اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی )وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے، دیرینہ تجاوزات کے خاتمے، مبینہ بے ضابطگیوں سے نمٹنے اور قیمتی قومی و عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے جامع اور بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔*جاری انسدادِ تجاوزات اور اراضی واگزاری آپریشنز کے دوران سی ڈی اے نے سرکاری اراضی واگزار کرائی ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریبا 1,300 ارب روپے (1.3 ٹریلین روپے) بتائی گئی ہے۔ یہ اقدامات قومی دولت کے تحفظ، قانون کی بالادستی، اسلام آباد میں منصوبہ بندی کے مطابق شہری ترقی کی بحالی اور عوامی املاک کو شہریوں کے مفاد میں محفوظ بنانے کے لیے سی ڈی اے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔**ان اقدامات کے تحت وزیراعظم ہاس کے قریب تقریبا 600 ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ یہ کارروائی تزویراتی اہمیت کی حامل سرکاری اراضی کے تحفظ اور اس اصول کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے کہ ریاستی املاک کو قانون کے مطابق محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ اس آپریشن سے دیرینہ تجاوزات کے خاتمے اور سرکاری اثاثوں کو ان کے مقررہ مقاصد کے لیے دستیاب رکھنے میں زمین کے ریکارڈ کی منظم جانچ پڑتال اور مثر قانونی عمل درآمد کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔**سیکٹر E-12 میں تجاوزات مافیا سے 1,135 کنال اراضی واگزار کرانے کے بعد کئی دہائیوں سے تعطل کا شکار ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے اور اراضی کی واگزاری سے سیکٹر کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقیاتی کاموں میں پیش رفت متوقع ہے، جبکہ ان دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی جو ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں حائل رہی ہیں۔ ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی ان رہائشیوں اور الاٹیز کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جو طویل عرصے سے اس سیکٹر میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔ یہ اقدام زمین سے متعلق دیرینہ مسائل حل کرنے اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق منظم شہری ترقی کو آگے بڑھانے کے سی ڈی اے کے وسیع تر مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔**سیکٹر C-17 میں 116.8 کنال اراضی پر قائم غیر قانونی تجارتی تعمیرات مسمار کر دی گئی ہیں۔ یہ کارروائی سرکاری اراضی واگزار کرانے اور اس کے غیر مجاز تجارتی استعمال کی روک تھام کے لیے سی ڈی اے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ اس آپریشن کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، سرکاری اراضی کے مقررہ استعمال کی بحالی اور مستقبل میں مزید تجاوزات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔**دوسری جانب ملپور میں مری روڈ کے ساتھ واقع پانچ پلازوں کو خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ 108 کنال اراضی واگزار کرانے کا عمل جاری ہے۔ یہ کارروائیاں سی ڈی اے کی مہم کے وسیع جغرافیائی دائرہ کار اور ان تجاوزات کے خاتمے پر توجہ کی عکاسی کرتی ہیں جو منصوبہ بندی کے مطابق ترقیاتی عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں اور سرکاری املاک کے منظم استعمال کو متاثر کرتی ہیں۔*ان کارروائیوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت کے لیے مسلسل اور جامع ابتدائی کام کیا گیا، جس میں تفصیلی سروے، ریونیو ریکارڈ کی تصدیق، ملکیتی دستاویزات کی جانچ پڑتال، قانونی پہلوں کا جائزہ اور فیلڈ میں مسلسل عمل درآمد شامل ہے۔ سرکاری اراضی کی واگزاری ایک پیچیدہ عمل ہے، جس میں ہر معاملے کا متعلقہ ریکارڈ اور قابلِ اطلاق قانونی تقاضوں کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے، تاکہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق انجام دی جا سکیں۔*شہریوں نے سرکاری اراضی کی واگزاری اور طویل عرصے سے منتظر ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے، عوامی اثاثوں کے تحفظ اور اراضی کو اس کے مقررہ استعمال کے لیے بحال کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ سیکٹر E-12 میں پیش رفت اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں جاری کارروائیوں نے منظم ترقی، مثر اراضی انتظام اور وفاقی دارالحکومت کے عوامی مقامات کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔*شہریوں کے لیے ان اقدامات کی اہمیت محض اراضی کی واگزاری تک محدود نہیں، بلکہ شفاف انتظامیہ، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی عمل میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد کی طویل مدتی ترقی میں معاون ثابت ہونے کے لیے ضروری ہیں۔*وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں سی ڈی اے اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک، منظم اور ماحول دوست شہر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اتھارٹی کی مسلسل توجہ سرکاری اراضی کی قانون کے مطابق واگزاری، مثر عمل درآمد، ادارہ جاتی احتساب، مستقبل میں تجاوزات کی روک تھام اور منظور شدہ منصوبوں کے مطابق ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔*ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد عوامی اثاثوں کا تحفظ، شہریوں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسلام آباد کی اراضی اور وسائل موجودہ شہریوں اور آنے والی نسلوں کے مفادات کے لیے استعمال ہوں۔
بریکنگ نیوز
- اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف پاکستان چائنا فرینڈشپ ہاسپٹل کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کررہے ہیں
- اسسٹنٹ کمشنر غازی کی زیرِ نگرانی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری
- اٹک:منشیات فروشی اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
- خودمختار مصنوعی ذہانت کیلئے شہریوں کی حکمتِ عملی ضروری ہے، عامر ابراہیم
- اے آئی پالیسی پر عملدرآمد میں تاخیر، ڈیٹا سینٹرز تاحال قائم نہ ہو سکے
- اے این ایف کا مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈان
- علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ناصر محمود بسر کے79ویں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔
- پاکستان اور چین کے درمیان گرین چینل فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط
- آراے بازار پولیس کی کارروائی،ڈینگی ٹیم سے مزاحمت کرنے والا شخص گرفتار
- ٹیلی نار مسلسل تیسرے سال پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی میں نمبر 1 قرار
- گندگی کے ڈھیر اور بند نالیاں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے
- تین مختلف ٹریفک حادثات میں دو شخص جاں بحق، کمسن بچے سمیت 3افراد زخمی
- ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات
- بیرونی کمپنیوں کی خدمات پاکستانی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ قرار
- جرائم کی روک تھام میں کوتاہی برتنے کے حوالے سے ضلع چکوال دیگر پندرہ اضلاع کی فہرست میں شامل
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 4افراد کو حراست میں لے کر شراب اوراسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کر لیا
- القائم مل کے قریب تیز رفتار ہائی ایس اور کیری وین میں تصادم
- موٹر سائیکل کھائی میں گرنےسے 55 سالہ شخص جاں بحق
- تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
- ذاتی تنازعہ پر شہری کو قتل کرنے والے مجرم کو معزز عدالت نے موت کی سزا سنا دی
