لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل بینچ نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کا طریقہ کار غلط قرار دیتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ، تحریری فیصلے میں عدالت نے پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ2012 کی دفعہ 49(2) کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ڈیفالٹ سرچارج کی گنتی ٹیکس کی واجب الادا تاریخ کے بعد سولہویں دن سے شروع ہوگی، نہ کہ اگلے ہی دن سے، پی آر اے نے موقف اپنایا کہ کمپنی نے وصول کردہ سیلز ٹیکس مقررہ تاریخوں کے بعد جمع کرایا، شوکاز نوٹس کے بعد 12 ستمبر 2019 کو اسسمنٹ آرڈر کے ذریعے 24 لاکھ 86 ہزار 219 روپے کا ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا گیا، کمشنر (اپیلز)نے 3 دسمبر 2019 کو یہ سرچارج برقرار رکھا، البتہ ادائیگی کا دن حساب سے نکالنے کی ہدایت کی، اپیلٹ ٹربیونل نے 24 نومبر 2022 کو کمپنی کی اپیل خارج کر دی، جس کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا،کمپنی وکیل اعجاز چدھڑ نے موقف اپنایا کہ دفعہ 49(2) میں "واجب الادا تاریخ کے بعد سولہویں دن” کے الفاظ ہیں، جبکہ محکمہ نے اسے "ٹیکس مدت کے اختتام کے بعد” یا "اگلے دن” کے معنوں میں لیا،اگر واجب الادا تاریخ 15 نومبر ہو تو سولہواں دن یکم دسمبر بنتا ہے، مگر محکمہ نے 16 نومبر سے سرچارج لگایا، رول 11(2) صرف ادائیگی اور ریٹرن کی ڈیڈ لائن بتاتا ہے اور سرچارج کی گنتی پر اثر انداز نہیں ہوتا،پی آر اے کے وکیل سہیل زاہد بٹ نے موقف اپنایا کہ ٹیکس 15 تاریخ تک جمع کرانا لازم ہے اور اس کے بعد ٹیکس دہندہ ڈیفالٹر ہو جاتا ہے، اس لیے سرچارج اگلے دن سے لگنا چاہیے،عدالت نے قرار دیا کہ قانون میںواجب الادا تاریخ اورٹیکس مدت کی الگ الگ تعریفیں موجود ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
