All posts by Khabrain News

کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران کبھی کبھی تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 20ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ہوا میں نمی کا تناسب 51 فیصد ہے اور شمال مشرق سے ہوائیں 20کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

سکھس فار جسٹس کا بورڈ آف پیس کیلئے ایک ارب ڈالر کا اعلان

امریکہ بھر سے سینکڑوں سکھ برادری کے ارکان واشنگٹن ڈی سی میں جمع ہوئے تاکہ امن، اتحاد اور سیاسی مطالبات کیلئے آواز بلند کریں، غزہ کی طرح خالصتان کو بھی ایک حل طلب سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے سفارتی اور جمہوری حل پر زور دیا جا رہا ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے یہ واضح مطالبہ بھی رکھا گیا کہ مودی سے براہِ راست بات کی جائے کہ بھارتی زیر قبضہ پنجاب میں امریکی محکمہ خارجہ کی نگرانی میں آزادی ریفرنڈم کروایا جائے۔

سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپتوانت سنگھ پنوُن نے کہا کہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی سکھ نوجوانوں کو مبینہ جعلی مقابلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، 11,000 سے زائد سکھ نوجوان سیاسی عقائد کی بنیاد پر گرفتار اور گینگسٹر کے طور پر لیبل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی خونریز مقابلے سے پہلے صدر ٹرمپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایک پرامن، جمہوری حل کیلئے نگرانی شدہ ریفرنڈم کروایا جائے، ہمارا مقصد بورڈ آف پیس کا ممبر بن کر پنجاب کو بھارت سے آزاد کرانا ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ ہم بھارت سے جمہوری اور پر امن طریقے سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکی سیاست میں خالصتان کے مطالبے کو اجاگر کرنے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کی ایک مؤثر کوشش ہے، اگرچہ اس سے بھارت-امریکہ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، مگر مقصد تشدد سے بچتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

نجی طور پر اطمینان اور عوام میں شکوک کا اظہار، عمران کے طبی معائنے کی اندرونی کہانی

اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور علاج کو دانستہ طور پر سیاسی تنازع بنا دیا گیا، حالانکہ اُن کی جماعت کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹروں، حتیٰ کہ اُن کے ذاتی معالج کی جانب سے بھی مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، شوکت خانم اسپتال سے وابستہ عمران خان کے اپنے ذاتی معالج اس معائنے اور علاج سے اس قدر مطمئن تھے کہ اُن میں سے ایک نے چیک اپ کرنے والے ڈاکٹرز سے کہا کہ ’’آپ نے تو کمال کر دیا۔‘‘

تاہم، اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے کے مطابق علیمہ خان اس تمام صورتحال پر ناخوش تھیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق، گزشتہ پمز اسپتال کی میڈیکل ٹیم کے دو ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نامزد ڈاکٹر ندیم قریشی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی چیئرمین کا مفصل طبی معائنہ کیا۔

معائنے کے بعد سینئر اپوزیشن رہنماؤں، جن میں علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر علی خان شامل تھے، کو پمز میں بریفنگ دی گئی۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے دو معالجین ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر عاصم یوسف (جنہیں عمران خان اور اہل خانہ کا معتمد سمجھا جاتا ہے) کے درمیان 45 منٹ پر مشتمل اسپیکر فون مشاورت کا اہتمام کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، اس مکمل گفتگو کو متعدد شرکاء نے سنا اور باقاعدہ طور پر اس کی کارروائی مرتب کی گئی، جس کا ریکارڈ دونوں فریقین کے پاس موجود ہے۔ کال کے دوران شوکت خانم کے ڈاکٹروں نے معائنے اور علاج کے طریقہ کار پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، کارروائی میں درج نکات کے تحت لاہور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ڈاکٹروں نے علاج کو ’’حوصلہ افزا اور تسلی بخش‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’’درسی کتاب کے مطابق معائنہ اور علاج‘‘ کہا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے معائنہ کرنے والی ٹیم کو سراہا اور کیس کو کامیابی سے دیکھنے پر مبارکباد بھی دی۔

ڈاکٹر عاصم یوسف نے ’’عمران خان کے اہلِ خانہ کی جانب سے‘‘معالجین کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ طبی انتظامات پر تنقید نہیں کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ ڈاکٹروں نے متعدد سوالات اٹھائے اور مریض کی رضامندی سے انہیں میڈیکل سمری، ٹیسٹ رپورٹس اور علاج سے متعلق ریکارڈ تک رسائی دی گئی۔ گفتگو میں عمران خان کی صحت کے تمام پہلوؤں پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا، حتیٰ کہ کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافے کا بھی ذکر کیا گیا۔

سفارشات سے متعلق سوال پر پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر رائے دی کہ فوری مداخلت کی ضرورت نہیں اور اگلے معائنے پر دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ پمز کے ایک سینئر معالج ڈاکٹر عارف نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سے قبل عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو کسی ماہر کے ذریعے مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اسی نوعیت کے انجکشن ایک ہزار سے زائد مریضوں کو لگا چکے ہیں اور اس حوالے سے انہیں بھرپور تجربہ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی اور پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے نجی محفلوں میں صورتحال کو ’’تسلی بخش‘‘ قرار دیا۔

تاہم، اگلی صبح معاملہ اُس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گیا جب ڈاکٹر عاصم یوسف نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ بعض تفصیلات کی تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تردید، کیونکہ انہوں نے عمران خان کو خود نہیں دیکھا، جس سے طبی جائزے کے بارے میں ابہام پیدا ہوا۔

مشاورت کے دوران اطمینان کے اہار کی اطلاعات کے باوجود، پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج اور دھرنوں کی منصوبہ بندی جاری رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ اپوزیشن کے متعدد سینئر رہنما، جن میں محمود خان اچکزئی بھی شامل ہیں، ڈاکٹروں کے جائزے سے آگاہ تھے۔

ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ سابق وزیرِ اعظم کی بہن علیمہ خان نے معاملات کو نرم کرنے میں مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ ڈاکٹروں اور اپوزیشن قیادت سے سخت مؤقف برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق، جب بعض رہنماؤں نے طبی نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا تو یہ بات بھی انہیں ناگوار گزری۔

ایک احتجاجی دھرنے کے دوران کشیدگی اُس وقت نمایاں ہوئی جب مبینہ طور پر علیمہ خان اور اُن کی بہنوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے روایتی استقبال سے گریز کیا، جس کی وجہ یہی معاملہ بتایا گیا۔ اگرچہ مبینہ طور پر مرتب شدہ کارروائی میں طبی اطمینان درج ہے، تاہم بعض پارٹی ارکان یا اہلِ خانہ کے متضاد عوامی بیانات نے غیر یقینی اور بداعتمادی کو ہوا دی ہے

انسانی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب

زیمبیا سے ایتھوپیا کے راستے آنے والے متعدد پاکستانی مسافروں کو مشتبہ سرگرمیوں پر حراست میں لے لیا گیا۔

ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ مذکورہ افراد وزٹ ویزوں پر افریقی ممالک (تنزانیہ/ملاوی) گئے جہاں سے ایجنٹس کے ذریعے غیر قانونی راستوں سے تنزانیہ → زیمبیا → زمبابوے کے ذریعے جنوبی افریقہ بھجوایا گیا۔

انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک میں گجرات، سیالکوٹ اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے ایجنٹس ملوث ہیں جنہوں نے بھاری رقوم (لاکھوں روپے اور ہزاروں امریکی ڈالر) وصول کر کے مسافروں کو غیر قانونی بارڈر کراسنگ پر مجبور کیا۔

دورانِ سفر زیمبیا کے شہر لیونگ اسٹون میں مقامی پولیس نے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیجا۔ سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

مزید انکشاف ہوا کہ بعض ایجنٹس نے جنوبی افریقہ کے بعد اسپین بھجوانے کے نام پر بھی خطیر رقوم طلب کیں اور متاثرین کے اہل خانہ سے اضافی رقوم ہتھیائیں۔

تمام مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان کے نام یہ ہیں:ہارون دانش ،زین العابدین،محمد آفتاب ،عدیل پرویز،علی حمزہ،

پشاور: مہنگائی کا راج برقرار ، رمضان میں منافع خور سرگرم ہو گئے

پشاور میں گزشتہ روز 250 روپے فی درجن میں ملنے والا کیلا 20 روپے اضافے کے بعد 270 ، 710 روپے فی کلو ملنی والی سٹابری 750 روپے فی کلو ہو جبکہ 450 روپے فی کلو میں ملنے والا سیب20 روپے اضافے کے بعد 470 روپے کا ہو گیا ہے۔

مزید براں 600 روپے فی کلو میں ملنے والا قندھاری انار 700 روپے کا ہو گیا، 450 روپے میں ملنے والا مالٹا فی درجن 20 روپے اضافے کے بعد 470 کا ہو گیا، 250 روپے فی درجن میں ملنے والا کینو 20 روپے اضافے کے ساتھ 270 روپے کا ہو گیا جبکہ سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 10 سے 50 روپے فی کلو اضافہ۔

ایک روز قبل 100روپے فی کلو میں ملنے والے ٹماٹر کی قیمت 20 روپے اضافے کے بعد 120 روپے ہو گئی ہے، 600 روپے میں فی کلو ملنے والالہسن بھی 30 روپے اضافے کے 630 روپے ہو گیا، 280 روپے فی کلو میں ملنے والی بھنڈی کی قیمت آج 20 روپے اضافے کے بعد 300روپے ہو گئی جبکہ 60 روپے فی کلو میں ملنے والے پیاز 80 روپے ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق سبز مرچ 10 روپے اضافے کے بعد 100 روپے فی کلو ہو گئی، 60 روپے میں ملنے والے کھیرے آج فی کلو 80 روپے ہو گئے، ادرک 310 روپے سے بڑھ کر فی کلو 350 ہو گئے جبکہ 100 روپے میں ملنے والے مٹر فی کلو 130 ہوگئے ہیں۔

واشنگٹن میں یو اے ای۔امریکہ سفارتی سرگرمی تیز، ”بورڈ آف پیس“ اجلاس منعقد

اجلاس کے موقع پر یو اے ای نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر مزید 1.2 ارب امریکی ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا جس کا مقصد متاثرہ آبادی کو فوری ریلیف اور طویل المدتی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اس امداد میں طبی سہولیات، خوراک، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور دیگر انسانی ضروریات شامل ہوں گی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، دونوں ممالک نے انسانی بنیادوں پر اقدامات اور سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

مبصرین کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی مکالمہ اور انسانی امداد دونوں کو بیک وقت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

ویمنز ایشیاکپ رائزنگ اسٹارز سیمی فائنل: بنگلادیش کا پاکستان کو جیت کیلیے 111 رنز کا ہدف

ویمنز ایشیاکپ رائزنگ اسٹارز کے سیمی فائنل میں بنگلادیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 111 رنز کا ہدف دے دیا۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بنگلادیش کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔

بنگلادیش نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 110 رنز بنائے۔ کپتان فہیمہ خاتون 40 رنز بناکر ناقابل شکست رہیں۔

پاکستان کی جانب سے کپتان حفصہ خالد نے 2 جبکہ وحیدہ اختر، مومنہ ریاست، انوشہ ناصر اور عمائمہ سہیل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

چھ سیاروں کو آپ آسمان پر کب اور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

اگر آپ دوربین کے بغیر کچھ سیارے آسان پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک نایاب اور منفرد خلائی نظارہ آپ کا منتظر ہے۔

فروری کے آخری ہفتے میں آپ 6 سیاروں کو آسمان پر دیکھ سکیں گے۔

اس طرح نظارے کے لیے پلانیٹ پریڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور 6 سیارے رات کے وقت آسمان پر کچھ دنوں تک نظر آئیں گے۔

اس دوران آپ عطارد، مشتری، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کو دیکھ سکیں گے اور نظام شمسی کا بس ایک سیارہ مریخ اس انوکھی پریڈ میں موجود نہیں ہوگا۔

شمالی نصف کرے میں فروری کے آخری ہفتے میں سیاروں کی اس پریڈ کا بہترین نظارہ کیا جاسکے گا۔

البتہ اس کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی کیونکہ زیادہ تر سیارے اس وقت نظر آئیں گے جب سورج مکمل غروب نہیں ہوا ہوگا۔

عطارد اور مشتری تو افق کے نیچے محض 30 سے 45 منٹ تک نظر آئیں گے۔

عطارد، مشتری، زحل اور نیپچون سب مغربی افق پر غروب ہوتے سورج کے قریب ہوں گے۔

عطارد اور زہرہ تو ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہوں گے جبکہ زحل اور نیپچون ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔

اس لیے ان چاروں کو ٹیلی اسکوپ سے دیکھنا کسی حد تک آسان ہوگا۔

مشتری اور یورینس کو آسمان پر تلاش کرنا سب سے زیادہ آسان ہوگا کیونکہ وہ دیگر سیاروں کے غائب ہونے کے بعد بھی آسمان پر موجود ہوں گے۔

یورینس جنوب کی جانب سفر کرے گا اور آدھی رات کے بعد غائب ہو جائے گا۔

مشتری بھی یورینس کے راستے پر موجود ہوگا مگر ذرا دور ہوگا۔

اس پلانیٹ پریڈ کا نظارہ دنیا بھر میں 21 سے 28 فروری کے دوران ممکن ہوگا۔

2026 میں مجموعی طور پر 3 پلانیٹ پریڈز کا مشاہدہ کیا جاسکے گا۔

فروری کے بعد اپریل (5 سیارے) اور پھر اگست (6 سیارے) میں آپ سیاروں کو آسمان پر دیکھ سکیں گے۔

آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 میں کور کمانڈر پشاور کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست

پشاور:

پشاور میں آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کامیابی سے جاری ہے۔

کور کمانڈر پشاور کی آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے طلبہ کیساتھ خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں کور کمانڈر پشاور نے طلبہ سے خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی معاملات اور درپیش چیلنجز پر جامع گفتگو کی۔ 

طلبہ نے پاک فوج کی قربانیوں، پیشہ وارانہ مہارت خصوصاً معرکہ حق میں دشمن کیخلاف جرأت و استقامت کو سراہا،  طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے مثبت بیانیے کے محافظ بن کر قومی مفادات کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ ہمیں کور کمانڈر کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سیکورٹی مسائل پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا، اس نشست کے بعد ہماری خیبرپختونخوا اور قومی معاملات پر فہم و فراست میں اضافہ ہوا ہے۔

طلبہ نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل محاذ پر دشمن کے پروپیگنڈے اور منفی بیانیے کیخلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے، طلبہ نے ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

مصطفیٰ کمال نے عمران خان کی آنکھ سے متعلق سوال پر خاموشی اختیار کرلی

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج بارے میں سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی۔ 

تفصیلات کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کے دوران مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر جو پزیرائی ہوئی اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کی پاکستان پر شب خون مارنے کی کوشش کو ناکام بنایا، پہلی مرتبہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے سب معترف ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کے جنگ جیتنے کی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیت کو تسلیم کیا گیا اور پاکستان نے اپنی برتری کو بہترین طریقے سے مارکیٹ کیا۔

تاہم کسی صحافی کی جانب سے جب بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر صرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات  ہی بات کریں گے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے میرے خیال میں اس کی خبرایک جگہ سے جانی چائیے۔ اس  لئے میں نے اس پر بات نہیں کی اور نہ ہی میں بات کروں گا۔