امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ 23 ستمبر 2026 سے تمام ایرانی ایئرلائنز دنیا بھر میں مؤثر طور پر کام نہیں کر سکیں گی۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے CNBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
بیسنٹ کے مطابق امریکا ایرانی ایئرلائنز پر براہِ راست پابندیوں کے ساتھ ان کمپنیوں اور اداروں کو بھی نشانہ بنائے گا جو ان ایئرلائنز کو بیرونِ ملک سہولیات فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایرانی طیارے کو ایندھن، لینڈنگ سروسز یا ٹکٹ فروخت کرنے جیسی سہولیات فراہم کی گئیں تو متعلقہ ادارے کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔
امریکا نے رواں ماہ ایران کے باقی ماندہ ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس کارروائی میں 36 اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 27 فعال ایرانی ایئرلائنز بھی شامل تھیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایرانی فضائی شعبہ مبینہ طور پر ہتھیاروں، اہلکاروں اور دیگر سامان کی منتقلی میں استعمال ہوتا ہے۔ تہران نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اقتصادی جنگ اور اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پابندیوں کے اثرات پہلے ہی ایرانی فضائی شعبے پر نظر آ رہے ہیں۔ ماہان ایئر نے استنبول، انقرہ اور مسقط کے لیے بعض بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ ایرانی فضائی سفر کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

