All posts by Khabrain News

یوکرین میں تھیٹر پر روسی حملے میں 300 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

کیف: (ویب ڈیسک) یوکرین کے شہرماریوپول کے ایک تھیٹرپرروسی بمباری سے 300افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ماریوپول شہرکے ایک تھیٹرپرروسی بمباری کے نتیجے میں 300 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
روسی فوج نے 16مارچ کوماریوپول کے تھیٹرپرطاقتوربم گرایا تھا۔ روسی بمباری کے وقت تھیٹرمیں ایک ہزارسے زائد خواتین،بچوں اورمردوں نے حملے سے بچنے کے لئے پناہ لے رکھی تھی۔
ماریوپول اس وقت یوکرین کے باقی حصوں سے کٹا ہوا ہے۔ روسی محاصرے کے باعث شہرمیں کھانے پینے کی اشیا اوردواؤں کی قلت کے باعث صورتحال سنگین ہے۔

روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قیمت میں اضافہ

کراچی: (ویب ڈیسک) انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز 5 پیسے اضافے کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 181 روپے 78 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں استحکام ریکارڈ کیا گیا تھا، ڈالر کی قیمت 181 روپے 73 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔

پاکستان کو 115 رنز سے شکست، لاہور ٹیسٹ اور سیریز آسٹریلیا کے نام

لاہور: (ویب ڈیسک) آسٹریلیا نے پاکستان کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں 115 رنز سے شکست دیکر لاہور ٹیسٹ اور سیریز اپنے نام کرلی ہے۔
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آخری ٹیسٹ میچ کھیلا گیا جس کے آخری روز پاکستانی بیٹرز کی جانب سے انتہائی ناقص بلے بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور گرین کیپس نے جیتی ہوئی بازی کینگروز کی جھولی میں ڈال دی۔
مہمان ٹیم کے 351 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بابر الیون 235 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور اس طرح مہمان ٹیم نے سیریز ایک ، صفر سے جیت لی۔
پہلی اننگز میں 23 رنز کے عوض 3 اور دوسری میں 56 سکور کے بدلے میں 5 وکٹیں لینے والے آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ عثمان خواجہ کو تینوں میچوں میں 496 رنز بنانے پر سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے گئے دونوں میچ بغیر نتیجہ ختم ہوئے تھے۔
پاکستان نے آخری روز بغیر کسی نقصان کے 73 رنز سے اننگز کا آغاز کیا، 77 رنز پر پاکستان کی پہلی وکٹ گر گئی، عبداللہ شفیق 27 رنز بنا کر کیمرون گرین کی گیند پر پویلین واپس لوٹ گئے، اظہر علی کو لیون نے شکار کیا، انہوں نے صرف 17 رنز بنائے۔
بابر اعظم نے 55 رنز کی اننگز کھیلی، فواد عالم 13 ، محمد رضوان 1، ساجد خان 6، نعمان علی، حسن علی اور نسیم شاہ صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ شاہین شاہ آفریدی بغیر کوئی سکور بنائے ناٹ آؤٹ رہے، پاکستان کی جانب سے امام الحق نے سب سے زیادہ 70 رنز کی اننگز کھیلی۔
آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنز نے ایک مرتبہ پھر شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کا شکار کیا، مچل سٹار نے 4 اور نیتھن لیون نے 1 وکٹ اپنے نام کی۔
گذشتہ روز آسٹریلوی ٹیم نے دوسری اننگز 227 رنز بنا کر ڈکلیئر کردی تھی، آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ 104 رنز بنا کر نا قابل شکست رہے جبکہ ڈیوڈ وارنر نے 51 رنز بنائے تھے۔
اس سے قبل قومی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 235 رنز بنائے تھے ، امام الحق نے سب سے زیادہ 70 رنز بنائے تھے جبکہ کپتان بابر اعظم نے 55 سکور کی اننگز کھیلی، نیتھن لیون نے 5 اور پیٹ کمنز نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
دوسری طرف مہمان ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 391 رنز بنائے تھے، عثمان خواجہ نے سب سے زیادہ 91 رنز بنائے تھے جبکہ کیمرون گرین نے 79 رنز کی اننگز کھیلی، نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے 4،4 کھلاڑیوں کا شکا ر کیا تھا۔

سیٹ بیلٹ باندھ لو جہاز کسی بھی وقت پرانے پاکستان میں لینڈ کرنے والا ہے: مریم نواز

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ سابق وزراعظم نواز شریف کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے، سیٹ بیلٹ باندھ لو جہاز کسی بھی وقت پرانے پاکستان میں لینڈ کرنے والا ہے۔
کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اقتدارعوام کی بدعاوں سے جائے گا، عمران خان کا اقتدار اپوزیشن، سیاسی جماعت یا سازش نے ختم نہیں کیا، عمران خان آج ایڑیاں رگڑ رگڑ کر این آر او مانگ رہے ہیں۔ حکومت میں رہنے کے باوجود پی ٹی آئی چیئر مین کو چھوڑ کر لوگ گئے۔
لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک ایک دن کرکے وقت لے رہا ہے، وہ تو اب دھمکیاں دے رہے ہیں، کیا یہ پارٹی سے ممبران نکالیں گے یا لوگ اسے نکالیں گے۔ عمران خان سے تو سارے لوگ چلے گئے اور جا رہے ہیں۔ مشکل وقت میں ن لیگ سے کوئی بندہ نہیں گیا۔
مریم نواز نےکہا کہ عمران خان کو استعفیٰ نہیں اب سیدھے گھر جانا ہو گا۔ وہ روز کہتے ہیں میرے پاس سیاسی پتے ہیں۔ سیٹ بیلٹ پہنو، پاکستان کا جہاز کسی بھی وقت پرانے پاکستان میں لینڈ کرنےوالا ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے عدلیہ کی تحریک میں کردار ادا کیا۔ مشکل وقت میں سب نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔ میرے والد نے بے بنیاد مقدمات کا سامنا کیا۔ حمزہ سے کہا کہ آج پورے پاکستان کو پیغام دینا ہے، مسلم لیگ ن کے شیر پورے پاکستان میں جاگ چکےہیں۔

احد کے اسٹیج پر آتے ہی مداحوں نے ’سجل ‘کے نعرے لگادیے

شوبز کی مقبول ترین جوڑی احد رضا میر اور سجل علی کی مبینہ طلاق کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد احد رضا میر کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔

انسٹاگرام کے مختلف اکاؤنٹس پر احد رضا میر کی رواں سال دبئی ایکسپو سے لی گئی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں اسٹیج پر مداحوں سے خطاب کے لیے آتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن جیسے ہی احد نے کچھ کہنے کے لیے مائیک اٹھایا تو مداحوں نے سجل سجل چلانا شروع کردیا۔
مداحوں کے پرجوش ہونے پر احد رضا میر ہنستے ہوئے خاموش ہوگئے اور مداحوں کا شکریہ اداکیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز شوبز کی معروف خاتون صحافی آمنہ عیسانی نے دعویٰ کیا تھا کہ سجل اور احد کے درمیان علیحدگی ہو چکی ہے۔

آمنہ عیسانی نے کہا کہ سجل کے علاوہ ان کے دیگر ذرائع بھی جوڑی کے درمیان قانونی طور پر علیحدگی کی تصدیق کر چکے ہیں تاہم فی الحال دونوں شخصیات کا علیحدگی سے متعلق کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیاہے۔

اولاد نے بزرگ والدین کو بے سہارا چھوڑ دیا، عدالت کا اہم فیصلہ

پشاور: (ویب ڈیسک) ہائی کورٹ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ والدین ایک کمرے میں 8 بچوں کو پال سکتے ہیں لیکن بڑے ہوکر وہی اولاد بوڑھے ماں باپ کو نہیں سنبھال سکتے، بیوی کا بھی حق ہے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا بھی لیکن والدین کا حق سب سے پہلے نمبر پر اور سب سے زیادہ ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں بوڑھے والدین کو بچوں کی طرف سے بے سہارا چھوڑے جانے کے ایک کیس میں عدالت نے برزگ والدین کے پانچ بیٹوں پر ہر مہینے 26 سے 28 تاریخ تک تین تین ہزار روپے والدین کو دینے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کو تمام بیٹوں سے تین تین ہزار روپے لے کر ان کے والدین تک پہنچانے کی ہدایت کی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ایس ایچ او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھیں، ان کا جو بیٹا بیرون ملک مقیم ہے، ان کے گھر کا پتا کر کے ان کی بیوی کو اطلاع دیں، کہ اپنے شوہر کو آگاہ کرے کہ ہر مہینے تین ہزار روپے والدین کے لیے بھیجیں، اگر پیسے نہیں بھیجتے تو پھر ہم ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیں گے۔
قبل ازیں، بوڑھے والدین کو بے سہارا چھوڑنے پر بیٹوں کے خلاف دائر کیس میں ایس ایچ او نے بیٹوں کو بغیر ہتھکڑیوں کے عدالت میں پیش کیا تو عدالت نے ایس ایچ او کی سرزنش کر دی، جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ان کی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے، بغیر ہتھکڑی کیوں پیش کیا، ہتھکڑیوں میں ان کو لاتے تو ان کو کچھ احساس ہوتا۔
جسٹس روح الامین نے والدین کو بے سہارا چھوڑنے والے بیٹوں سے استفسار کیا کہ آپ کی شادیاں کس نے کرائیں، کیا خود شادی کی یا والدین نے شادی کا خرچہ برداشت کیا، اس پر عدالت میں موجود تینوں بھائیوں سے جواب دیا کہ والدین نے ان کی شادیاں کی ہیں، جسٹس روح الامین نے کہا کہ آپ کے والدین عدالت میں کھڑے ہیں اور شکایت کر رہے ہیں کہ آپ لوگوں نے اس عمر میں ان کو بے سہارا چھوڑا ہے، آپ لوگوں کو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ آپ تینوں نے داڑھی رکھی ہے اور ٹوپیاں پہنی ہیں، ایہ اچھی بات ہے نیکی کے کام کرنا چاہیے لیکن جب تک آپ والدین کی خدمت نہیں کریں گے اللہ آپ کو نہیں بخشے گا۔
عدالت میں بے آسرا ماں نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ان کے پانچ بیٹے ہیں تین عدالت میں موجود ہیں، ایک بیرون ملک ہے، لیکن ہم اکیلے رہ رہے ہیں، ایک بیٹا ہے اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، گھر کا 6 ہزار ماہانہ کرایہ ہے اور اس کے علاوہ 2 ہزار بجلی کا بل بھی ہے، لیکن ان کے بچوں نے انھیں چھوڑ دیا ہے اور اب وہ خود کوئی کام بھی نہیں کرسکتی، شوہر بیمار ہے کل بھی اسپتال لے کر گئی لیکن علاج کے پیسے نہ ہونے پر واپس گھر آ گئے۔
ماں نے بتایا کہ ایک کمرے میں نے 8 بچوں کو پالا تھا لیکن اب میرا کوئی آسرا نہیں ہے، بزرگ خاتون کی فریاد پر عدالت میں موجود زیادہ تر لوگ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، اور آبدیدہ ہوگئے۔
جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ کتنی مشکل سے ان ماں پاب نے آپ کو بڑا کیا ہوگا آپ لوگ ان کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا، بیوی کا بھی حق ہے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا بھی حق ہوتا ہے لیکن بزرگ والدین کی خدمت سب سے پہلے ہے، ابھی اس سے پہلے ایک کیس سن رہے تھے ہم، 4 بیٹوں نے والد پر جان قربان کر دی تھی، والدین کے قدموں تلے جنت کا کہا گیا ہے اور آپ لوگوں نے بزرگ والدین کو ایسے چھوڑ دیا ہے، ہم آپ کو ایک مہینے کے لیے ڈی آئی خان جیل بھیج دیں گے، رمضان کا مہینہ جیل میں بیوی بچوں سے دور گزاریں گے تو کچھ احساس ہوگا۔
عدالت میں موجود بزرگ والدین کے بڑے بیٹے نے والدین کو ساتھ لے جانے پر رضا مندی ظاہر کی تو عدالت نے ان کو والدین ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی، اور ہر مہینے تین تین ہزار روپے تمام بھائیوں سے والدین کو دینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مجاہد علی خان سے استفسار کیا کہ حکومت کا ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے جس سے ایسے لوگوں کی امداد ہو سکے، اے اے جی نے عدالت کو بتایا کہ احساس پروگرام اور بیت المال سے ہو سکتی ہے ان کی مدد، اس پر جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ احساس پروگرام تو ہے لیکن لوگوں میں احساس نہیں ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے اے جی صاحب والدین کے تحفظ کے لیے آپ لوگوں نے جو آرڈیننس بنایا تھا کیا وہ صرف دکھانے کے لیے تھا، صوبائی حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ ایسے والدین کی مدد کی جا سکے، عدالت نے اے اے جی مجاہد علی خان کو برزگ والدین کو صحت کارڈ اور احساس پروگرام سے مدد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے، آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی، جسٹس جمال خان نے سوال اٹھایا کہ صدر مملکت کو ایسا کیا مسئلہ ہے جو رائے مانگ رہے ہیں۔ صدر کے سامنے ایسا کونسا مواد ہے جس پر سوال پوچھے۔ وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبرساتھ دینے کا پابند ہے۔
اٹارنی جنرل پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، اراکین اسمبلی ربڑ اسٹمپ نہیں ہوتے، پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے، مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدر نے آئینی تشریح کا کہا ہے، ادھر اُدھر نہیں جا سکتے، ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔
صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات
حکومت کی جانب سے دائر کیے جانے والے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے چار سوالات پر رائے مانگی گئی ہے۔ ریفرنس میں پوچھا گیا ہے کہ کوئی رکن اسمبلی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ دے تو کیا اسے رکن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی؟ اسے ڈی سیٹ نہیں کیا جاسکتا؟
سپریم کورٹ سے یہ رائے مانگی گئی ہے کہ کیا ایسے رکن جو پارٹی پالیسی سے انحراف کریں اور پالیسی کے خلاف ووٹ دیں تو کیا ان کے ووٹ کو شمار کیا جائے گا؟ سپریم کورٹ سے پوچھا گیا ہے کہ کیا جو وفاداری تبدیل کرتے ہوئے رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جائے اور ثابت ہو کہ اس نے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی ہے تو کیا اسے رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟
چوتھے سوال میں عدالت سے رائے مانگی گئی ہے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کو روکنے کے لیے موجودہ آئینی ڈھانچے میں کون سے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں جس سے فلور کراسنگ کو روکا جاسکے۔

27 مارچ کے جلسے سے اپوزیشن کی کانپیں ٹانگیں گی، سینیٹر فیصل جاوید

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اپوزیشن مطلوبہ نمبرز پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور 27 مارچ کے جلسے سے اپوزیشن کی کانپیں ٹانگیں گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان اہم خطاب کریں گے اور عدم اعتماد کے روز دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جو کارڈ لے کر جائیں گے اپوزیشن کو پتہ چل جائے گا اور قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ اپوزیشن مطلوبہ نمبرز پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
فیصل جاوید نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ جو عدم اعتماد کے وقت ہو گا اس کے بعد وہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے اور ہم کسی کو بھی برا بھلا نہیں کہتے بلکہ ان کو خود پتہ چل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 27 مارچ کے جلسے سے اپوزیشن کی کانپیں ٹانگیں گی۔ عمران خان کے پاس بہت سے کارڈز ابھی پڑے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم 27 مارچ کے جلسے میں صرف ایک کارڈ شو کریں گے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان سے مقابلہ کرنا کوئی نہیں جانتا اور عمران خان کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ عوام ہی سب کو پارلیمنٹ میں لے کر آتی ہے تاہم اب
اپوزیشن کے لیے سرپرائز ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ اس جلسے کے لیے چندہ دے رہے ہیں اور جو جذبہ قائد اعظم کے ساتھ پاکستان بنانے کے لیے تھا وہی آج ملک بچانے کے لیے دیکھ رہا ہوں۔ جلسے کے لیے خواتین اپنا زیور دے رہی ہیں۔

ججز پر الزامات لگانا اور انگلیاں اٹھانا بند کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ججز پرالزامات لگانا اور انگلیاں اٹھانا بند کریں،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا ججز کو تنخواہ دارملازم کہنا اور الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے،جس شخص سے مسئلہ ہوآکربتائیں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس قاضی امین کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے منعقدہ فل کورٹ ‏ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز انتہائی قابل اور پروفیشنل ہیں۔ ‏
ججز تعیناتی کیلئے طریقہ کار متفقہ طور پر وضع کیا جا رہا ہے،ججز کیلئے قابلیت، ‏رویئے، بہترین ساکھ اور بغیر کسی خوف و لالچ کا معیار رکھا ہے،ججزعدالتی وقت ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹے تک مقدمات سنتے ‏ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ججز اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، ہم سب اللہ کوجواب دہ ہیں، عوام میں ‏جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ صرف میڈیا کیلئے ہے، کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں ‏بنایا جا سکتا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیارہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے،صدرسپریم ‏کورٹ بارکس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ 20 سال سے بنچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں ‏بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں؟ ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی بہترین افسران میں ‏سے کرتے ہیں،رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ‏ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ کونسا مقدمہ مقرر ہونا ہے اور جس بنچ ‏میں مقرر کرنا ہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ججز خود پر لگے الزامات ‏کا جواب نہیں دے سکتے، سنی سنائی باتوں پر سوشل میڈیا پر الزامات نہ لگائے جائیں، ‏فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں،مفید علم کی بات کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ‏یہ گفتگو کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن دل میں آئی بات کردی،میرے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں،ہمیں ادارے کی ‏باتیں باہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی،گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے، ہم تو ‏برادری کی بات بھی باہر نہیں کرتے ہیں۔

لکی مروت میں خاتون نے ایمبولینس میں 3 بچوں کو جنم دے دیا

پشاور: (ویب ڈیسک) لکی مروت میں اسپتال جاتے ہوئے خاتون نے ایمبولینس کے اندر ہی 3 بچوں کو جنم دے دیا۔
پشاور کی تحصیل نورنگ کی رہائشی خاتون کو نورنگ اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ خاتون نے راستے میں ہی ایمبولینس میں تین بچوں کو جنم دے دیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق تینوں نومولود تندرست اور صحت مند ہیں جب کہ والدہ کی طبعیت بھی ٹھیک ہے جب کہ والدین نے بچوں کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔