لاہور (خبر نگار) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) لاہور کے زون ٹو میں مبینہ طور پر سرکاری ایندھن کے نام پر لاکھوں روپے کی خوردبرد کا سنگین معاملہ سامنے آگیا جبکہ دوسری جانب پارکس کی حالت زار، گھاس کی کٹائی میں تعطل اور مالیوں کی مبینہ عدم دستیابی نے انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق زون ٹو میں 14 گاڑیوں کے نام پر ماہانہ7 ہزار لٹر سے زائد پٹرول و ڈیزل استعمال ظاہر کیے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جس پر ماہانہ28 سے30 لاکھ روپے تک خرچ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ مبینہ طور پر16 سے 18 لاکھ روپے کی خوردبرد کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم ان اعدادوشمار اور الزامات کی آزادانہ تصدیق اور باقاعدہ آڈٹ تاحال سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کا الزام ہے کہ بعض گاڑیاں ناکارہ یا چلنے کے قابل نہ ہونے کے باوجود ان کے نام پر ایندھن جاری کرایا جارہا ہے جبکہ بعض گاڑیوں کے پٹرول پمپ پر نہ جانے کے باوجود ایندھن کے حصول کا ریکارڈ مرتب ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ مبینہ طور پر زون انتظامیہ اور پمپ انتظامیہ کے درمیان کمیشن کی بنیاد پر معاملات طے کرکے ایندھن کے بجائے نقد رقوم وصول کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض مواقع پر تیل کارڈ ریاست نامی مالی کے حوالے کیے جانے کا بھی دعویٰ ہے جس کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق مختلف گاڑیوں کے نام پر روزانہ15 سے25 لیٹر تک ایندھن درج کیے جانے کا دعوی ہے۔ ان میں رجسٹریشن نمبرز LEJ-1586، LEJ-1582، LEJ-1536، LEJ-1075، LEJ-1096، LEJ-1059، LEJ-1657 اور LHO-6308 سمیت دیگر گاڑیاں شامل بتائی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ گاڑیوں کی روزانہ نقل و حرکت، مائلیج، لاگ بکس، پٹرول پمپ کی رسیدوں اور جاری کردہ ایندھن کا باقاعدہ تقابلی آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز زون ٹو کے ہارٹیکلچر سپروائزرز نے پارکس میں گھاس کی کٹائی اور دیگر ضروری کاموں کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر شاہ نواز وٹو سے ایندھن کی فراہمی کا مطالبہ کیا تو مبینہ طور پر انکار کر دیا گیا۔ دوسری جانب مالی ریاست کے ذریعے ڈرائیوروں کو ہدایت دیئے جانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے کہ ایندھن کی بروقت فراہمی سے متعلق پوچھے جانے پر مثبت جواب دیا جائے جبکہ حقائق بتانے والوں کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کا مبینہ خوف بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ان الزامات کی تصدیق متعلقہ افسران اور ملازمین کے موقف اور ریکارڈ کی جانچ سے ہی ممکن ہے۔ حکومتی کفایت شعاری کے دعوے اور زمینی حقائق میں تضاد؟ ایک طرف حکومت پنجاب سرکاری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی ہدایات دے رہی ہے، دوسری جانب اگر ناکارہ گاڑیوں کے نام پر ایندھن جاری ہونے اور پمپ پر گاڑیاں لائے بغیر رقوم کی وصولی کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ سرکاری وسائل کی نگرانی پر ایک بڑا سوال ہوگا۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ لاکھوں روپے کے مبینہ ماہانہ اخراجات کے باوجود پارکس میں گھاس کی کٹائی اور دیکھ بھال کے لیے ایندھن کیوں دستیاب نہیں؟ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایچ اے کے اعلیٰ حکام معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے زون ٹو کی تمام متعلقہ گاڑیوں کی فزیکل ویریفکیشن’ گزشتہ کئی ماہ کے فیول ریکارڈ، لاگ بکس، پٹرول پمپ کی رسیدوں، فیول کارڈز اور گاڑیوں کی مائلیج کا فرانزک آڈٹ کرائیں۔ ذمہ دار افسران، ڈرائیوروں اور متعلقہ پمپ انتظامیہ سے باقاعدہ انکوائری کی جائے اور اگر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد ملیں تو ملوث افراد کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے۔
