانی شہری کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ کشمیری اگر آزاد ریاست چاہتے ہیں تو تو بھی ہمیں اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ یو این قراردادوں میں رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کی پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کی بات کی گئی۔ آزاد رہنے کا آپشن شامل نہیں تھا‘ یہ آپشن اب سامنے آیا ہے۔ ہمیں اصولی مو¿قف اپنانا چاہئے کہ کشمیری ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔بھارت ضد اور انتقام میں یہ حد کو پار ر گیا ہے۔ 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے۔ کشمیر میں دو بڑی فصلیں سیب اور چاول تیار ہیں لیکن کوئی سیب اتارنے والا یا فصل کاٹنے والا نہیں مل رہا جس کے باعث فصلیں خراب ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو طالبان نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ امریکہ کو مہنگا پڑے گا۔ افغانستان میں ایک دن میں دو واقعات میں 48سے زائد ہلاکتیں اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی خدمات حاصل کرکے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے چاہئیں کہ اس سے امن کا قیام ممکن ہے۔
شہباز شریف کی کشمیر پر عمران خان کو تعاون کی پیشکش قابل تعریف
