چکوال(بیورو رپورٹ)چکوال کاہرشعبہ میں باواآدم نرالا ہے لیکن چکوال کا شعبہ تعلیم اس سلسلہ میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے کیوںکہ تعلیمی شعبہ میں بہتر کارکردگی دکھانیوالے تعلیمی ادارے یکسر نظراندازاورمنظور نظر تعلیمی اداروں پر نوازشات کی بارش کی جا رہی ہے ، حکومت پنجاب کی طرف سے 80فیصد سے زائد نتائج دکھانے والے کالجز کو صوبائی پاررلیمانی سیکرٹری چوہدری حیدر سلطان نے خصوصی شیلڈز تقسیم کی تھیں، بعض کالج اس معیار پر پورا نہ اترے لیکن اسکے باوجود ایک کالج کو معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجودبار بار تعریفی اسناد دی جا رہی ہیں،ضلع چکوال کے بعض کالجز نے 80فیصد سے زائد نتائج دکھانے کے علاوہ طالبات کے داخلوں میں سوفیصد تک کارکردگی دکھائی ہے ،انکو نظر انداز کرنا کالجز کے سٹاف کی حوصلہ شکنی ہے اور انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے ،ضلع چکوال کے تعلیمی ادارے اس امر کو انتہائی حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک مخصوص کالج کو معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود بار بار ایوارڈز سے نوازنے کا پس منظر کیا ہے اور مذکورہ کالج کوکس کارکردگی کی بنیاد پر آئے روز نوازاجاتا ہے ،ضلع چکوال کے خواتین کالجز کو دیکھا جائے تو بعض کالجز کی ہیڈ پی ایچ ڈی ہیں اور بعض کالجز میں گریڈ 19کی اساتذہ طالبات کو پڑھا رہی ہیں اور دوسری طرف جونیئر کو کالج ہیڈ تعینات کر کے سینئرز کی حق تلفی کی جا رہی ہے ،تعلیمی شعبوں میں جب تک کارکردگی دکھانے والوں کو نظر انداز کر کے منظور نظر لوگوں کو نوازنے کی پالیسی جاری رہیگی اس وقت تک تعلیمی معیار میں بہتری نہیں لائی جا سکتی ہے ، کالجز کے سٹاف کو اعلیٰ کارکردگی دکھانے کے باوجود نظر انداز کر کے بہتری کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے
