لندن (ویب ڈیسک)گلالئی اسماعیل رواں برس مئی کے اواخر سے غائب تھیں جب اسلام آباد میں ایک بچی سے جنسی زیادتی اور اس کے قتل کے واقعے پر احتجاج کرنے پر ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس مقدمے میں گلالئی اسماعیل پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے ’اس واقعے کی آڑ میں لوگوں کو حکومت وقت اور فوج کے خلاف بھڑکایا ہے‘۔مقدمے کے اندارج کے بعد پولیس نے ان کی تلاش میں متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے مگر انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔اس سے پہلے بھی ’حکومت مخالف تقاریر‘ کے الزام پر گلالئی اسماعیل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت اپنی حراست میں لیا تھا جب وہ بیرون ملک سے پاکستان واپس آرہی تھیں۔اس کے علاوہ انھیں اس سال فروری میں پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کے قتل پر احتجاج کرنے کے بعد بھی حراست میں لیا گیا تھا۔گلالئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان سے ’فرار‘ ہو کر امریکہ پہنچ گئی ہیں جہاں وہ سیاسی پناہ حاصل کر رہی ہیں۔
عوام کو حکومت ،فوج کے خلاف بھڑکانیوالی پی ٹی ایم کی حامی گلالئی اسماعیل خفیہ روپوشی کے بعد امریکہ پہنچ گئیں
