اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس منعقدہوا ۔وزیراعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی اب تک کی پیشرفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستحق شہریوں کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔انہوں نے سکیم کے حوالے سے مانیٹرنگ اور کارگر ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کی۔وزیراعظم نے پٹرولیم سبسڈی سکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی۔دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس ہوا، وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن)کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے۔وزیراعظم نے خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔قبل ازیںوزیراعظم محمد شہباز شریف سے سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابیکر سمرا مصطفی علی نے ملاقات کی، وزیراعظم نے معزز مہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، چاہتے ہیں کہ سوڈان موجودہ بحران سے نکل کر ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، زراعت، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی، جی 77 اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر سوڈان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔سوڈان کے وزیر داخلہ نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے مشکل صورتحال میں پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے انسانی اور طبی امداد پر بھی اظہار تشکر کیا۔سوڈانی وزیر داخلہ نے سوڈان میں امن و امان کی کوششوں کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی حمایت کو سراہا جبکہ خطے میں امن اور ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا افتتاح کردیا، وزیراعظم کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دی گئی، انڈرپاس سے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کشمیر چوک منصوبے کے تحت 6ہزار 340نئے درخت لگائے گئے ہیں جبکہ منصوبے کے اطراف کشمیر کی مناسبت سے دو خوبصورت مونومنٹس بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر چوک انڈرپاس منصوبہ صرف 27روز میں مکمل کیا گیا، محسن نقوی کو مبارکباد دیتا ہوں، اپنے سیاسی کیریئر میں اتنی برق رفتاری سے کوئی منصوبہ مکمل ہوتا نہیں دیکھا۔وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ محض 500میٹر کا انڈرپاس نہیں بلکہ 4کلومیٹر سڑکوں کا نیٹ ورک ہے، انڈرپاس منصوبہ ایک ارب 45کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، منصوبے کی تکمیل ایس سی او کانفرنس اور دیگر اہم تقریبات کے لیے ہماری تیاریوں کا عملی ثبوت ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے، منصوبہ تخمینہ لاگت سے تقریباً ڈھائی فیصد کم قیمت پر ای پیڈز کے ذریعے ٹھیکے پر دیا گیا، ملک کی شبانہ روز خدمت کے لیے اسی جذبے کے ساتھ ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگلے سال ایس سی او کانفرنس ہونے جا رہی ہے، اسلام آباد کو خوبصورت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کشمیر چوک انڈرپاس کا منصوبہ معیاری کام کے ساتھ 27 روز میں مکمل کیا گیا، وزیراعظم نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر مکمل تعاون اور حمایت کی۔محسن نقوی نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے، اربوں روپے مالیت کی ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی جائیداد سی ڈی اے کو واپس ملی ہے۔
شہباز شریف
