اسلام آباد (عادل عباسی) پاکستان تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، لانگ مارچ کی ناکامی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایک نئے سیاسی امتحان کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار، سیاسی کمیٹی کے کردار، اپوزیشن قیادت کی کارکردگی اور مستقبل کی احتجاجی حکمت عملی پر اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے حالیہ اجلاسوں میں بعض ارکان نے موجودہ سیاسی ڈھانچے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی کمیٹی کی تشکیل نو، اجتماعی فیصلہ سازی اور ناکام لانگ مارچ کے اسباب کا جائزہ لینے کے مطالبات کیے ہیں۔ پارٹی کے اندر اختلافات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کور کمیٹی کے طویل اجلاسوں کے باوجود مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق رائے سامنے نہیں آسکا۔ اجلاسوں میں بعض ارکان نے سوال اٹھایا کہ لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے، مختلف اضلاع میں انتظامات اور مرکزی قیادت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مؤثر منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی۔ بعض ارکان نے سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھائے جبکہ دیگر نے ناکامی کی ذمہ داری صرف ایک شخصیت پر ڈالنے کے بجائے پارٹی کی مجموعی فیصلہ سازی کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ تحریک انصاف کے اندر ایک اہم اختلاف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے کردار کے حوالے سے بھی سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے اپوزیشن قیادت کی کارکردگی پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے محمود خان اچکزئی کی تبدیلی کے امکانات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں بانی تحریک انصاف عمران خان نے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے اور پارٹی ان کے فیصلے کی پابند ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی بھی ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات کے مقام اور مذاکرات کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ کے آئین روم میں مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملاقات کے مقام کے بجائے قومی معاملات پر بات چیت کے ایجنڈے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دینے کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجوہات عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی نہ دینا اور خیبرپختونخوا کی صوبائی خودمختاری سے متعلق اختلافات تھے۔ انہوں نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی غیرآئینی قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اب سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے آئندہ دنوں میں کل جماعتی کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال، آئینی معاملات اور ملک میں جاری سیاسی کشیدگی پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے لیے اصل امتحان صرف حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے نظام پر اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ ایک جانب پارٹی کی پارلیمانی قیادت سیاسی مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب احتجاجی حکمت عملی برقرار رکھنے کا مؤقف بھی موجود ہے۔ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کے سامنے تین اہم سیاسی سوالات ہیں: کیا پارٹی اپنی سیاسی کمیٹی اور فیصلہ سازی کے نظام میں تبدیلی کرے گی، کیا محمود خان اچکزئی کی قیادت میں حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن ہوں گے اور کیا خیبرپختونخوا کی صورتحال کے بعد تحریک انصاف ایک نئی منظم احتجاجی تحریک شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
