Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر کا کیس، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی
    • سپریم کورٹ نے ٹیکس سے متعلق 400 مقدمات ایک ماہ میں نمٹا دیے
    • حوثیوں کیخلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق امریکی اخبار کی خبر
    • لاہور:محنت کش پھیری لگا کر چھتریاں فروخت کر رہا ہے۔
    • صوابی لانگ مارچ میں شرکت کیلئے سندھ کے عوام گھروں سے نکلیں: حلیم عادل شیخ
    • بحرینی وزیر خارجہ کابحرین کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستانی برادری کے قابل قدر کردار کا اعتراف
    • وفاق نے پنجاب میں پائیدار ترقی اہداف پروگرام کی کارکردگی رپورٹ طلب کر لی
    • واسا کی اربوں مالیتی کمرشل اراضی کوڑیوں کے بھاو لیز پر الاٹ
    • ستمبر’ کارکنوں کی ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر، سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد اضافہ
    • سابق صدر فاروق خان لغاری کی 16ویں برسی 20اکتوبر کو منائی جائیگی
    • چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ملزم گرفتار
    • قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی
    • حافظ نعیم الرحمن کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان
    • پشاور:جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان بنوقابل پروگرام سے فارغ التحصیل طلباء کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔
    • اسلام آباد:وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ سے سویڈن کی سفیر الگزینڈرہ برگ ملاقات کررہی ہیں۔
    • ملک کے مختلیف شہروں میں ائیندہ 4 روز بارش کا امکان
    • سونا مہنگا’ایکسپورٹ لائسنس میں مشکلات زیور بنانیوالی 40 فیصد ورکشاپس بند کراچی (بزنس رپورٹر) سونے کی قیمتوں میں باقی صفحہ6بقیہ نمبر 24 اضافے اور ایکسپورٹ لائسنس کے حصول میں مشکلات کے باعث پاکستان کی جیولری انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوگئی، زیورات تیار کرنے والی تقریباً 40فیصد ورکشاپس بند ہوگئے، جس سے ہزاروں کاریگروں اور کاروبار سے وابستہ افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پاکستانی سلور جیولری کی مانگ موجود ہونے کے باوجود مینوفیکچررز کو برآمدات کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔جیولری کے شعبے سے وابستہ ،آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد نے مطالبہ کیا ہے کہ سلور جیولری مینوفیکچررز کو آسان دستاویزی طریق کار کے تحت ایکسپورٹ لائسنس جاری کیے جائیں تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد بھی براہِ راست عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔
    • محکمہ اوقاف ملتان سرکل 2 ‘سرکاری رقوم بروقت بینک میں جمع کرا دی گئیں
    • آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدے کے باوجود پاکستان سٹاک ایکس چینج میں رواں ہفتے کا اختتام منفی زون میں ہوا
    • میزان بینک نے ”گھر ہو تو اپنا” پروگرام کے تحت 49 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کرلی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    خیبر پختونخواگورنر راج یا ایمرجنسی فیصلہ آج اعلی سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس طلب

    By Khabrain Newsاکتوبر 10, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر آج اعلیٰ سطح کے
    اجلاس کا امکان ہے، وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس کے بعد شہباز شریف نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے آج حتمی فیصلہ بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز ہے۔ صوبے میں اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی بھی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 232سے 234تک غوروخوض کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری کا امکان ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا، ایمرجنسی 12اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔نجی ٹی وی کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات، دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوں گے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس معمول کی بات ہے، کسی ایک اجلاس کو خاص طور پر مینشن کرنا کہ کوئی حتمی فیصلہ ہورہا ہے اس کی تصدیق نہیں کروں گا، کوئی فیصلہ کن اجلاس کی بات ابھی حتمی نہیں ،نہ کوئی اطلاع ہے، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق جو غور حکومت نے کرنا تھا وہ پورا ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ ایمرجنسی لگانے یا نہ لگانے میں کیا کردار ادا کرتی ہے، وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہے، صوبائی حکومت کیلئے بہتر ہے کہ تعاون کرے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حصہ لے، صوبائی حکومت الگ تھلگ رہتی ہے تو دوسرا آپشن ایمرجنسی کا نفاذ ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ پورے صوبے کے لیے ہے 12 اضلاع کیلئے نہیں، 12اضلاع جو شدید متاثر ہیں وہاں غیرمعمولی انتظامات وقت کا تقاضا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، اس سے بڑے مارچ اسلام آباد کی طرف لائے گئے اور ان کو روکا گیا، لانگ مارچ کو ڈیل کرنا ہمیں آتا ہے، وفاقی حکومت کی تیاری مکمل ہے، یہ بات غلط ہے کہ حکومت لانگ مارچ روکنے کیلئے ایمرجنسی لگانا چاہتی ہے، اتفاق ہوسکتا ہے کہ ایمرجنسی کی بات لانگ مارچ کے وقت منظر عام پر آئی ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایمرجنسی سے متعلق ہماری صفوں میں کافی عرصے سے گفتگو چل رہی ہے، واقعات بڑھ رہے ہیں، جوان شہید ہورہے ہیں بہت کوشش کی گئی کہ صوبائی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے، ذہنی اور عملی طور پر وفاقی حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ دہشت گردوں کو مزید وقت نہیں دیا جاسکتا، یہ فیصلہ حتمی طور پر ہوچکا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اٹل فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں اتفاق نہیں کہ مولانا کو وہ ثالث مقرر کرنے پر تیار ہے یا نہیں، پی ٹی آئی کو یقین دہانی کروانا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے۔قبل ازیںمسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ اب بند گلی کی طرف بڑھ رہا ہے، بات چیت کا آپشن قابل عمل نہ رہے تو دوسرا آپشن یہی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جب اس پر سوچا گیا تو وزیراعظم اور صدر نے ایک آپشن مذاکرات کا دیکھا، حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور مذاکرات شروع ہوئے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب بات نہیں بن سکی تو دوسری بار وزیراعظم نے لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی آفر کی، مذاکرات کا آپشن قابل عمل نہیں رہتا تو دوسرا آپشن تو پھر وہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ ہونے کی بات کریں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس کمٹمنٹ پر نہیں آتی تو لانگ مارچ اسلام آباد تک رکھیں نہ رکھیں فرق نہیں پڑے گا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف کا جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نجی ٹی وی حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے رابطہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعد رات گئے کیا گیا۔اس موقع پر دونوں رہنماوں کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کی صورتحال خصوصاً پی ٹی آئی لانگ مارچ بارے گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر موقف دہرا دیا کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ آپ (فضل الرحمان)کی سیاسی خدمات اور مفاہمانہ انداز ہمیشہ قابل ستائش رہا۔ وفاقی حکومت نے ہر ممکن کوشش ہے کہ معاملات سیاسی انداز میں حل ہوں۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ضد اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے دوری سے مسائل پیدا ہوئے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی استحکام چاہتے ہیں، ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سر توڑ محنت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے مولانا کو پیغام میں کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ معاملات کو سلجھانے کیلیے کے پی حکومت اور اپوزیشن معاملے کو سنجیدہ لے۔ اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ اس وزیراعظم کے رابطے سے قبل حکومتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی جس میں جے یو آئی سربراہ نے مذاکراتی ڈیڈلاک کے خاتمے اور تنازعات کو طے کرانے کیلیے اپنا کردار ادا کی بھی حامی بھری تھی۔علاوہ ازیں جمعیت علما اسلام کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کی۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، شرکا اجلاس نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تمام پہلوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔مولانا فضل الرحمان نے شرکا اجلاس سے حالیہ دنوں میں اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات پر مشاورت کی۔شرکا اجلاس نے موجودہ سیاسی صورتحال کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    گورنر راج

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر کا کیس، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

      سپریم کورٹ نے ٹیکس سے متعلق 400 مقدمات ایک ماہ میں نمٹا دیے

      حوثیوں کیخلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق امریکی اخبار کی خبر

      تازہ ترین

      ٹرمپ کے بجائے جج کو نوبیل امن انعام’ امریکا نے عالمی عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

      سائبیرین لیبارٹری واقعے پر جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، ماریہ زخارووا

      پٹرول 66 پیسے سستا ڈیزل52 پیسے مہنگا

      خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا:بلاول بھٹو

      سونے کی قیمت میں 6 ہزار روپے کا بڑا اضافہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.