Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
    • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا چارٹ
    • صاحب حیثیت افراد سولر لگا کر رعایت سے فائدہ اٹھاتے وزیر توانائی 200 یونٹ کی حد ختم کرنے پر غور
    • پنجاب میں آج سے بارشوں کی پیشگوئی’ سردی بڑھنے کا امکان
    • پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار
    • اسلام آباد:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے نکالی گئی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔
    • مشرقِ وسطی کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر دیرپا سلامتی حاصل نہیں کر سکتا :انتونیو گوتیرس
    • ایران نے یورپ امریکہ کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر لیے ٹرمپ حملے کا جواب پہلے سے زیادہ تباہ کن ہو گا تہران
    • عوام کی سلامتی انصاف کیلئے جیل جانا منظور جرم ترک کر دیں ورنہ نہیں چھوڑیں گئے مریم نواز
    • پاک چین دیجیٹل روابط مزید مضبوط بنانے کا اعلان
    • وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑاور چینی سفیرپاک چین انفارمیشن کوریڈور کا افتتاح کررہے ہیں۔
    • منڈی بہائوالدین : مریم نواز یونیورسٹی آف رسول کے ملٹی پرپز ہال میں طالبات کے ساتھ مل کر کیک کاٹ رہی ہیں۔
    • اسرائیل میں ریکارڈ ووٹنگ؛ نیتن یاہو کی پریشانی بڑھ گئی’اپوزیشن رہنما پر مبینہ حملہ’چاقو بردار شخص گرفتار
    • طالبان کی سول آبادی پر گولہ بھاری پاک فوج کا منہ توڑ جواب متعدد چیک پوسٹیں تباہ ٹھکانے چھوڑ کر فرار
    • کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری
    • بھارت میں شدید سمندری طوفان ارناب کی زد میںآ گیا
    • اسلام آباد:سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار احمد کی قیادت میں یوم سیاہ پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی جارہی ہے
    • جموں کشمیر پر بھارتی قبضے کیخلاف یوم سیاہ منایا گیا شہر شہر ریلیاں
    • امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں وفد کی ملاقات حکومت عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے اور کرتی رہے گئی شہباز شریف
    • اسلام آباد وزیر اعظم شہباز شریف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے مصافحہ کر رہے ہیں
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عارف نظامی کا خلا

    By Daily Khabrainجولائی 30, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مجیب الرحمن شامی
    عید کی نماز پڑھ کر معانقوں اور مصافحوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے گھر پہنچے، ناشتے کے بعد عزیزان علی اور عثمان کے ساتھ قبرستان کا رخ کیا کہ عمر شامی بیرون ملک ہیں۔ پہلی ملاقات والدہ محترمہ سے کی، جو نیو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں محو ِ آرام ہیں۔اس سے متصل ماڈل ٹاؤن کا ایک چھوٹا سا قبرستان ہے،جس میں میری بھانجی سارہ جو ایک ہونہار ماہر نفسیات تھیں اور بہت آگے بڑھنے کے ارادے رکھتی تھیں، اپنے جواں خوابوں سے لبریز دفن ہیں۔یہیں محترم ضیا شاہد اور ان کے ہونہار بیٹے عدنان شاہد بسیرا کیے ہوئے ہیں۔دو، تین کلو میٹر کے فاصلے پر فیصل ٹاؤن کا قبرستان ہے،جہاں میری سب سے بڑی بہن وسیم اختر اور ان کے شوہر محمد اختر عادل لمبی تانے ہوئے ہیں۔ وہاں سے کچھ ہی دور ماڈل ٹاؤن جی بلاک کا قبرستان ہے جہاں جواں سال بھتیجے عامر ضیا نے پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر فیض احمد فیض مقیم ہیں۔یہیں استادِ گرامی پروفیسر اصغر علی، رجحان ساز دانش ور اشفاق احمد خان، ان کی بے مثال اہلیہ بانو قدسیہ، بیدار مغز استاد پروفیسر کرامت حسین جعفری اور بہت سے ایسے لوگ سو رہے ہیں، پاکستان جن کے دم سے مہکتا تھا، انہیں دیکھ کر اور سن کر زندہ رہنے کی امنگ پیدا ہو جاتی تھی۔ گارڈن ٹاؤن کے علاوہ ہر قبرستان میں پانی کھڑا تھا، آگے بڑھنا مشکل تھا، ماڈل ٹاؤن سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ دونوں کے نگران راستے خشک نہیں رکھ پائے تھے۔ سو دروازوں ہی پر کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی، گارڈن ٹاؤن کا قبرستان البتہ حسن انتظام کا نمونہ تھا۔ پانی کا ایک قطرہ تک موجود نہیں تھا، راستے حسب ِ معمول کشادہ اور خشک تھے، قدموں کی چاپ کے منتظر۔
    واپس گھر پہنچے تو دِل کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بوجھل تھیں۔ قربانی کی ذمہ داری آب پاشوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے منتخب صدر اور اپنے اولوالعزم بھانجے شہزاد شامی کو سونپی جا چکی تھی، سو اطمینان سے بستر پر دراز ہو گئے۔کچھ ہی دیر گذری ہو گی کہ طاہرہ بیگم صاحبہ نے جھنجوڑا، ٹی وی پر خبر آ رہی ہے عارف نظامی چل بسے ہیں۔یہ سنتے ہی اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اٹھا نہیں گیا۔دِل بند ہوتا محسوس ہوا اور آنکھیں کھل کر بند اور بند ہو کر کھلنے لگیں، یااللہ، یہ کیا ہوا؟ عید کے روز انہوں نے اپنی جان کیسے قربان کر دی، اوسان بحال ہوتے دیر لگی، بیمار تو وہ تھے،لیکن اس طرح رخصت ہو جائیں گے، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ان کا ایک آپریشن ہوا تھا، وہ صحت یاب ہو رہے تھے لیکن آواز پست اور لہجہ سست نظر آتا تھا۔ ٹی وی پر اپنے پروگرام میں بھی ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے،لیکن ذہانت اور نکتہ سنجی برقرار تھی۔آپریشن کی تفصیل معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ مشکل مراحل بخیرو خوبی گذر گئے ہیں۔چند ہی روز پہلے مشاہد حسین سید لاہور آئے تو احمد بلال محبوب نے انہیں اپنے ہاں ناشتے پر مدعو کیا۔عارف نظامی کو بھی دعوت دی،جو انہوں نے بصد خوشی قبول کر لی،لیکن عین وقت پر معذرت موصول ہو گئی۔ طبیعت کی خرابی کی اطلاع تشویش کا باعث تو تھی،لیکن اسے غیر معمولی نہ سمجھا گیا۔ دِل کے عارضے نے انہیں ہسپتال داخلے پر مجبور کیا،اور چند ہی روز بعد سانحہ پیش آ گیا۔عارف نظامی نے اِس دْنیا سے منہ موڑ لیا، اپنے گرامی ء قدر والد حمید نظامی مرحوم کے پاس جا بسے۔
    عارف نظامی بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے، صحافت انہوں نے وراثت میں پائی تھی،لیکن اس میں نام اور مقام اپنی محنت اور کوشش سے بنایا۔ والد کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تیرہ، چودہ برس کی ہو گی، وہ اپنے والد کو اخبار پڑھتے، لوگوں سے ملتے، اور کام کرتے دیکھتے، تو انہی جیسا بننے کی خواہش دِل میں پیدا ہو ہو جاتی۔والدہ محمودہ بیگم بھی پڑھی لکھی تھیں، علی گڑھ سے گریجوایشن کی تھی، تحریر و تقریر پر ان کو عبور تھا، حمید نظامی کا انتقال ہوا، تو ان کے بھائی مجید نظامی نے ادارہ نوائے وقت کا انتظام سنبھالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عارف نظامی نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا، اور نوائے وقت سے وابستہ ہو گئے۔ پرنٹنگ پریس میں کام کیا، رپورٹر کے طور پر فرائض ادا کیے اور پھر ایگزیکٹو ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اِس دوران ”نوائے وقت“ نے کئی ادوار دیکھے۔ مجید نظامی مرحوم نے اپنا راستہ الگ کر کے روزنامہ ”ندائے ملت“ کا اجرا کر لیا،نوائے وقت بیگم محمودہ نظامی کی براہِ راست نگرانی میں آ گیا،چند برس بعد مجید نظامی نے یہ ذمہ داری دوبارہ سنبھال لی۔عارف نظامی ان کے نائب(اور ولی عہد) کے طور پر پہچانے جانے لگے۔چچا اور بھتیجے کے خیالات اور احباب الگ الگ تھے۔ دونوں کو حمید نظامی مرحوم کے نسبی تعلق اور ادارے کے ساتھ کمٹ منٹ نے باندھ رکھا تھا۔سقوط ڈھاکہ نے نوجوان عارف کے دِل پر ایسا چرکا لگایا تھا کہ فوجی حکمرانی ان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی،وہ بھٹوکے مداح تھے، ان کے ساتھ ہر غیر ملکی دورے میں شریک رہتے، مجید نظامی ذوالفقارعلی بھٹو سے نظریاتی فاصلہ رکھتے تھے لیکن نبھانے کا ہنر جانتے تھے۔
    برسوں عارف نظامی کو ”نوائے وقت“ گروپ کا مستقبل سمجھا اور سمجھایا جاتا رہا۔ مجید نظامی ان کی اسی طرح پرورش کرتے رہے۔وہ انجمن مدیران پاکستان کے صدر منتخب ہوئے، انگریزی روزنامہ ”نیشن“ کا اجرا کیا، چچا کی طرح بھتیجے کا قد بھی بڑا ہوتا گیا۔اْس کے لہجے میں بھی وہ کاٹ آتی چلی گئی جو نظامی خاندان کا طرہء امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ اہل ِ اقتدار کو ٹوکنا، ان کے سامنے اپنی رائے کا بے دھڑک اظہار کرنا،پارلیمانی جمہوریت پر زور دینا سیاسی عمل کو پاکستان کے لئے آکسیجن سمجھنا، چچا اور بھتیجے دونوں کا تعارف یہی تھا۔ عارف دائیں بازو کے ساتھ بندھے ہوئے نہیں تھے، بایاں بازو بھی انہیں اپنا لگتا تھا،ان کے والد ہی ان کے آئیڈیل تھے۔چچا کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر انہوں نے قبول کیااور آداب بجا لاتے رہے لیکن اپنا الگ تشخص بھی برقرار رکھا۔وہ ایک کارکن اخبار نویس تھے، ورکنگ ایڈیٹر تھے، کارکنوں کے ساتھ گھل مل جاتے،اور ان کو اپنائیت کا احساس دلاتے۔ خبر ان کی تلاش میں رہتی، بے نظیر بھٹو کی اسمبلی تحلیل ہونے کی خبر انہوں نے دی اور گویا ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ریحام خان کی عمران سے علیحدگی کی خبر بھی ان ہی نے بریک کی تھی،”وقت نیوز“ کی بنیاد انہوں نے رکھی،لیکن اس کے ساتھ تعلق زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔الیکٹرانک میڈیا کے لوازمات پرنٹ میڈیا کے لئے ہضم کرنا آسان نہیں تھے۔ سو، ”وقت نیوز“ وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، اس نے منہ موڑ لیا۔کم و بیش پندرہ سال پہلے چچا بھتیجے کے اختلافات بے قابو ہو گئے۔ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ نوائے وقت گروپ عارف نظامی سے محروم ہو گیا۔ایک قیامت تھی کہ جو برپا ہو گئی۔عارف نے اپنا انگریزی روزنامہ ”پاکستان ٹو ڈے“شروع کیا، روزنامہ ”جنگ“ میں کالم لکھنے لگے، روزنامہ ”دنیا“ سے بھی وابستہ رہے۔ 92 نیوز نے ان کا پروگرام شروع کیا، تو کالم بھی وہیں منتقل ہو گیا۔نئے ادارے کو خون کی ضرورت تھی، جو بے دھڑک فراہم کیا جا رہا تھا۔ جدوجہد جاری تھی کہ دِل ہانپنے لگا۔حمید نظامی مرحوم بھی دِل ہی کے عارضے میں جاں بحق ہوئے تھے۔مجید نظامی کے تین بائی پاس ہوئے،دِل ہی کا روگ عارف نظامی کی قربانی کا باعث بن گیا۔
    عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پر قادر تھے۔ باخبر تھے اور با علم تھے۔عارف نظامی الفاظ کا چناؤ سوچ کر کرتے،لیکن لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی سی کہہ بھی گذرتے۔ان کی رخصتی سے ذاتی طور پر تو نقصان ہوا ہی ہے کہ ان کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا لیکن قومی صحافت کو بھی بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ذمہ داری کے ساتھ آزادی کا استعمال کرنے والی صحافت میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے،جو آسانی سے پْر نہیں ہو سکے گا کہ اب اس خلا کو پْر کرنے کی ضرورت کا احساس ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔
    (بشکریہ:روزنامہ جرات)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.