راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ پاک فوج کی بھرپور کارروائی سے افغان طالبان کی پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ادھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تربیت اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے۔پاک افغان سرحد کے قریب کرم کے شلوزان سیکٹر میں فتنہ الخوارج کےدہشت گردوں کی تشکیل کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بارڈر پر دہشت گرد تشکیل روکنے پر افغان طالبان نے بلااشتعال فائرنگ شروع کی جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گرد تشکیل کی دراندازی ناکام اور افغان طالبان کی پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچا۔کئی دہشت گردوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ ادھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تربیت اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)سے جاری بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہیڈکوارٹرز ایس ایس جی تربیلا کا دورہ کیا جہاں ان کی آمد پر جی او سی ایس ایس جی نے استقبال کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہدا یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ایس ایس جی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو ایس ایس جی کی خصوصی تربیت، آپریشنل تیاریوں اور مشن کی تکمیل کے لیے استعداد کار پر بریفنگ دی گئی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جدید ترین خصوصی آلات کا معائنہ کیا اور ایس ایس جی کی جنگی مہارت اور خصوصی آپریشنز کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایس ایس جی کے افسران اور جوانوں کے پیشہ ورانہ معیار، بلند حوصلے اور فرض شناسی کو سراہا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تربیت ناگزیر ہے اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی کو بدلتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے مقابلے میں برتری برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ معیار کی تیاری جاری رکھنا ہوگی۔
دراندازی
