All posts by Khabrain News

ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا: وزیراعظم کا استعفی نہ دینے کا اعلان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی صورت استعفی نہ دینے کے عزم کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہے میں گھر بیٹھ جاؤں گا، ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا، چودھری نثار سے ملاقات ہوچکی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔
صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، نیوٹرل والی بات اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے تناظر میں کی، فضل الرحمان سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے، فضل الرحمان کے اب ٹیم سے باہر ہونے کا وقت ہو گیا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے فوج کو بدنام نہ کیا جائے ، فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے، مضبوط فوج ملک کی ضرورت ہے، فوج کو غلط تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرپرائز کارڈ ابھی باقی ہیں، اپوزیشن کو صبح معلوم ہو گا کہ ان کے کتنے لوگ انکے ساتھ نہیں ہیں ، شہباز شریف کے ساتھ بیٹھ کر اپنی توہین کروں، ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے ارکان کی خرید نہیں کی ، شہباز شریف کرپشن کا برینڈ ہے، نواز شریف نے صحافیوں کو لفافے دینا شروع کیا، نواز شریف پریس کانفرنس بھی نہیں کرسکتا تھا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ عدم اعتماد والا میچ ہم جیتیں گے، کیا لڑائی سے پہلے ہاتھ کھڑے کردوں، کیا چوروں کے دبائو پر استعفی دے دوں۔ کسی صورت استعفی نہیں دوں گا، کسی غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ گھر بیٹھ جائوں گا، چودھری نثار سے 50 سال پرانا تعلق ہے۔ چودھری نثار سے ملاقات ہوئی ہے۔ ن لیگ اور پی پی کی سیاست چوری اور چوری چھپانا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو پیسے کی آفر ہوئی، پیشکش آنے کے بعد ہمارے بھی سارے ارکان کوپتہ چل گیا کیا ریٹ چل رہا ہے، 15ارب میں سب کو خرید سکتا تھا، کشمیر ،گلگت بلتستان سمیت تین صوبوں میں میری حکومت ہے، نواز شریف نے بینک لوٹ کر پیسہ بنایا، اپنے پہلے دور اقتدار میں نواز شریف نے من پسند بینک سربراہ لگائے، نواز شریف نے بینکوں سے قرض لے کر واپس نہیں کیا ، سابق وزیراعظم نے چوری کے پیسے سے ملیں لگا لیں، کیا آپ 20 لوگ خرید کر حکومت گرا دیں گے۔
صحافی نے سوال کیا کہ آپ بلیک میل کیوں نہیں ہوتے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ میری ذات کا نہیں، اس لیے میں بلیک میل نہیں ہوتا، ہر حکمران جماعت سے لوگ ناراض ہوتے ہیں، وزیر نہ بن سکنے والوں کی ناراضی ہوتی ہے، 5 ورلڈ کپ کھیلا، 1992 میں کہا کہ اس بار جیت کر آئوں گا، پہلے بتا رہا ہوں عدم اعتماد والا میچ بھی جیتوں گا، قومی مجرموں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔

پشین: پانی کے جوہڑ میں دو بھائیوں سمیت تین بچے ڈوب کر جاں بحق

کوئٹہ: (ویب ڈیسک) پشین کے علاقے سرانان کیمپ میں پانی کے جوہڑ میں دو بھائیوں سمیت تین بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
لیویز حکام کے مطابق یارو لیویز نے تینوں لاشوں کو نکال کر سول اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کی جائے گی۔
جاں بچوں میں تین سالہ ہدایت، 5 سالہ عبدالوہاب اور 6 سالہ محمد خالد شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا۔
سپریم کورٹ نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ بار کی پٹیشن اور آرٹیکل 63اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2رکنی بینچ نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، ریڈ زون میں حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کے متعلق سپریم کورٹ بار کی پٹیشن اور صدارتی ریفرنس پر21مارچ کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
5صفحات پر مشتمل آرڈر میں عدالت نے قرار دیا کہ اسپیکر کی طرف سے وقت پر اسمبلی اجلاس نہ بلانے جیسے معاملات میں آئین کے تحت پارلیمنٹ خود دادرسی کرسکتی ہے، سپریم کورٹ بار اور سیاسی جماعتوں کے وکلا نے اسپیکر کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس14 دن کے اندر نہ بلانے کی آئینی پابندی کو نظر انداز کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن فی الوقت اس نکتے کو نہیں اٹھائیں گے کیونکہ یہ معاملہ آئینی تشریح کا متقاضی ہے اور اس ضمن میں عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس زیر سماعت ہے۔
عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ بار کی طرف سے 5 گزارشات کا جائزہ لیا گیا۔ 4 گزارشات کی حد تک اٹارنی جنرل نے دو ٹوک بیان دیا کہ وفاقی حکومت کسی رکن قومی اسمبلی بشمول تحریک انصاف کے اراکین کو اجلاس میں شرکت اور ووٹ ڈالنے سے روکے گی نہ رکاوٹ ڈالے گی اور نہ ہی مداخلت کرے گی لیکن پانچویں گزارش کا معاملہ صدارتی ریفرنس سے جڑا ہے، اس لیے دونوں معاملات کو ایک ساتھ سنا جائے گا۔
عدالت نے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ بار اور سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرکے 24 مارچ تک جامع جواب جمع کرنے کی ہدایت کی۔ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ حکمران جماعت کی اتحادی جماعتوں کو نوٹس جاری نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ وہ وفاقی حکومت کا حصہ ہیں لیکن اگر وہ فریق بننا چاہتی ہیں تو وکیل کے ذریعے ان کو سنا جائے گا۔
دوران سماعت متعدد سیاسی جماعتوں کی طرف سے ریڈزون میں ریلی نکالنے اور ملک بھر سے کارکنان کو جمع ہونے کے اعلانات پر خدشات کا اظہار کیا گیا لیکن اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر طریقہ کار نکالنے اور جگہ کے تعین کرنے کی تجویز دی۔
بیشتر جماعتوں نے تجویز کے ساتھ اتفاق کیا جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی نے تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا اس طرح کی میٹنگ نتیجہ خیز بھی ہوگی تاہم مذکورہ جماعتوں کے وکلا نے یقین دلایا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کو شش کریں گے کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو۔ اٹارنی جنرل کی تجویز قابل عمل ہے، اس لیے ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں میں میٹنگ کا اہتمام کریں۔
دریں اثنا آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہائوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگااور مقدمات کی پیروی کی جائے گی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے درج کیے گئے مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ اگر صوبائی حکومت کیس میں شریک ہونا چاہتی ہے تو اس پر غور کیا جائے گا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے تحفظات دور کرنے اور اس ضمن میں قانون کے مطابق اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے لیکن وقت کی کمی بھی ہے اس لیے سیاسی جماعتوں کے وکیل جمعرات 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں، اس طرح زبانی دلائل جلد مکمل ہوسکیں گے۔
اے پی پی کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل ریڈ زون سے جلسے باہر کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں۔ قومی اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلانے پر عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں، عدالت کے سامنے صرف بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ہے، عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ کے اندر حل کئے جائیں۔

پتوکی میں باراتیوں کے تشدد سے پاپڑ فروش کے قتل کے بعد شادی ہال سیل

پتوکی: (ویب ڈیسک) باراتیوں کے مبینہ تشدد سے پاپڑ فروش کے جاں بحق ہونے کے کیس میں پیش رفت ہوگئی۔
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے نوٹس کے بعد پتوکی انتظامیہ متحرک ہوگئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ایکشن لیتے ہوئے شادی ہال کو سیل کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر مقتول کے گھر بھی پہنچے اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متاثرہ فیملی کو انصاف کی یقین دہانی کرائی اور مالی امداد کا وعدہ بھی کیا
واضح رہے کہ پتوکی میں شادی ہال میں باراتیوں کے مبینہ تشددسے محنت کش ہلاک ہوگیا تھا۔ اس واقعے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ شادی ہال میں مقتول کی لاش پڑی رہی اور مہمان بے حسی سے کھانا کھاتے رہے۔ پولیس ٹیموں نے کارروائی کرکے 12افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایسا ملک بنائیں گے جہاں تمام ادارے حکومت و پارلیمنٹ کے تابع ہوں، متحدہ اپوزیشن

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) یوم پاکستان پر متحدہ اپوزیشن نے ’قوت اخوت عوام چارٹر‘ جاری کردیا۔
اپوزیشن نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنا کرایسا پاکستان تشکیل دیں گے جہاں آئین کی حرمت مقدم ہو، تمام ادارے ایک منتخب انتظامیہ اور پارلیمنٹ کے تابع ہوں گے، عوام کو یہ اختیار حاصل ہو گا وہ اپنے آزادانہ حق رائے دہی کے ذریعہ انہیں منتخب اور رخصت کر سکیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات کو نافذ کیا جائیگا، سیاست سے ہر قسم کی غیر جمہوری مداخلت ختم کریں گی، میڈیا پہ عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں گی اور کالے میڈیا قوانین ختم اور غیر جمہوری مداخلت کا نظام بند کروائیں گی۔
متحدہ اپوزیشن نے یقین دلایا کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے، شفاف احتساب کے لئے غیر جانبدارانہ ادارہ قائم کرکے کرپشن کا سدباب کیاجائے گا آزادخارجہ پالیسی کے ذریعہ ایک باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پہ عالمی سطح پر پاکستان کو منوایاجائے گا۔

صحافی کے ساتھ بدسلوکی پر سلمان خان عدالت طلب

ممبئی: (ویب ڈیسک) صحافی کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر بالی ووڈ کے سلومیاں کو عدالتی ثمن جاری ہوئے ہیں۔
سلو میاں اور عدالتی کیسز کا چولی دامن کا ساتھ لگتا ہے۔ 1998 میں کالے ہرن کے شکار کے کیس سمیت متعدد عدالتی کیسز کا سامنا کرنے والے بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان کو ایک اور قانونی جنگ کا سامنا ہے۔
بھارتی نیوز ایجنسی نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سلمان خان نے ایک صحافی اشوک پانڈے کے ساتھ مبینہ طور پر بدتمیزی کی، جس کی وجہ سے ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ کورٹ نے اداکار کو ثمن جاری کیا ہے۔
مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ثمن کے مطابق سلو میاں کو صحافی کی جانب سے 2019 میں دائر کیے گئے مقدمے میں 5 اپریل کو عدالت طلب کیا گیا ہے۔ سلمان خان پر انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 504 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسری طرف راجستھان ہائی کورٹ نے پیر کو سلمان خان کے خلاف کالے ہرن کے شکار کے مقدمے کی دو درخواستوں کو جودھ پور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جس میں اداکار کے خلاف ایک سماعت پہلے ہی زیر التوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سلمان خان نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں ان دونوں درخواستوں کو ہائی کورٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ تینوں مقدمات کی سماعت ایک جگہ پر ہو۔

’’کیا ہم زندہ قوم ہیں‘‘ باراتیوں کے تشدد سے پاپڑ فروش کی ہلاکت پر فنکار بھی غمزدہ

کراچی: (ویب ڈیسک) پتوکی میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے پاپڑ فروش کے جاں بحق ہونے پر فنکاروں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
پتوکی میں حال ہی میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش پاپڑ فروش کی ہلاکت کا نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے کا سب سے افسوناک پہلو یہ تھا کہ شادی ہال میں غریب پاپڑ فروش کی لاش پڑی رہی اور مہمان بے حسی سے کھانا کھاتے رہے۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد فنکاروں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بے حسی کے اس مظاہرے پر قوم سے سوال پوچھا ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں؟
اداکار بلال قریشی نے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کراتے ہوئے کہا معذرت کے ساتھ یہ دیکھنے کے بعد مجھ میں جرات نہیں آپ کو یوم پاکستان کی مبارکباد دوں۔ ہمیں شرم آنی چاہئے۔ کیا ہم واقعی ایک زندہ قوم ہیں؟
اداکار فہد شیخ نے بھی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کراتے ہوئے بے حس لوگوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج سچ میں نفرت ہوگئی ہے او میرے اللہ فنا کردے بس۔
واضح رہے کہ واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے نوٹس کے بعد پتوکی انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ایکشن لیتے ہوئے شادی ہال سیل کردیا ہے جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

روسی صحافی کا پناہ گزینوں کے لیے نوبیل انعام میڈل نیلام کرنے کا فیصلہ

ماسکو: (ویب ڈیسک) یوکرین پر روس کے حملے کے بعد دنیا بھر میں اس کی مذمت اور ردِ عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اب روس کے نوبیل یافتہ صحافی نے نوبیل انعام میں ملنے والے میڈل کو فروخت کرکے رقم یوکرینی پناہ گزینوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نووایا گزیٹا نامی اخبار کے مدیر دمیتری مروادوف کہتے ہیں کہ اب یوکرین کے ’زخمی اور بیمار‘ بچوں کو دیکھا نہیں جاتا۔ اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ نوبیل انعام کا تمغہ نیلام کرکے اس کی رقم ایک خیراتی فاؤنڈیشن کو دیں گے جو یوکرینی پناہ گزینوں کی مدد کررہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے فوری جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی راہداری پربھی زور دیا۔
دمیتری مرادوف نے 1993 میں اپنے اخبار کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کی صاف گوئی روسی حکومت پر تنقید کی بنا پر دمیتری کو 2021 میں امریکی صحافی کے ساتھ امن کا نوبیل انعام ملا تھا۔ بالخصوص انہوں نے عسکری اداروں کی بدعنوانی پر اپنا مؤقف پرزور انداز میں پیش کیا تھا۔ لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ حکومت انہیں جنگ مخالف اور یوکرین کی حمایت میں مضامین اور خبریں شائع کرنے سے روک رہی ہے اور ان پر شدید دباؤ ہے۔

کینسرخلیات کو روشن کرکے دکھانے والی نئی ایم آر آئی ٹیکنالوجی

ٹورانٹو: (ویب ڈیسک) سرطان کے علاج میں کینسر زدہ ٹشو اور خلیات کی نشاندہی سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ اب میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (ایم آرآئی) کی تبدیل شدہ ٹیکنالوجی سے دیگر تندرست حصوں کے مقابلے میں ہم سرطانی خلیات کو زیادہ روشن اور واضح دیکھ سکتے ہیں۔
کینیڈا کی واٹرلویونیورسٹی کی اس اختراع میں ایم آرآئی تصاویر میں سرطانی حصے قدرے واضح اور روشن دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کا دل و دماغ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہے جسے ایلیگزینڈر وونگ نے دیگرماہرین نے وضع کیا ہے۔
تندرست خلیات کے مقابلے میں پانی سرطانی خلیات سے مختلف انداز میں گزرتا ہے۔ عکس کشی کے اس نئے طریقے کو ’سنتھیٹک کورریلٹڈ ڈفیوژن امیجنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں مختلف اوقاتِ کاراور زاویوں سے لی جانے والی تصاویر کو مختلف شدتوں پر دیکھتے ہوئے ان کی مکسنگ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں مصنوعی ذہانت بھی اپنا کام کرتی رہتی ہے۔
اس ضمن میں مختلف ہسپتالوں کے 200 مریضوں کا جائزہ لیا گیا جو پروسٹیٹ کینسرمیں مبتلا تھے۔ روایتی ایم آرآئی کے مقابلے میں سنتھیٹک کوریلٹڈ ڈیفیوژن امیجنگ بہت مؤثر ثابت ہوئی ۔ اس سے کینسر کے خلیات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر اور ریڈیالوجسٹ دونوں کو اصل مرض کی شناخت میں بہت آسانی ہوسکتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ اشعاعی عمل (ریڈی ایشن تھراپی) سے اطراف کے تندرست خلیات بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ادویہ پہنچانے کےلیے بھی کینسروالے خلیات کی درست نشاندہی بہت ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرطان کے علاج میں کینسر زدہ مقامات تک رسائی اب تک ایک بڑا چیلنج ہے۔
پروسٹیٹ کینسر دنیا بھر کے مردوں میں عام ہے اور غریب ممالک میں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسی طریقے کو بریسٹ کینسر پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں اور ماہرین نے اسے ٹیکنالوجی کو انقلابی اور گیم چینجر قرار دیا ہے۔

خبردار! ہیکرز نے یوزر نیم اور پاس ورڈ چوری کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

سلیکان ویلی: (ویب ڈیسک) سائبر سیکیورٹی کے یوٹیوب چینل ’’انفینیٹ لاگنز‘‘ نے اپنی تازہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ’’فشنگ‘‘ (phishing) کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے جسے ’’براؤزر اِن دی براؤزر‘‘ (BitB) کہا جاتا ہے۔
یہ ویڈیو سائبر سیکیورٹی ماہرین کےلیے ہے جس میں ’’مسٹر ڈاکس‘‘ (mr.d0x) نامی ایک وائٹ ہیٹ ہیکر کے حوالے سے ’’بِٹ بی‘‘ (BitB) طریقے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
انفینیٹ لاگنز، مسٹر ڈاکس اور آرس ٹیکنیکا پر اس بارے میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق، یہ نیا طریقہ اس قدر شاطرانہ ہے کہ ایک سمجھدار اور ہوشیار رہنے والا انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا سکتا ہے۔
’’بِٹ بی‘‘ کا انحصار ’’تھرڈ پارٹی لاگ اِن‘‘ پر ہے جو آج دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس استعمال کررہی ہیں۔
تھرڈ پارٹی لاگ اِن میں آپ کو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہونے کےلیے علیحدہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے موجودہ گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ کی تصدیق کرواتے ہوئے اس ویب سائٹ پر لاگ اِن ہوسکتے ہیں۔
اس مقصد کےلیے ’’او آتھ‘‘ (OAuth) نامی اوپن پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن کےلیے گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ وغیرہ کی خودکار، فوری اور محفوظ تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
’’بِٹ بی‘‘ طریقے کے تحت ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگویج (HTML) میں کاسکیڈنگ اسٹائل شیٹ (CSS) نامی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے، تھرڈ پارٹی لاگ اِن کےلیے ایک ایسی پاپ ونڈو بنائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصل تصدیقی (آتھورائزیشن) ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس ونڈو کی ایڈریس بار میں یو آر ایل بھی بالکل اصل دکھائی دیتا ہے جیسے کہ accounts.google.com وغیرہ۔
ایک اچھا خاصا سمجھدار انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اس تھرڈ پارٹی لاگ اِن ونڈو میں اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ لکھ کر اینٹر کردیتا ہے… اور اس طرح وہ لاعلمی میں اپنی اہم ترین معلومات کسی نامعلوم ہیکر کو فراہم کردیتا ہے۔
آرس ٹیکنیکا کی متعلقہ پوسٹ میں سیکیورٹی ایڈیٹر ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ کو پہچاننے اور اس سے بچنے کےلیے کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ میں نمودار ہونے والی لاگ اِن ونڈو علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ’’براؤزر کے اندر براؤزر‘‘ ونڈو ہوتی ہے جو بظاہر ایک الگ اور اصلی لاگ اِن ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
یہ لاگ اِن ونڈو اصلی ہے یا نقلی؟ اگر وہ دائیں بائیں حرکت دینے پر اپنی جگہ سے ہل رہی ہے تو وہ جعلی لاگ اِن ونڈو ہے کیونکہ اسے ’سی ایس ایس‘ کی مدد سے ظاہری طور پر ایسی شکل دی گئی ہے۔
ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ پہچاننے کا جو دوسرا طریقہ بتایا ہے، وہ کچھ مشکل ہے۔
اس میں آپ کو لاگ اِن ونڈو پر رائٹ کلک کرکے inspect سلیکٹ کرنا ہوگا، جس کے بعد نمودار ہونے والی انسپکشن ونڈو میں لکھی عبارت (ٹیکسٹ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا، جہاں اِن پُٹ کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ محفوظ کرنے کےلیے کسی نامعلوم ویب سائٹ کا ایڈریس درج ہوگا۔
اس طرح آپ کو خود ہی اس جعلی لاگ اِن ونڈو کی حقیقت کا پتا چل جائے گا۔
ان کے علاوہ، آپ چاہیں تو آزمائش کی غرض سے اس لاگ اِن ونڈو میں غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ اینٹر کیجیے۔ اگر یہ اصلی ہوگی تو غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ کا پیغام دے گی، لیکن جعلی لاگ اِن ونڈو انہیں ’’درست‘‘ کے طور پر قبول کرلے گی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک فشنگ کے بیشتر حملوں کو پہچاننا بہت آسان ہوا کرتا تھا لیکن ’’بِٹ بی‘‘ طریقہ بہت پیچیدہ ہے جس سے بچنے کےلیے صارفین کو تصدیق کے متبادل طریقوں سے بھی باخبر رہنا ہوگا؛ اور اکثر صارفین سہل پسندی میں ایسا نہیں کرتے۔
مسٹر ڈاکس کے مطابق، فشنگ کا نیا طریقہ اگرچہ کچھ ہفتے پہلے ہمارے علم میں آیا ہے لیکن ہیکرز اسے غالباً 2020 سے استعمال کررہے ہیں۔