All posts by Khabrain News

اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم اور سعودی رجوہ آل سیف کی شادی آج ہوگی

عمان : (ویب ڈیسک) اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم اور سعودی دوشیزہ رجوہ آل سیف کی شادی کا وقت آن پہنچا، یہ شادی اردن سمیت پورے خطے اور دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم اور سعودی رجوہ آل سیف کی شادی کی مرکزی تقریب آج شام عمان کے زہران پیلس میں منعقد ہو گی ، شاندار شادی کی تقریب کی لائیو کوریج شام 4:00 بجے شروع ہوگی۔
اس تقریب میں دنیا بھر سے معزز مہمان، سربراہان مملکت، سیاسی و سفارتی شخصیات اور قریبی دوست اور شاہی خاندانوں کے افراد شرکت کریں گے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی تقریب میں شرکت کریں گے ۔
دنیا بھر کی مختلف معزز شخصیات کی جانب سے شہزادے کو تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے ، مستقبل کے حکمران شہزادہ حسین کی اہمیت کے پیش نظر یہ خاص موقع شاہی خاندان اور اردن کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
گزشتہ روز اردن کے سربراہ شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے ولی عہد کی شادی کی خوشی میں ہاشمی کورٹ میں عشائیہ دیا ، شاہ عبداللہ دوم نے اس موقع پر بیٹے کو ’’ہاشمی تلوار‘‘کا تحفہ دیا ہے۔
اردن کے شاہی پروٹوکول کے مطابق شادی کی تقریب میں “سرخ جلوس” نکالا جائے گا ، “سرخ جلوس” اردن کے دارالحکومت عمان میں قصر زہران سے قصر الحسینیہ تک گلیوں میں گھومے گا جہاں ہزاروں اردنی شہری جلوس کے راستے میں شادی کا جشن منائیں گے۔
یہ جلوس 20 لینڈ روور کاروں پر مشتمل ہوتا ہے، ان کاروں میں سے 14 جلوس میں شریک اور 6 ریزرو کاریں ہوتی ہیں، 10 موٹر سائیکلیں بھی جلوس میں شامل ہوتی ہیں۔
سرخ جلوس کی اس شاندار روایت کی جڑیں 25 مئی 1946 کو اپنی آزادی کے بعد اردن کے قیام سے ملتی ہیں، اسے سرکاری ہاشمی جلوس ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جو اہم تقریبات اور سفارتی استقبالیہ کے دوران بادشاہوں کے ساتھ جاتا ہے۔
شاہی جوڑے کی شادی کے دن اُردن میں سرکاری چھٹی ہوگی جبکہ تقریب میں پوری دنیا سے بڑے نام شرکت کریں گے ، دارالحکومت میں عرب گلوکاروں کا ایک مفت کنسرٹ بھی ہوگاا ور بعض تقریبات میں شرکت کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سروس چلائی جائے گی ، جبکہ تمام صوبوں میں تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔
ولی عہد حسین بن عبداللہ کون ہیں؟
شہزادہ حسین 28 جون 1994 کو اُردن کے دارالحکومت عمان میں پیدا ہوئے، وہ شاہ عبداللہ دوم اور ملکہ رانیہ کے بڑے بیٹے ہیں، اُن کے ایک بھائی شہزادہ ہاشم اور دو بہنیں، ایمان اور سلمیٰ، ہیں۔
شہزادہ حسین نے سنہ 2012 میں اُردن میں کنگز اکیڈمی سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی جس کے بعد انھوں نے 2016 میں امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے بین الاقوامی تاریخ میں اپنی ڈگری حاصل کی۔
سال 2017 میں، انھوں نے رائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا، وہی اکیڈمی جہاں سے اُن کے والد شاہ عبداللہ دوم اور ان کے دادا شاہ حسین بن طلال نے گریجویشن کیا تھا اور اب وہ اُردن کی مسلح افواج میں کپتان کے عہدے پر فائز ہیں۔
شہزادہ حسین کو 2 جولائی 2009 کو ولی عہد نامزد کیا گیا تھا۔
22 ستمبر 2017 کو شہزادہ حسین نے لگ بھگ 20 سال کی عمر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد سلامتی کونسل کے کسی اجلاس کی صدارت کرنے والے اب تک کے سب سے کم عمر شخص بن گئے۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران شہزادہ حسین اپنے والد کے ہمراہ اُردن کے اندر اور بیرون ممالک دوروں پر آتے جاتے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی اپنے والد کے ساتھ کئی سرکاری اور فوجی سرگرمیوں میں نظر آتے تھے۔
رجوہ آل سیف: اردن کے ولی عہد کی منگیتر
28 اپریل 1994 کو ریاض میں پیدا ہونے والی رجوہ خالد بن مساعد السیف کا تعلق سعودی عرب کے ایک ممتاز خاندان سے ہے جس کی جڑیں سبا قبیلے سے ملتی ہیں۔
شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور سے ہی ان کا خاندان سعودی عرب کے وسطی علاقے نجد میں واقع سدیر کے شہر العطار میں مشہور اور معزز سمجھا جاتا ہے ، ان کے والد آل سیف انجینئرنگ کنسلٹنٹس کے نام سے ایک معروف کمپنی کے مالک ہیں۔
رجوہ نے سعودی عرب میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیویارک کی سائراکیز یونیورسٹی میں فن تعمیر میں ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن اینڈ مرچنڈائزنگ سے بصری مواصلات میں پیشہ ورانہ ڈگری بھی حاصل کی ہے۔
رجوہ آل سیف اپنے منفرد ثقافتی پس منظر، متنوع صلاحیتوں اور وسیع علم کی وجہ سے مستقبل کی ملکہ اردن کے طور پر شاہی ذمہ داریوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
اس جوڑے کی منگنی کا باقاعدہ سرکاری اعلان گذشتہ سال 10 اگست کو کیا گیا تھا ۔

امریکا کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا

واشنگٹن : (ویب ڈیسک) امریکا کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا، پروسیجرل ووٹ منظور ، بل اب ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایوان میں کارروائی سے متعلق قرارداد 187 کے مقابلے میں 241 ووٹوں سے منظور کرلی گئی ، ووٹ منظور کیے جانے سے بل پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور اس پر ووٹنگ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
قرض کی حد اکتیس اعشاریہ چار کھرب ڈالر تک محدود رکھنے کو معطل کیے جانے کا بل کچھ دیر میں ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
ایوان میں 213 ڈیموکریٹس اور 222 ری پبلکنز اراکین جبکہ 29 ری پبلکنز کو بل پر اعتراض ہے، اس طرح بل منظور کرنے کے لیے ری پبلکنز کو حریف ڈیموکریٹس کی بھی حمایت درکار ہے۔
ایوان نمائندگان کے ری پبلکن سپیکر کیون مک کارتھی کا کہنا ہے کہ بل پر ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے یعنی پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے ہوگی اور یہ منظور کرلیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کر لی گئی تو قرض کی حد یکم جنوری 2025 تک معطل کردی جائے گی۔

امریکا کا یوکرین کیلئے 300 ملین ڈالر کے نئے امدادی پیکج کا اعلان

واشنگٹن : (ویب ڈیسک) امریکا کی جانب سے یوکرین کے لیے 300 ملین ڈالر کے نئے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ روس نے یوکرین کے خلاف ایک وحشیانہ، مکمل طور پر بلا اشتعال جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، مزید فضائی حملے شروع کیے ہیں اور یوکرینی شہروں پر بمباری کی ہے۔
جان کربی کا کہنا تھا کہ روس کے حالیہ حملوں میں صرف مئی میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے 17 الگ الگ فضائی حملے شامل تھے اور ان حملوں سے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے ، اس کے جواب میں امریکا یوکرین کو ایسی چیزیں دینے میں مدد جاری رکھے گا جس کی اسے اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے امدادی پیکج میں ایونجر ایئر ڈیفنس، اسٹنگر اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم، ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز کے لیے گولہ بارود اور دیگر آرٹلری کے ساتھ ساتھ اینٹی آرمر سسٹم بھی شامل ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے فروری 2022 میں روس کے حملے کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کو 37.6 بلین ڈالر سے زیادہ کی سکیورٹی امداد فراہم کی ہے اور امریکا یوکرین کے دفاعی رابطہ گروپ کے 12 اجلاسوں کی قیادت کر چکا ہے جو 50 سے زائد ممالک کا اتحاد ہے اور یوکرین کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
کربی نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کی آگے بڑھنے میں مدد کے لیے مضبوطی سے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب پینٹاگون نے ایک پریس ریلیز میں یوکرین کو دیئے جانے والے امدادی پیکج کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نئے پیکج کی مالیت 300 ملین ڈالر ہوگی اور اس میں توپ خانے، اینٹی آرمر سسٹم اور گولہ بارود بشمول چھوٹے ہتھیاروں کے لاکھوں راؤنڈز شامل ہیں۔
پینٹاگون نے یوکرین کو پیش کیے جانے والے ہتھیاروں کی مالیت میں کم از کم 3 بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین کے لیے تازہ ترین پیکج بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے منظور شدہ 39 واں پیکج ہے۔

بلوچستان میں دہشتگردوں کا سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ، 2 جوان شہید

کوئٹہ: (ویب ڈیسک) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سنگوان میں پاک ایران سرحد پر سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں نے بڑا حملہ کیا، پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے دہشتگردوں کے حملے کا بھرپور جواب دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں سے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے، فورسز نے دہشت گردوں کو کامیابی سے پیچھے دھکیل دیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق شہید اہلکاروں میں 34 سالہ سپاہی حسنین اشتیاق کا تعلق ڈی جی خان اور 27 سالہ سپاہی عنایت اللہ جھل مگسی کے رہائشی تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں فوری طور پر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا، دہشتگردوں کو سرحد پار فرار ہونے سے روکنے کیلئے ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن اور استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مشن اسلام آباد : جہانگیر ترین کی اپنی پارٹی کے قیام سے متعلق مشاورت جاری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) جہانگیر ترین کا مشن اسلام آباد ، جہانگیر ترین کا اپنی پارٹی کے قیام سے متعلق مشاورتی عمل جاری ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے کئی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑ جانے کے بعد ملک میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل ہو رہا ہے ، ایسے میں پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین بھی سیاست میں دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین آج بھی اسلام آباد میں اہم ترین شخصیات سے ملاقاتیں کرینگے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ پنجاب سے پی ٹی آئی چھوڑنے والی اہم ترین شخصیت کا جہانگیر ترین سے رابطہ ہوا ہے ، علاوہ ازیں جہانگیر ترین نے اپنے گروپ کے مختلف ممبران سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین اہم ملاقاتوں کے بعد آج لاہور روانہ ہوجائیں گے۔

(ق) لیگ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستوں پر جواب جمع کرادیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ق) نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر اپنا جواب جمع کرادیا۔
(ق) لیگ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہو گا کیونکہ ایکٹ کا سیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے، ایکٹ کا سیکشن 3 عدلیہ کے 184(3) کے اختیار کے استعمال کو کم نہیں کرتا۔
(ق) لیگ نے مؤقف اپنایا کہ سیکشن 3 چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے اختیار کا استعمال سینئر ججز سے مل کر استعمال کا کہتا ہے، کمیٹی کے مقدمات مقرر کرنے اور ازخود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوامی اعتماد بڑھے گا۔
(ق) لیگ نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ ملک میں چلنے والی وکلاء تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا، سابقہ چیف جسٹسز افتخار چودھری ،گلزاراحمد اور ثاقب نثار نے اختیارات کا متحرک استعمال کیا جس کے نتائج سٹیل مل، پی کے ایل آئی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جاسکتا تھا، آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کی بغیر پابندی، دباؤ اور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے۔
مسلم لیگ (ق) نے اپنے جواب میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔

روپے کی قدر میں بہتری، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کو بڑا جھٹکا

کراچی: (ویب ڈیسک) انٹربینک کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 19 روپے کمی دیکھی گئی جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 298 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت 32 پیسے کم ہوئی ہے، کمی کے بعد انٹربینک میں امریکی کرنسی 285 روپے 15 پیسے پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 285 روپے 47 پیسے پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب ریال کی قیمت میں ایک روپے 40 پیسے کمی ہوئی جس کے بعد سعودی کرنسی 82 روپے پر فروخت ہو رہی ہے جبکہ یو اے ای درہم بھی ایک روپے سستا ہو کر 84 روپے 50 پیسے کا ہوگیا ہے۔

عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کی دوبارہ گرفتاری، آئی جی اسلام آباد کو نوٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کی عدالتی حکم کے باوجود دوبارہ گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیا گیا۔
شہریار آفریدی کی رہائی کے بعد گرفتاری پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں وکیل شہر افضل مروت نے دلائل میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کی دوبارہ گرفتاری کی گئی اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
توہین عدالت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ اب تک متعلقہ عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا، کل تک اس معاملے پر جواب دیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آج ہدایت کے ساتھ ہماری درخواست نمٹا دیں، کل کیس بھی لگا ہوا ہے، شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے، عدالت سے درخواست کی گئی کہ آپ نے ڈیتھ سیل سے نکالنے کا زبانی حکم دیا تھا، تحریری حکمنامہ جاری کردیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دئیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے آرڈر کی تعمیل نہ کی گئی ہو؟ توہین عدالت کا کیس ہے، اس کو ہم نمٹا نہیں رہے، کل دوبارہ سماعت رکھیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے شہریار آفریدی کی جانب سے پولیس کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کالعدم قرار، تمام افراد کی فوری رہائی کا حکم

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے واقعہ کے بعد نظر بند تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس صفدر سلیم شاہد نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ لاہور سمیت پنجاب کے 11 اضلاع میں پی ٹی آئی کارکنوں کی نظری بندی کے احکامات غیر قانونی ہیں، عدالت نے نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔
فیصلے کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر افراد کی نظربندی کے احکامات کو خلاف قانون قرار دیا گیا، اس کے علاوہ لاہور، وزیر آباد، جھنگ، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین میں کارکنوں کی نظربندی کے احکامات بھی کالعدم قرار دیئے گئے۔
گجرات، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں بھی کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار دے دی گئی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے حیران کن واقعہ نے پرامن اور جمہوری ملک کی مسخ شدہ تصویر پیش کی، امن وامان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری تھی، 9 مئی کو سیاسی لیڈر کی گرفتاری پر ملک بھر میں افسوسناک ردعمل آیا، حکومت نے 9 مئی کے واقعہ پر بغیر سوچے سمجھے لاتعداد نظربندی کے احکامات جاری کئے۔
فیصلے کے مطابق حکومت کے پاس اگر کوئی شواہد موجود تھے تو فوجداری مقدمات میں گرفتاری کیلئے بہت وقت تھا، گرفتار افراد کو الزامات کا پتہ تو ہو تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکیں، ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں صرف ڈی پی او کی رپورٹ پر شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، ڈی سی کا نظر بندی کا فیصلہ پبلک مینٹیس آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی ہے، تمام نظربند افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواستیں خارج

لاہور: (ویب ڈیسک) عدالت نے 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواستیں خارج کردیں۔
درخواست گزاروں کی جانب سے 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی، جس پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواستیں خارج کردیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جب کہ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے درخواستوں کی مخالفت کی تھی۔