اسلام آباد(ویب ڈیسک)جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا ملک کی اندرونی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے جبکہ بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جا رہے ہیں، لیکن انہیں روکنے کے لیے موثر نظام نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا اجلاس پشاور میں ہوا، جس میں ملک کی اندرونی صورتحال اور خطے کے حالات کا جائزہ لے کر جماعت کا موقف طے کیا گیا۔سربراہ جے یو آئی کا ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اجلاس پہلے کراچی میں طے تھا، تاہم بلوچستان سے آنے والے اراکین کی مجبوری کے باعث اسے پشاور منتقل کرنا پڑا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں، جو نہ قانون، نہ آئین اور نہ ہی کسی اخلاقی ضابطے کے پابند نظر آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت سے قرضوں کے حوالے سے شکایت کی جاتی تھی، لیکن آج ملک پر قرضوں کا دبا کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے، جبکہ مہنگائی بھی بہت بڑھ گئی ہے اور عوام مشکلات کا شکار ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکمران عوام کی بات سننے اور مسائل کا ادراک کرنے کے لیے تیار نہیں، ملک میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جا رہا، بعض جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں وزیروں کو اٹھا لیا جاتا ہے جب کہ بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں، سندھ میں ڈاکوں کا راج ہے اور سینیٹر شکور خان کو ایئرپورٹ پر چین جانے سے روک دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے لوگوں کو خود باغی بنایا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں امن و امان، آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو وفاقی دارالحکومت کنٹینرز سے بھر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسائل پارلیمنٹ میں لائے جائیں، حکومت میں بیٹھے لوگ خاموش ہیں، پارلیمنٹ ہاوس کا اِن کیمرا اجلاس بلایا جائے، پارلیمانی لیڈر کے بند کمرے اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ ملک پر قرضوں کا دباو بڑھ گیا ہے، ہمارے صوبے میں وزرا کو روڈ پر روک دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے، ان میں مصر اور ایران کو بھی شامل کیا جائے، ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔
فضل الرحمن
