گوجر خان(بیورو رپورٹ) تحصیل میں محکمہ مال کے انتظامی ڈھانچے اور پٹواریوں کی دستیابی کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحصیل گوجر خان کے 89 پٹوار سرکلز کے مقابلے میں صرف 32 سے 33 پٹواری فرائض انجام دے رہے ہیں،جبکہ بعض پٹواریوں کی جانب سے لیو پری ریٹائرمنٹ () لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو عملے کی کمی محکمہ مال کے لیے ایک بڑا انتظامی چیلنج بن سکتی ہے اور اس کے باعث عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔محکمہ مال سے وابستہ بعض اہلکاروں کے مطابق ماضی میں پٹواری محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں،تاہم موجودہ نظام میں کام کے دبا،شکایات اور محکمانہ کارروائیوں کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسے افراد بھی شکایات درج کرا دیتے ہیں جن کا متعلقہ موضع یا زمین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،جبکہ بعض معاملات میں مکمل حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔اہلکاروں کا مطالبہ ہے کہ ہر شکایت کا نوٹس لیا جائے،تاہم کسی بھی کارروائی سے قبل الزام کی نوعیت،دستیاب شواہد اور متعلقہ فریق کا مقف جانچنا ضروری ہے،تاکہ احتساب کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے برسوں تک محنت، دیانت داری اور عزت کے ساتھ سرکاری فرائض انجام دیے،لیکن موجودہ حالات میں انہیں ملازمت جاری رکھنے کے حوالے سے مختلف خدشات کا سامنا ہے۔ان کے مطابق دو سے تین پٹواریوں کی جانب سے ایل پی آر لینے کی اطلاعات ہیں،جبکہ بعض دیگر ملازمین بھی موجودہ صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر ملازمت چھوڑنے یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے پر غور کر رہے ہیں۔پٹواریوں کا مقف ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم سے غلطی سرزد ہو تو قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے،تاہم محض الزام کی بنیاد پر کسی ملازم کی برسوں کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ملازمت کے آخری مرحلے میں یہ خدشہ بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے کہ کہیں کوئی جھوٹا یا بدنیتی پر مبنی الزام ان کی پوری سروس کے دوران قائم ہونے والی نیک نامی کو متاثر نہ کر دے۔اہلکاروں کے مطابق جب تحصیل میں 89 پٹوار سرکلز موجود ہیں تو ان کے مثر انتظام کے لیے مناسب تعداد میں پٹواریوں کی تعیناتی بھی ناگزیر ہے۔اگر صرف 32 یا 33 اہلکار تمام سرکلز کا کام سنبھال رہے ہیں تو زمینوں کے ریکارڈ کی دیکھ بھال،انتقالات،دفتری امور اور عوامی درخواستوں کو بروقت نمٹانا مشکل ہو سکتا ہے۔اس صورت حال میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ خالی آسامیوں کو پر کرنے،کام کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کیا اقدامات کر رہے ہیں۔دوسری جانب محکمہ مال سے متعلق عوامی شکایات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔شہریوں کو زمینوں کے ریکارڈ،انتقالات اور دیگر معاملات میں بروقت ریلیف ملنا چاہیے،جبکہ بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔اسی طرح ملازمین کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور انہیں اپنا مقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا بھی ایک منصفانہ نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔بعض اہلکاروں کی جانب سے مختلف سرکاری امور کے سلسلے میں مبینہ طور پر رشوت طلب کیے جانے یا دینے سے متعلق شکایات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مقف سامنے آنا ضروری ہے۔اگر کہیں رشوت یا بدعنوانی کے شواہد موجود ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،تاکہ نہ عوام کا استحصال ہو اور نہ ہی کسی بے قصور ملازم کو بلاجواز نشانہ بنایا جائے۔عوامی حلقوں اور محکمہ مال سے وابستہ ملازمین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تحصیل گوجر خان میں پٹوار سرکلز کے مقابلے میں عملے کی کمی کا فوری جائزہ لیا جائے، خالی آسامیوں اور موجودہ تعیناتیوں کی صورت حال واضح کی جائے، شکایات کی تحقیقات کے لیے شفاف طریق کار اپنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے۔عوامی حلقوں نیحکومت پنجاب اور محکمہ مال کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل گوجر خان میں پٹوار سرکلز کے مقابلے میں پٹواریوں کی مبینہ کمی،ایل پی آر لینے والے اہلکاروں کی صورت حال اور محکمہ مال کو درپیش انتظامی مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے۔متعلقہ حکام عملے کی دستیابی،خالی آسامیوں اور کام کی تقسیم کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کریں،تاکہ عوام کو زمینوں کے ریکارڈ،انتقالات اور دیگر سرکاری امور کی انجام دہی میں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔عوامی حلقوں کے مطابق شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات،بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور سرکاری ملازمین کو منصفانہ طریق کار کے تحت اپنا مقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے،تاکہ محکمہ مال میں عوامی اعتماد بحال ہو اور انتظامی امور بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں۔مناسب افرادی قوت، شفاف احتساب،رشوت کے خلاف مثر کارروائی اور سرکاری ملازمین کے لیے باوقار ماحول کی فراہمی عوام، محکمہ مال اور حکومت،تینوں کے مفاد میں ہے۔اگر تجربہ کار اہلکار بددلی کا شکار ہو کر ملازمت چھوڑنے لگیں اور شہریوں کو اپنے جائز کاموں کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے منفی اثرات پورے انتظامی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے تحصیل گوجر خان میں محکمہ مال کی افرادی قوت کی کمی،عوامی شکایات اور ملازمین کے تحفظات کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کرتے ہیں؟گوجرخان کے بازار تجاوزات کے نرغے میں راستے سکڑ گئے شہریوں کا پیدل چلنا بھی محال
بریکنگ نیوز
- اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سعودی عرب کے نامزد سفیر رجع نامی البدغامی اور فرانس کے نامزد سفیر جین نویل سے اسناد وصول کررہے ہیں۔
- یورپی کمشنر کی غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مستقل نہیں رہے گی: بلاول بھٹو
- چکی محلہ ٹیکسلا ،نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق
- چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر سید مرتضی حسن اندرابی ،پی اے آر سی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر میاں امیر محمد ،ہلال امتیاز کے اعزاز میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں ۔
- راولپنڈی،5 افرادگرفتار، چرس، شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
- ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری
- پی اے آر سی کیجانب سے بانی چیئرمین کے اعزاز میں تعزیتی اجلاس
- حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہکا تشکیل کردہ کمیٹی پر اعتماد کا اظہار
- جنڈ اٹک پولیس کی کارروائی منشیات فروشی میں ملوث 03 ملزمان گرفتار
- تحصیل میں محکمہ مال کے انتظامی ڈھانچے اور پٹواریوں کی دستیابی بارے سوالات
- بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے نئی منظوری درکار نہیں، نجکاری ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی میں جواب جمع کرادیا
- امریکی کسان کا 3 ہزار 156 پانڈ وزنی پمپکن اگانے کا عالمی ریکارڈ بننے کا امکان
- انڈونیشین پائلٹ کی شہریت کے باعث اسرائیل نے ایتھوپین ائیرلائنزکے طیارے کو واپس بھیج دیا
- اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال کا چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ گروپ فوٹو۔
- دنیا سے جوڑیں احسن اقبال نے 100 ارب ڈالر برآمدات کا عملی راستہ پیش کر دیا
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن کے طور پر نافذ کی: اعظم ندیر تارڑ
- اے آئی ماڈلز خود کی نقل بنا کر انٹرنیٹ پر تباہی پھیلانے کے قریب پہنچ گئے، انتھروپک کی وارننگ
- وارث خان پولیس کی کارروائی،قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب ملزم گرفتار
- پنشن اور مراعات نہ دینے کیخلاف سابق جج جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری کی درخواست خارج
