غزہ میں اسرائیلی فوج کی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں، شمالی غزہ پر بمباری سے 24 گھنٹے میں مزید 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، شہدا کی تعداد 9 ہزار200 ہوگئی۔
صیہونی فوج نے جبالیہ کیمپ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید، 100سے زائد افراد لاپتہ اور 77زخمی ہوگئے۔
سات اکتوبر سے اب تک کی بمباری میں شہدا کی تعداد 9 ہزار 200 ہوگئی، جن میں37 سو سے زائد بچے شامل ہیں، جبکہ متعدد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج پکڑ کر لے گئی۔
النصر اسٹریٹ پر بیکری کے سامنے جمع افراد پر بھی بم گرا دیا گیا، امدادی کارکنوں اور ایمبولینس کو بھی نہ چھوڑا، ہرطرف لاشوں اور ملبے کے ڈھیر لگے ہیں، تباہ شدہ مکانات کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہوگئی۔
ملبے سے لاشوں کی تلاش جاری ہے، ایندھن ختم ہونے سے کینسر کے واحد ترک اسپتال میں کام بند ہوگیا، 70مریضوں کی موت واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کے 35 اسپتالوں میں سے 16نے کام بند کردیا۔
دوسری جانب رفاح راہداری سے غیر ملکی شہریوں اور دہری شہریت کے حامل شہریوں کو غزہ سے نکلنے کے اجازت ملنے کا امکان ہے، جن میں 400 امریکی شہری ہیں۔
مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج نے 14 سالہ لڑکے سمیت تین فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے مرکز کی جانب بڑھنے لگے، حماس اور اسرائیلی ٹینکوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
غزہ کی دو اہم سڑکیں اسرائیل کے کنڑول میں آگئیں، حماس بھی صہیونی فوج کا بھر پور مقابلہ کر رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مشرق وسطیٰ کے اپنے دوسرے دورے پر روانہ ہوگئے۔
ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ بات چیت میں غزہ کے مستقبل پر توجہ مرکوز رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جانی نقصان کم کرنے اور مزید انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر اسرائیل سے بات چیت ایجنڈے میں شامل ہے۔
فلسطینی شہری تنازعات کا مسلسل خمیازہ بھگت رہے ہیں، لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ حماس کی قید سے 200 سے زائد یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں گے۔
غزہ میں رفع کراسنگ سے امدادی سامان پہنچ رہا ہے، فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 102 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔
ٹرکوں پر خوراک، پانی، امدادی سامان، ادویات اور طبی آلات موجود تھے لیکن غزہ میں ابھی تک ایندھن لانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کا فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا اور آج مزید 19 پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں۔
ٓآج 19 پروازیں منسوخ ہونے کے بعد 17 روز کے دوران قومی ائیر لائنز کی منسوخ فلائٹس کی مجموعی تعداد 754 ہوگئی ہے۔
کراچی سے اسلام آباد پی کے 368، 369 اور کراچی سے سکھر کی پروازیں 536 اور 537 منسوخ ہوئی ہیں جب کہ آج دمام سے کراچی کی پرواز پی کے 242 بھی اڑان نہیں بھر سکے گی۔
اس کے علاوہ اسلام آباد سے سکھر کی پرواز پی کے 631، 632 بھی منسوخ ہوگئی، اسلام آباد سے کوئٹہ کی پرواز پی کے 325، 326 اور اسلام آباد سے دبئی اور شارجہ کی دو پروازیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں۔
دبئی سے ملتان کی پروا زپی کے 222، سیالکوٹ سے شارجہ کی پروازیں پی کے 209اور 210 جب کہ لاہور سے شارجہ کی پرواز پی کے 185 بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوگیا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر اعلامیہ
ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔ جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔
الیکشن کمیشن اعلامیہ
الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی۔
اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو تحریری طور پر11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کی اور چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر مملکت کو خط ارسال کر دیا تھا۔
تاریخ کے معاملے پرصدر مملکت نے بھی اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کر دی ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر مشاورت ہوئی تاہم اتفاق نہ ہوسکا۔ ملاقات کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی مشاورتی اجلاس ہوا، جس کے بعد صدر مملکت کو خط لکھا گیا اور 11 فروری کی تاریخ تجویز کردی گئی۔
جمعرات (2 نومبر) کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے، ممبران الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل منصور عثمان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں انتخابات کی تاریخ کے حتمی فیصلے کے لیے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جبکہ انتخابی مہم کے لیے وقت کے آئینی تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صدر سے ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچ گئے۔
جہاں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس ہوا، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ممبران اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں صدر عارف علوی کے ساتھ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کے لیے جواب تیار کرلیا گیا۔
بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دے دی۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں۔
تاہم، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس پہنچے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان نے صدر عارف علوی کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا۔
صدر مملکت کا مؤقف سننے کے بعد چیف الیکشن کمشنر اپنا نقطہ نظر اٹارنی جنرل کے سامنے رکھیں گے۔
اٹارنی جنرل کی صدر عارف علوی سے ملاقات
اس سے قبل اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حوالے کیا۔
اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی۔
صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے صدر عارف علوی کو سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت سے متعلق بریف بھی کیا۔
اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تجویز کردہ تاریخ سے متعلق آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ عام انتخابات کے 90 روز کے اندر انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کرے اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرے۔
سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت کا حکمنامہ
چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا اور ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ صرف انتخابات چاہتی ہے کسی اور بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، انتخابات کی تاریخ دینے کے بعد کسی درخواست کو نہیں سنا جائے گا۔
حکمنامے کے مطابق 5 دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہوں گے، حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا، انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار 4 فروری بنتا ہے، الیکشن کمشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہوں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے، صدر اور الیکشن کمشین کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، اور تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کریں گے۔
سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اپنا پروگرام عوام میں لے کر جائیں، جسے پسند آئے گا عوام ووٹ دے دیں گے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن صدر سے ملاقات کر کے کل سپریم کورٹ کو آگاہ کرے، فیصلے کی تین سرٹیفائڈ کاپیز ابھی دیں گے، دستخط شدہ کاپیز صدر مملکت، اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کو ابھی دی جائیں گی، الیکشن کمیشن اپنی اندرونی کارروائی آج ہی مکمل کرے، الیکشن کمیشن کل کچھ اور آکر نہیں کہہ دے۔
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے ایک ہزار زخمی بچوں کو علاج کی غرض سے دبئی اور ابوظہبی کے بڑے اسپتالوں میں لایا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر نے مزید کہا کہ ان بچوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا اور مکمل علاج تک یہ لوگ امارات میں ہی قیام کریں گے۔
صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے حکم کی تعمیل میں اماراتی وزیرِ خارجہ نے ریڈ کراس کی صدر سے رابطہ کیا اور زخمی فلسطینی بچوں کو علاج کی غرض سے متحدہ عرب امارات لانے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی۔
دوسری جانب اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللّٰہ بن زاید نے غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی ترسیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 8 ہزار 700 سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں اور 22 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں۔
ریاض: خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فلسطین کے لیے 30 ملین جب کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے 20 ملین ریال عطیے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ نے جنگ زدہ فلسطین کے عوام کے لیے چندہ مہم کا آغاز کردیا اور سب سے پہلے خود مجموعی طور پر 50 ملین ریال چندہ جمع کرایا۔
اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جارحیت کے باعث فلسطینی عوام کی ادویات، خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی سے مدد کے لیے عوامی عطیات کنگ سلمان سینٹر کی ’ساہم‘ ویب سائٹ پر جمع کی جائیں گی۔
سعود عرب کے ریلیف پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہا کہ عطیات جمع کرنے کی یہ مہم کرائسز میں گھیرے میں فلسطینی بھائیوں کی مدد کے سعودی عرب کے عظیم کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنے فلسطینی بھائیوں کی خیرخواہی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 11 فروری 2024 کی تاریخ تجویز کر دی۔
تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو تجویز کر دہ تاریخ سے متعلق خط لکھ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نےصدر کو انتخابات کیلئے 11 فروری کی تاریخ تجویز کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ تجویز ہے 11 فروری کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے جائیں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے خط لکھ رہا ہوں میں توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ عدالت نے مشاورت کا حکم دیا سپریم کورٹ کاحکم ہےصدر سے انتخابات سے متعلق ملاقات کی جائے۔
خط کے متن میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل صدر او رچیف الیکشن کمیشن کی ملاقات طےکرائیں گے سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے امید ہے معاملہ ملاقات میں طے پاجائیں گے عدالت نےکہاہےملاقات کی رپورٹ 3نومبرکوعدالت میں جمع کرائی جائے۔
اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر راجا سکندر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
ملاقات کے بعد وفد واپس الیکشن کمیشن آفس چلا گیا اور چیف الیکشن کمشنرکی سر براہی میں مشاورتی اجلاس دوبارہ ہوا جس میں صدر مملکت کے ساتھ ہونے والی مشاورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ، ممبرسندھ نثار درانی، ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ، ممبر کے پی اکرام اللہ، ممبربلوچستان شاہ محمد جتوئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی لاسمیت قانونی ٹیم کے ارکان شریک ہوئے۔
صدر مملکت کے ساتھ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کا جائزہ لینے کے بعد 11 فروری کی تاریخ تجویز کر کے صدر مملکت کو بھیج دی گئی۔
یاد رہے سپریم کورٹ نے انتخابات کی تاریخ دینےسےقبل صدرمملکت سےمشاورت نہ کرنے پراظہاربرہمی کیا اور وکیل الیکشن کمیشن کو حکم دیا صدرمملکت سے آج ہی رابطہ کریں اور کل تک سپریم کورٹ کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان سپریم کورٹ سے ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے انتخابات کی جو بھی تاریخ رکھی جائے اس پرسب کے دستخط ہوں اوراس تاریخ میں کسی قسم کی توسیع نہیں ہوگی، جو تاریخ دی جائےاس پرعملدرآمد کرنا ہوگا۔ صدراورالیکشن کمیشن کےاختیارات نہیں لے رہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ادارے ترقی کریں، پارلیمنٹ اپنا کام کرے اور صدراپنا کام کریں، ہرکسی کو اپنا کام خود کرنا ہوگا، ہم دوسروں کاکام نہیں کریں گے۔
اسلام آباد: سینیٹ نے نیب ترمیمی آرڈیننس کی مدت میں 120 دن توسیع کی منظوری دے دی۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس میں نیب ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد پیش کردی گئی جس ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرتے ہوئے نیب ترمیمی آرڈی ننس میں 120 دن کی توسیع کردی۔
قرارداد پیش کرنے پر پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ نے نیب آرڈی ننس مسترد کردیا ہے پھر آج اسے کیوں پیش کیا جارہا ہے۔
اس پر ن لیگ کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی پارلیمینٹ کا اختیار ہے یہ ہمارا اختیار ہے ہم اسے پاس کریں گے۔
آئی سی سی ورلڈکپ کے 33 ویں میچ میں بھارت نے سری لنکا کے خلاف 8 وکٹوں نقصان پر 357 رنز بنالیے۔
ممبئی کے وانکھڈے اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں بھارتی ٹیم کے اوپنر روہت شرما ٹیم کو اچھا آغاز دینے میں ناکام رہے محض 4 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ شبمن گل اور ویرات کوہلی نے 189 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم گل 92 اور کوہلی 88 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کے ایل راہول 21، سوریا کمار یادیو 12 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ شریاس ایر 46 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں۔
سری لنکا کی جانب سے دلشان مدھوشانکا نے 80 رنز دیکر 5 وکٹیں حاصل کیں اور دشمنتھا چمیرا نے ایک وکٹ حاصل کی جبکہ دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔
قبل ازیں سری لنکا کے کپتان کوشل مینڈس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے میچ میں کامیابی سمیٹ کر سیمی فائنل کھیلنے کی امیدوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
لنکن کپتان نے کہا کہ ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے دھننجایا ڈی سلوا کی جگہ دشن ہیمنتھا پلئینگ الیون کا حصہ ہیں۔
اس موقع پر بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما نے کہا کہ میچ میں کامیابی سمیٹ کر جیت کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
بھارت کا اسکواڈ
کپتان روہت شرما، شبمن گل، ویرات کوہلی، شریاس ایر، کے ایل راہول، رویندرا جڈیجا، شاردول ٹھاکر، جسپریت بمراہ، کلدیپ یادیو اور محمد سراج
کوٹلی: آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی کے نواحی علاقہ سمروڑ میں انوکھی اور منفرد شادی ہوئی جس میں ایک ہی دن 6 سگے بھائی 6 دلہنیں لے کر آگئے۔
آزاد کشمیر کوٹلی کے رہائشی استاد محمد شفیع نے اپنے 6 بیٹوں کی ایک ہی دن شادی کرکے نئی مثال قائم کردی۔ شہری محمد شفیع کے کل چھ بیٹے ہیں اور سب کی ارینج میرج ہوئی ہے،تمام بھائیوں کی شادی اپنے ہی خاندان میں ہوئی۔
اس شادی میں سیاسی و سماجی شخصیات سمیت کئی ہزار افراد نے شرکت کی اور علاقے میں دھوم مچ گئی۔
والد محمد شفیع کا کہنا ہے کہ میرے 6 بیٹے ہیں اور سب کی شادی ایک ساتھ کی اس لیے کہ مہنگائی کے اس دور میں الگ الگ شادی کرنا مشکل ہے۔