اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے ٹیکس
سے متعلق 400 مقدمات ایک ماہ میں نمٹا دئیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے سائلین کی سہولت کیلئے سپریم کورٹ میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے وکلاء کے ساتھ خصوصی نشست کی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ جلد سماعت کی تمام درخواستیں سماعت کیلئے فکس کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری رجسٹرار دیتا ہے،جلد سماعت کی درخواست کے ساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے متعلقہ 400 مقدمات کا ایک ماہ میں فیصلہ کیا ہے، ٹیکس سے متعلقہ سال 2024 کے صرف 23 کیسز رہ گئے ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں اب ٹیکس سے متعلقہ سال 2025 اور 2026 کے مقدمات پینڈنگ ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اب فکسیشن پالیسی کے برعکس کیس نہیں لگ سکتا، فکسیشن پالیسی کے تحت ہی مقدمات کی سماعت مقرر ہوتی ہے،کسی بینچ میں آئوٹ آف ٹرن کوئی کیس لگ جائے تو جج رجسٹرار کو بلا لیتا ہے۔
