اسلام آباد / دوحہ،(نامہ نگار خصوصی)ممالک کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے شہری مصنوعی ذہانت (AI) کی تیاری اور اس کی سمت متعین کرنے میں بامعنی کردار ادا کریں، بجائے اس کے کہ وہ صرف دوسرے ممالک میں تیار ہونے والی ٹیکنالوجی کے صارف بن کر رہ جائیں۔ یہ بات جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے قطر کے شہر دوحہ میں منعقدہ سی این این گلوبل پرسپیکٹیوز کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خودمختاری کا تصور محض ٹیکنالوجی کی ملکیت تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عوام کو اس ذہانت کی تشکیل میں حصہ لینے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہییں جو تیزی سے معیشت، اداروں اور روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔**دی سوورن اسٹیک** کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عامر ابراہیم نے مصنوعی ذہانت میں خودمختاری کے روایتی تصور پر روشنی ڈالی، جس میں عموما ڈیٹا کو ملکی حدود میں محفوظ رکھنے، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور مقامی اے آئی ماڈلز پر توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صلاحیتیں اہم ہیں، تاہم حقیقی خودمختاری کے لیے شہریوں کی مصنوعی ذہانت کی تخلیق اور اس کے استعمال کے طریق کار کی تشکیل میں شرکت بھی ضروری ہے۔عامر ابراہیم نے کہا، مصنوعی ذہانت میں ہم انسان کی شمولیت پر مبنی طریق کار کی بات کرتے ہیں، لیکن ملکی سطح پر ہمیں شہریوں کی شمولیت پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو اس ٹیکنالوجی کی تشکیل میں بامعنی کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کے متعارف کردہ مصنوعی ذہانت کے پانچ سطحی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے عامر ابراہیم نے کہا کہ مختلف ممالک کو توانائی کے وسائل، چِپس، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، اے آئی ماڈلز اور ایپلی کیشنز کی تیاری میں مختلف نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ان تمام شعبوں میں الگ الگ مکمل صلاحیتیں پیدا کرنا ممکن نہیں بھی ہو سکتا، تاہم مقامی کمپیوٹنگ صلاحیت، تکنیکی مہارت اور مصنوعی ذہانت کی تیاری کی استعداد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ بین الاقوامی شراکت داریاں ان کمیوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن ممالک کو اپنے اے آئی ماڈلز، ایپلی کیشنز اور دانشورانہ ملکیت تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی ملک کے مستقبل کی تشکیل سے متعلق سوچنے اور فیصلے کرنے کا عمل دوسروں کے سپرد کر دیا جائے۔ پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے محض استعمال سے آگے بڑھ کر اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایسے نظام تیار کرنا ضروری ہیں جو مقامی زبانوں، ثقافتی تناظر اور معاشی ضروریات کی عکاسی کریں، جبکہ پاکستانی محققین، ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کو عالمی اے آئی معیشت میں حصہ لینے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔جاز ورلڈ میں اس مقصد کے تحت اپنے ڈیجیٹل نظام میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی حکومت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے تاکہ مقامی ضروریات سے ہم آہنگ اے آئی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کا مقصد ایک ایسا مقامی اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے جس میں صنعت، تحقیق اور سرکاری ادارے مشترکہ کردار ادا کریں۔عامر ابراہیم نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حقیقی خودمختاری کے لیے اعتماد کو بھی بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کو ملکی حدود میں محفوظ رکھنا اور اس کی سیکیورٹی یقینی بنانا اہم ہے، لیکن صرف ڈیٹا کو ملک کے اندر رکھنے سے یہ ضمانت نہیں ملتی کہ مصنوعی ذہانت قومی مفادات کے مطابق کام کرے گی۔ اعتماد کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ڈیٹا کس طرح استعمال ہوتا ہے، اے آئی نظاموں کی تشکیل میں کن نقطہ ہائے نظر کو شامل کیا جاتا ہے اور ان کے نتائج کس حد تک قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا، ٹیکنالوجی آپ کو صلاحیت فراہم کرتی ہے، شفافیت اس صلاحیت کو قابلِ اعتبار بناتی ہے، لیکن بالآخر اعتماد ہی یہ طے کرتا ہے کہ آیا آپ نے اس میز پر اپنی جگہ برقرار رکھنے کا حق حاصل کیا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ تیاری اور استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔عامر ابراہیم نے مصنوعی ذہانت میں خودمختاری کو اس بڑھتے ہوئے فرق سے بھی جوڑا جو ان افراد کے درمیان پیدا ہو رہا ہے جو اے آئی کے ذریعے سیکھنے، کام کرنے اور نئی تخلیقات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو ان مواقع سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ٹولز، مہارتوں اور انفراسٹرکچر تک وسیع تر رسائی کے بغیر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اپنی اے آئی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے درکار افرادی قوت اور جدت کے مواقع محدود ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسابقتی مقامی اے آئی ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے زیادہ سے زیادہ شہریوں کو محض صارفین کے بجائے تخلیق کار، ڈویلپرز اور کاروباری افراد بننے کے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہوگا۔سی این این کی اینکر اور نامہ نگار ایلینی گیوکوس کی زیرِ صدارت اس سیشن میں ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور جدت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں ڈیٹا وولٹ کے سی ای او راجیت نندا، میک لارٹی ایسوسی ایٹس میں اے آئی اور کمپیوٹ انفراسٹرکچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلیمان، مال کے بانی عبداللہ ابو شیخ، ای ڈی جی ای گروپ اور ٹیکٹیکا اے آئی سے وابستہ ڈاکٹر چاکی کاسمی، قطر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی صدر راما چکاکی اور کیو اے آئی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر عزت مآب عبداللہ المِسند شامل تھے۔
بریکنگ نیوز
- اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف پاکستان چائنا فرینڈشپ ہاسپٹل کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کررہے ہیں
- اسسٹنٹ کمشنر غازی کی زیرِ نگرانی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری
- اٹک:منشیات فروشی اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
- خودمختار مصنوعی ذہانت کیلئے شہریوں کی حکمتِ عملی ضروری ہے، عامر ابراہیم
- اے آئی پالیسی پر عملدرآمد میں تاخیر، ڈیٹا سینٹرز تاحال قائم نہ ہو سکے
- اے این ایف کا مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈان
- علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ناصر محمود بسر کے79ویں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔
- پاکستان اور چین کے درمیان گرین چینل فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط
- آراے بازار پولیس کی کارروائی،ڈینگی ٹیم سے مزاحمت کرنے والا شخص گرفتار
- ٹیلی نار مسلسل تیسرے سال پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی میں نمبر 1 قرار
- گندگی کے ڈھیر اور بند نالیاں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے
- تین مختلف ٹریفک حادثات میں دو شخص جاں بحق، کمسن بچے سمیت 3افراد زخمی
- ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات
- بیرونی کمپنیوں کی خدمات پاکستانی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ قرار
- جرائم کی روک تھام میں کوتاہی برتنے کے حوالے سے ضلع چکوال دیگر پندرہ اضلاع کی فہرست میں شامل
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 4افراد کو حراست میں لے کر شراب اوراسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کر لیا
- القائم مل کے قریب تیز رفتار ہائی ایس اور کیری وین میں تصادم
- موٹر سائیکل کھائی میں گرنےسے 55 سالہ شخص جاں بحق
- تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
- ذاتی تنازعہ پر شہری کو قتل کرنے والے مجرم کو معزز عدالت نے موت کی سزا سنا دی
