لاہور ( ویب ڈیسک ) اسرائیل کی بائیں بازو کی ”ڈیموکریٹس”پارٹی کے چیئرمین یائر گولان نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عربوں کی قیادت والی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومتی اتحاد بنائیں۔ یائر گولان کا موقف ہے کہ عرب جماعتوں کی حاصل کردہ 19نشستوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا غیر جمہوری عمل ہوگا۔اسرائیلی اخبار ”ہارٹز” میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں یائر گولان نے موقف اختیار کیا کہ ایک جمہوری اسرائیل میں کوئی مشروط شہری نہیں ہوتا۔ منگل کے روز کسی عرب شہری کی جانب سے کاسٹ کیے گئے ووٹ کی اہمیت بالکل اتنی ہی ہے جتنی کسی یہودی شہری کی جانب سے ڈالے گئے ووٹ کی ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ قانونی اور جمہوری انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والا کنیسٹ کا ہر رکن ہمارے سیاسی نظام کا ایک جائز اور قانونی حصہ ہے۔ جو کوئی بھی جمہوریت پر یقین رکھتا ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ صبح اس کے لیے لڑے اور شام کو لاکھوں شہریوں کی آواز کو محض ان کی نسل یا ان کے ناموں کی بنیاد پر کالعدم اور غیر موثر قرار دے دے۔واضح رہے کہ اسرائیل میں یہودی قیادت والی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان میں یائر گولان واحد رہنما ہیں جنہوں نے عرب جماعتوں ”رام(Raam) ”اور ”جوائنٹ لسٹ(Joint List) کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کھلی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے برعکس ”یاشار”پارٹی کے رہنما گادی آئزن کوٹ، ”بیچاد”پارٹی کے نفتالی بینیٹ اور ”یسرائیل بیتنو”پارٹی کے ایویگڈور لیبرمین ان جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں ۔ اسرائیلی انتخابات میں اب تک ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے مطابق نیتن یاہو اتحاد اور اپوزیشن اتحاد میں سے کسی کو بھی حکومت سازی کے لیے درکار 61نشستیں حاصل نہیں ہوئی ہیں جس کے باعث عرب جماعتوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ڈیموکریٹس
