اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر آج اعلیٰ سطح کے
اجلاس کا امکان ہے، وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس کے بعد شہباز شریف نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے آج حتمی فیصلہ بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز ہے۔ صوبے میں اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی بھی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 232سے 234تک غوروخوض کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری کا امکان ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا، ایمرجنسی 12اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔نجی ٹی وی کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات، دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوں گے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس معمول کی بات ہے، کسی ایک اجلاس کو خاص طور پر مینشن کرنا کہ کوئی حتمی فیصلہ ہورہا ہے اس کی تصدیق نہیں کروں گا، کوئی فیصلہ کن اجلاس کی بات ابھی حتمی نہیں ،نہ کوئی اطلاع ہے، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق جو غور حکومت نے کرنا تھا وہ پورا ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ ایمرجنسی لگانے یا نہ لگانے میں کیا کردار ادا کرتی ہے، وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہے، صوبائی حکومت کیلئے بہتر ہے کہ تعاون کرے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حصہ لے، صوبائی حکومت الگ تھلگ رہتی ہے تو دوسرا آپشن ایمرجنسی کا نفاذ ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ پورے صوبے کے لیے ہے 12 اضلاع کیلئے نہیں، 12اضلاع جو شدید متاثر ہیں وہاں غیرمعمولی انتظامات وقت کا تقاضا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، اس سے بڑے مارچ اسلام آباد کی طرف لائے گئے اور ان کو روکا گیا، لانگ مارچ کو ڈیل کرنا ہمیں آتا ہے، وفاقی حکومت کی تیاری مکمل ہے، یہ بات غلط ہے کہ حکومت لانگ مارچ روکنے کیلئے ایمرجنسی لگانا چاہتی ہے، اتفاق ہوسکتا ہے کہ ایمرجنسی کی بات لانگ مارچ کے وقت منظر عام پر آئی ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایمرجنسی سے متعلق ہماری صفوں میں کافی عرصے سے گفتگو چل رہی ہے، واقعات بڑھ رہے ہیں، جوان شہید ہورہے ہیں بہت کوشش کی گئی کہ صوبائی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے، ذہنی اور عملی طور پر وفاقی حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ دہشت گردوں کو مزید وقت نہیں دیا جاسکتا، یہ فیصلہ حتمی طور پر ہوچکا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اٹل فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں اتفاق نہیں کہ مولانا کو وہ ثالث مقرر کرنے پر تیار ہے یا نہیں، پی ٹی آئی کو یقین دہانی کروانا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے۔قبل ازیںمسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ اب بند گلی کی طرف بڑھ رہا ہے، بات چیت کا آپشن قابل عمل نہ رہے تو دوسرا آپشن یہی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جب اس پر سوچا گیا تو وزیراعظم اور صدر نے ایک آپشن مذاکرات کا دیکھا، حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور مذاکرات شروع ہوئے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب بات نہیں بن سکی تو دوسری بار وزیراعظم نے لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی آفر کی، مذاکرات کا آپشن قابل عمل نہیں رہتا تو دوسرا آپشن تو پھر وہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ ہونے کی بات کریں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس کمٹمنٹ پر نہیں آتی تو لانگ مارچ اسلام آباد تک رکھیں نہ رکھیں فرق نہیں پڑے گا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف کا جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نجی ٹی وی حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے رابطہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعد رات گئے کیا گیا۔اس موقع پر دونوں رہنماوں کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کی صورتحال خصوصاً پی ٹی آئی لانگ مارچ بارے گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر موقف دہرا دیا کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ آپ (فضل الرحمان)کی سیاسی خدمات اور مفاہمانہ انداز ہمیشہ قابل ستائش رہا۔ وفاقی حکومت نے ہر ممکن کوشش ہے کہ معاملات سیاسی انداز میں حل ہوں۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ضد اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے دوری سے مسائل پیدا ہوئے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی استحکام چاہتے ہیں، ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سر توڑ محنت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے مولانا کو پیغام میں کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ معاملات کو سلجھانے کیلیے کے پی حکومت اور اپوزیشن معاملے کو سنجیدہ لے۔ اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ اس وزیراعظم کے رابطے سے قبل حکومتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی جس میں جے یو آئی سربراہ نے مذاکراتی ڈیڈلاک کے خاتمے اور تنازعات کو طے کرانے کیلیے اپنا کردار ادا کی بھی حامی بھری تھی۔علاوہ ازیں جمعیت علما اسلام کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کی۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، شرکا اجلاس نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تمام پہلوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔مولانا فضل الرحمان نے شرکا اجلاس سے حالیہ دنوں میں اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات پر مشاورت کی۔شرکا اجلاس نے موجودہ سیاسی صورتحال کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
گورنر راج
