لاہور (جنرل رپورٹر) پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کی تعلیمی نشستوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا، صوبے کے 12 مخصوص سرکاری طبی اداروں میں مجموعی طور پر 475 اضافی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ نشستوں میں اضافہ متعلقہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں دستیاب بستروں کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں تدریسی، کلینیکل اور ہاسٹل سہولیات کی دستیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم بی بی ایس نشستوں میں اضافے کا بنیادی جواز متعلقہ ہسپتالوں میں موجود بیڈز کی تعداد اور مریضوں کے بوجھ کو قرار دیا گیا ہے تاکہ میڈیکل طلبہ کو مطلوبہ کلینیکل ایکسپوژر فراہم کیا جاسکے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ہسپتال کے بستروں کی تعداد کو بنیاد بنا کر نشستوں میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ مریضوں کی تعداد، فیکلٹی، پروفیسرز کی دستیابی، او پی ڈی اور ایمرجنسی کا ورک لوڈ، آپریشن تھیٹرز، لیبارٹریز، لائبریری، ہاسٹل اور دیگر تدریسی سہولیات بھی مساوی اہمیت رکھتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی نشستوں سے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے مواقع بڑھیں گے تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ موجودہ تدریسی انفراسٹرکچر اضافی طلبہ کا بوجھ کس حد تک برداشت کرسکتا ہے۔ پہلے ہی متعدد سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا دبا، فیکلٹی کی کمی اور بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں ایسے میں نشستوں میں اضافہ کہیں اعداد و شمار کی کامیابی کے بجائے عملی مشکلات میں اضافے کا سبب نہ بن جائے۔
