All posts by Khabrain News

پاک، انگلینڈ ٹی ٹونٹی سیریز، آخری میچ کے تمام ٹکٹس فروخت

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے شہر قائد میں شیڈول آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کے تمام ٹکٹس فروخت ہو گئے۔
چوتھا اور آخری میچ اتوار 25 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔ چھٹی کے دن کی وجہ سے تمام انکلوژر کے ٹکٹس فروخت ہوچکے۔ اتوار کے میچ کے 250 سے 1500روپے والے تمام ٹکٹس نایاب ہوگئے۔
کراچی کے چاروں میچز میں وی آئی پی انکلوژر کے تمام ٹکٹس فروخت ہوچکے ہیں۔ 20ستمبرکو میچ کیلئے چند انکلوژر کے ٹکٹس فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔
قائد انکلوژر، عمران خان اور ماجد خان انکلوژر کےٹکٹس بھی فروخت ہو چکے۔

17 سال بعد انگلینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان کافی خاص موقع ہے: فل سالٹ

کراچی: (ویب ڈیسک) انگلش کرکٹر فل سالٹ نے کہا ہے کہ سترہ سال بعد انگلینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان کافی خاص موقع ہے، ہر کھلاڑی کو اس دورے کی اہمیت کا اندازہ ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انگلش بلے باز نے کہا کہ پی ایس ایل کھیلنے کا تجربہ ہمارے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوگا، اس تجربے سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی رہے گی کہ پچ کیسی ہوگی، بولرز کی حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔
فل سالٹ نے مزید کہا ہے کہ ہم فل ہاؤس کراؤڈ کے سامنے کھیلنے کیلئے پر امید اور پرجوش ہیں، مجھے اس دورے کیلئے ٹیم کا حصہ بننے پر فخر ہے، پاکستان ایک اچھی ٹیم ہے، ہمیں جیت کیلئے بہت اچھا کھیلنا ہوگا۔

طالبان حکومت کے خاتمے کیلیے جلاوطن سیاسی رہنماؤں کا اتحاد ضروری ہے، احمد مسعود

ویانا: (ویب ڈیسک) افغانستان میں طالبان مخالف گروپ کے رہنما احمد مسعود نے تارکین وطن پر زور دیا کہ وہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے 13 صوبوں میں سے واحد صوبے وادیٔ پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔ یہ مزاحمت شمالی اتحاد کے سابق سربراہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں مسلح گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کر رہی ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے ویانا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کا وقت آگیا ہے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ہے جس کے لیے تمام گروپوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
احمد شاہ نے مزید کہا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ تمام تارکین وطن کو متحد کرنا چاہتے ہیں اور ایسے روڈ میپ کی تلاش میں ہیں جس کے ذریعے سیاسی حل تلاش کیا جائے گا۔
اس کانفرنس میں طالبان کی مخالفت کرنے والے 30 سے زائد جلاوطن سیاسی رہنما نے شرکت کی تھی۔ یہ وہ رہنما ہیں جو طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے۔

نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ سے 17 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

کٹھمنڈو: (ویب ڈیسک) نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ سے 17 افراد ہلاک جبکہ متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے ایک دور دراز پہاڑی ضلع میں شدید بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں متعدد مکانات مٹی میں دفن ہونے سے کم ازکم 17 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
نییپال کے متاثرہ ضلع اچھم کے ضلعی منتظم دیپش رجال کے مطابق امدادی کارکنوں نے ہفتے کو علیٰ الصبح تین مقامات پر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے 17 افراد کی لاشیں برآمد کر لی ہیں۔
ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے رجال کا کہنا تھا کہ مٹی میں دبے گیارہ افراد کو زندہ نکال لیا گیا جن میں سے تین کو شدید زخمی ہونے کی وجہ سے طبی دی جارہی ہے۔
ضلعی منتظم کا مزید کہنا تھا کہ ہم متاثرہ گھرانوں کی تعداد کا پتہ لگائیں گے اور تلاش کا کام مکمل ہونے کے بعد امداد اور بحالی کے پیکج کی فراہمی شروع کریں گے۔
رجال کے مطابق کم از کم چھ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پر اُن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر امدادی کارکنوں کو ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر ان افراد کو تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک مٹی کے تودوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔

تاجکستان اور کرغیزستان کی فوجوں میں گھمسان کی جنگ؛ 24 ہلاکتیں

بشکیک: (ویب ڈیسک) جنگ بندی کے باوجود کرغیزستان اور تاجکستان کی فوجوں میں جاری سرحدی جھڑپ میں مجموعی طور پر 24 افراد مارے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کرغیزستان اور تاجکستان کی سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سرحدی علاقوں سے شہریوں کو اپنے گھر بار اور مال مویشی چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے باوجود سرحدوں پر جھڑپ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 24 ہوگئی جب کہ 80 سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں شہری بھی شامل ہیں۔
کرغیزستان نے الزام عائد کیا ہے تاجکستان کی فوج نے صوبے بادکند میں راکٹ برسائے جس کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔
دوسری جانب تاجکستان کا دعویٰ ہے کہ کرغیزستان کی فوجوں نے سرحد پر اپنی پوزیشن تبدیل کیں اور ہماری سرزمین پر دیہاتیوں پر گولیاں برسائی تھیں۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک میں روسی فوج کے اڈے بھی ہیں جس کے باعث روس نے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر متفق کیا تھا۔

قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول، ملک کے مختلف علاقوں میں آٹا نایاب، شہری خوار

لاہور: (ویب ڈیسک) ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول ہو گئیں جس کے باعث لاہور کے متعدد علاقوں میں آٹا دستیاب ہی نہیں، عوام آٹے کیلئے مارے مارے پھرنے پر مجبور ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے مشکلات بڑھنے لگیں، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا ہوگیا، اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھی تو چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
ملک میں آٹے کی قیمت 130 روپے کلو تک پہنچ گئی، کراچی میں آٹا ملک میں سب سے مہنگا ہے، ایک کلو کی قیمت 125 سے 130 روپے ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 80 کلو آٹے کی بوری 8 ہزار 8 سوروپے سے بڑھ کر 9 ہزار روپے ہو گئی جب کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
آٹا ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پنجاب سے ترسیل شروع نہ ہوئی تو بحران کی کیفیت پیدا ہو جائے گی، صوبائی حکومت سے پنجاب سے ترسیل بحال کرانے کے لیے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بھی گندم اور آٹے کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں، جہاں گندم کا سرکاری نرخ 3000 روپے من جبکہ عام مارکیٹ میں 3550 سے 3800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔،فلور ملز نے آٹے کے اپنے اپنے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں 20 کلو تھیلا 1620 سے 1670 تک پہنچ گیا ہے، آٹا چکی مالکان نے ایک ہی دن میں فی کلو آٹا میں 25 روپے اضافہ کردیا ہے جب کہ چکی آٹے کی نئی قیمت 125 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، کریانہ اور ہول سیلرز نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دے دیا۔
لاہور میں 110 روپے سے 116 روپے میں ایک کلو آٹا مل رہا ہے، اسلام آباد میں چکی کا آٹا 125 روپے میں فروخت ہونے لگا، کوئٹہ میں آٹے کی قیمت 120 روپے کلو ہوگئی، گوجرانوالہ میں چکی کا آٹا 130 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔
چکی مالکان کا کہنا ہے کہ غلہ منڈیوں میں قلت کے سبب فی من گندم 2 ہزار850 سے بڑھ کر3 ہزار800 روپے تک پہنچ چکی ہے، بجلی کے بھاری بل بھی ادا کر رہے ہیں، آٹا مہنگا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے، لاہور میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 980 روپے ہے جو مارکیٹ میں کئی جگہوں پر دستیاب ہی نہیں۔

اداکارہ صائمہ سے شادی کو دس سال تک چھپائے رکھا، فلمساز سید نور کا انکشاف

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف فلمساز سید نور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اداکارہ صائمہ سے شادی تو کی مگر کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اسے ایک دہائی تک دنیا سے چھپائے رکھا۔
حال ہی میں سید نور ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے اپنی نجی زندگی اور اداکارہ صائمہ سےشادی سمیت کئی موضوعات پر گفتگو کی۔
فلم ساز سید نور نے اس شو میں پہلی بار اعتراف کیا کہ انہوں نے اداکارہ صائمہ سے شادی کی بات کو قریب ایک دہائی تک خفیہ رکھا تھا ساتھ ہی انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان دونوں کے خاندان ہی ان کی شادی ختم کروانے کی کوششیں کرتے رہے۔
سید نور نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کی پہلی اہلیہ رخسانہ نور گھریلو خاتون تھیں، وہی انہیں فلموں میں لائے اور انہوں نے ان کی فلموں کے لیے جتنے بھی گانے لکھے وہ بے حد مقبول ہوئے۔
فلم ساز نے بتایا کہ جب ان کی پہلی اہلیہ رخسانہ کو صائمہ سے تعلقات کا علم ہوا تو وہ ناراض ہوئیں مگر پھر وہ مان بھی گئیں اور ان کی دوسری شادی کو سب سے پہلے انہوں نے ہی قبول کیا۔
انہوں نے صائمہ سے شادی اور محبت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صائمہ کو دیکھتے ہی انہیں ان سے محبت ہوگئی تھی مگر اس کا اظہار انہوں نے کئی سال بعد کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فلم ’گھونگھٹ‘ کے بعد ان کے اور صائمہ کے درمیان محبت ہوئی اور ساتھ ہی یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے کئی سال تک صائمہ سے شادی کی بات کو خفیہ رکھا۔
فلم ساز نے اعتراف کیا کہ ان کی اور صائمہ کی شادی 1998 میں ریلیز ہونے والی فلم ’چوڑیاں‘ کے فوری بعد ہوگئی تھی مگر انہوں نے اس کا اعتراف 2007 میں تقریبا ایک دہائی بعد کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کی شادی کی باتیں سامنے آئیں تو ان کے خاندان سمیت صائمہ کے گھر والے بھی ناراض ہوگئے اور ہر کسی نے یہی دعویٰ کیا کہ ان کی شادی چند ماہ میں ختم ہوجائے گی۔تاہم ان کے درمیان سچی محبت تھی تو یہ رشتہ تاحال قائم ہے اور وہ ایک بنے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ 2018 میں سید نور اور صائمہ کے درمیان اختلافات اور طلاق کی افواہیں پھیلی تھیں، جس پر جوڑی نے وضاحت دیتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا تھا۔

استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 48 برس بیت گئے

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا ئے موسیقی بادشاہ استاد امانت علی خان کو ہم سے بچھڑے 48 برس بیت گئے ہیں۔
کلاسیکی موسیقی میں ’سند‘ کا درجہ رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے استاد امانت علی خان کی 48 ویں برسی عقید ت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
ابن انشا کی غزل ’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘ کو اپنی کانوں میں رس گھولتی آواز کے ساتھ گانے کے بعد جو شہرت انہیں ملی تو دنیا بھر میں موسیقی کو ایک نئی پہچان ملی، ان کی غزلیں اورگیت آج بھی مداحوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل انہوں نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا اور کم عمری ہی میں ٹھمری اورغزل میں مہارت حاصل کر لی۔
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے، اور یہ آرزو تھی کہ تجھے گل کے روبرو کرتے سمیت ان گنت گیتوں نے انہیں اپنے وقت کے ممتاز گلوکاروں کی صفوں میں لا کھڑا کیا۔
استاد امانت علی خان کو فنی خدمات پر حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
فن موسیقی کے بے تاج بادشاہ 17 ستمبر 1974 کو باون برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے لیکن وہ اپنے فن کی وجہ سے آج بھی اپنے لاکھوں پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

266 اقسام کے ملک شیک بنانے کا عالمی ریکارڈ

ایریزونا: (ویب ڈیسک) امریکا میں ایک آئس کریم کی دکان نے ایک گھنٹے سے تھوڑے زیادہ وقت میں 266 اقسام کے ملک شیک بنا کر گینیز عالمی ریکارڈ قائم کردیاہے۔
امریکی ریاست ایریزونا کے علاقے میں سیلِگمین میں موجود اسنو کیپ نامی دکان نے ایک منعقدہ تقریب کے موقع پر سب زیادہ ذائقے کے مِلک شیک بنانے کا گینیز ریکارڈ بنانے کی کوشش کی۔
جب دکان کے مالکان ڈیل گِڈیلو فیملی نے اپنی دکان کے مینو پر درج تمام زائقوں کے ملک شیک بنانے کی کوشش کی تب گینیز ورلڈ ریکارڈ کے ریفری وہاں موجود تھے۔
دکان کی جانب سے بنائے گئے غیر معمولی فلیورز میں پینٹ بٹر اور انین رِنگ، بنانا اور چلی اور اورنج اور فش برگر شامل تھے۔
ڈیل گِڈیلو فیملی نے یہ کارنامہ 1 گھنٹہ 15 منٹ میں سرانجام دیا۔

سیارے زحل کے گرد چھلے کیسے بنے؟

میساچوسیٹس: (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔
امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔
تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔
سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔
تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔
2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔
سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔