ٹیکساس، واشنگٹن، نیو یارک، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدرٹرمپ کے مواخذے کیلئے ڈیموکریٹس کو مزید 13سینیٹرز کی حمایت درکار ہے جبکہ وزیر جنگ کیلئے بھی مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شکست کے بعد پہلا خطاب کیا لیکن نتائج پر بات نہ کی۔ ادھر ڈیموکریٹ ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی ممکنہ تحقیقات کیلئے تیاری شروع کر دی،ایلون مسک کو بھی نوٹس جاری کردیا، جبکہ یورپی جماعتوں نے بھی ٹرمپ سے دوری اختیار کرنا شروع کردی ۔ دوسری طرف امریکی فوج نے ایران پربڑے حملے کی تیاریاں تیز کردی ہیں جبکہ تہران نے کہا ہے کہ حملہ امریکہ کی شکست کا سبب بنے گا۔ علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکرز اور ایک ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کیلئے سینیٹ کے67ووٹ درکار ہوں گے۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس کے پاس 54نشستوں کی صورت میں اگر ان کے تمام ارکان بھی مواخذے کی تحریک میں ووٹ ڈالیں گے تو انہیں مزید 13سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ 100رکنی سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرلینا بذاتِ خود صدر کی برطرفی کیلئے کافی نہیں ہوگا جب کہ مواخذے کیلئے علیحدہ قانونی اور آئینی کارروائی بھی ضروری ہوگی۔سیاسی مبصرین کے نزدیک ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ٹرمپ کیلئے سیاسی مشکلات بڑھا سکتی ہے، خصوصاً اگر ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ دوسری جانب وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول سے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ریپبلکنز ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔دریں اثناء امریکی تاریخ میں پہلی بار 100سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوانِ نمائندگان کیلئے منتخب ہو کر ایک نیا تاریخی سنگِ میل عبور کر چکی ہیں۔ ادھر امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنمائوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کردیا۔ان رہنمائوں نے ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ ایران جنگ اور مہنگائی کو قرار دیا۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انتخابی نتائج پر بات کرنے کے بجائے وائٹ ہائوس میں زیرِ تعمیر شاندار بال روم کی تفصیلات بیان کرنے پر زیادہ توجہ دی۔علاوہ ازیں امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے گزشتہ 2سال کے اقدامات کی ممکنہ تحقیقات کیلئے ابتدائی تیاری شروع کر دی۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق کمیٹی نے نجی کمپنیوں اور امریکی انتظامیہ کو خطوط جاری کرکے متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔خطوط میں ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے جس میں یوکرین میں سٹار شیلڈ سروس کی رفتار سست کرنے کے معاملے سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھنے کا کہا گیا ہے۔امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد مشرقِ وسطی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں مزید شدت نہ آنے کے امکانات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی ۔جمعرات کو ایشیائی مارکیٹس کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ یعنی 1.03 فیصد کمی کے ساتھ 93.65 ڈالر فی بیرل پر کیے گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل کے سودے 1.14 ڈالر یعنی 1.29 فیصد کی کمی کے ساتھ 86.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے۔علاوہ ازیںامریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران پر بڑے حملے کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل کر دی ہیں اور خطے میں مزید فوجی سازوسامان اور عسکری وسائل تعینات کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب قطری ثالث دونوں ممالک کے درمیان ایسا معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے دوبارہ جنگ کا خطرہ ٹل سکے اور براہِ راست مذاکرات بحال ہوں۔ایگزیوس کے مطابقامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کے بجائے ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کریں۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملہ امریکا کو فتح نہیں بلکہ شکست سے دوچار کرے گا۔ ایکس پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حکومت نے لالچ اور تکبر کے زیرِ اثر، اور ایک دھوکے باز حکومت کے مفادات کی خاطر اپنے ملک کو ایران کے خلاف غیر قانونی اور ہولناک جنگ میں جھونک دیا۔دریں اثناء پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکرز اور ایک ٹگ بوٹ میں الگ الگ واقعات میں آگ لگی۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوب میں گزرگاہ سے نکلنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جبکہ دوسرا بڑا آئل ٹینکر آبی گزرگاہ کے مشرقی حصے میں راستے سے نکلتے ہوئے آگ کی لپیٹ میں آگیا۔پاسداران انقلاب کا کہناہے کہ دوسرے ٹینکر کی آگ بجھانے کے لیے قریب آنے والی ٹگ بوٹ میں بھی آگ لگ گئی۔ادھر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کی حمایت جاری رکھنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔یہ انتباہ امریکہ کی جانب سے ایک وسیع مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک پر نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران کے آئل ٹینکرز کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کی معاونت کرتا ہے، جس کے ذریعے ایران تیل کی ترسیل اور تجارت جاری رکھتا ہے۔جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی قیادت ہارنے والے جواری کی طرح بازی چھوڑنے کو تیار نہیں، صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوشل میڈیا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اسرائیل کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ایرانی اسپیکر نے جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لمبی تقریریں کرنے کے بجائے اپنے صدر کو کیوں نہیں سمجھاتے۔علاوہ ازیںامریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 25ہزار سے زائد ڈرون اور اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کا اعلان کردیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ جنگ کا کہنا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کو 78کروڑ 20لاکھ ڈالر مالیت کا نیاجدید سسٹم فراہم کردیا گیا ہے، نئے سسٹم میں جدید بغیر پائلٹ فضائی اور بحری نظام فراہم کیے گئے، 24ہزار سے زائد اینٹی ڈرونز سسٹم اور 1300 سے زیادہ حملہ آور ڈرون پہنچا دئیے۔
ٹرمپ

