نیویارک، برلن (نیوز ایجنسیاں)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اے آئی سے متعلق کچھ افراد کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے۔سلامتی کونسل میں اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹم پر انسانی کنٹرول ہونا بہت ضروری ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اے آئی سسٹم کو امن اور ترقی کے لئے رائج کیا جائے۔نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیک نیوز سے نمٹنا عالمی چیلنج بن چکا ہے، اے آئی سے متعلق ریگولیشنز اور فریم ورک تیار کیا جائے۔دریں اثناء نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات پر زور دیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو کی گئی۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔دفتر خارجہ کے مطابق دونوں جانب سے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔قبل ازیںجرمنی نے علاقائی تنازعات کے حل کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی ہے۔ جرمن دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جرمنی پاکستان کی جانب سے علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بیان میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق سفارتی کوششوں کا ذکر کیا گیا۔ جرمن اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے میں علاقائی صورتحال سمیت دیگر اہم عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے یوکرین جنگ کے معاملے پر بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جبکہ باب المندب بھی خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔ ان دونوں راستوں میں کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ جرمنی کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی پذیرائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے مختلف ممالک سفارتی رابطے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان بھی فریقین کے درمیان مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
اسحق ڈار
