Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • چین، بھاگنے والی بچی 22 سال بعد اپنے گھر واپس آگئی
    • امریکہ ایران معاہدے پر 24 گھنٹے میں دستخط ہو سکتے ہیں:شہباز شریف
    • تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟ ریلیف پیکج کا اعلان
    • منی پور میں کوکی-میتی تنازعہ شدت اختیار کر گیا،تین سال سے جاری لڑائی میں 260 سے زائد اموات
    • قومی ٹیم کو افتتاحی فیفا آسیان کپ میں شرکت کی دعوت
    • گائنیتھ پیلٹرو کو مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی اپارٹمنٹس کی تشہیر پر تنقید کا سامنا
    • ہنگری پیرش چرچ کی دیوار پر یا اللہ لکھا ہوا ہے
    • آسام کے جورہاٹ میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ کریش
    • علی امین گنڈہ پور کی مبینہ آڈیو لیک تم ناچو تو فیشن ہم ناچیں تو مجرہ
    • بحرین نے محرم سے قبل ایران و عراق سفر پر پابندی عائد کر دی، شیعہ زائرین متاثر
    • برطانیہ عنقریب اسرائیلی مصنوعات پر پابندی لگا نے جارہا ہے
    • اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کیا جانے والا ملک بن گیا
    • غزہ میں فٹبال ٹیموں نے شہید صحافی انس الشریف کی یاد میں میچ کھیلا
    • فیفا ورلڈکپ: میزبان امریکا کا پیراگوئے کو شکست دے کرفاتحانہ آغاز
    • دبئی ائیرپورٹ ، لاوراث سوٹ کیس سے چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد
    • امریکا: 30 گھنٹے طویل مقابلے کے بعد مفرور ملزم ہلاک
    • ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افتتاحی میچ میں میزبان انگلینڈ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا
    • راولپنڈی،گھر کے اندر زور دار دھماکا، 6 افراد زخمی
    • اسپیس ایکس آئی پی او کا امریکی بازاروں میں آغاز، مسک دنیا کا پہلا کھرب پتی بن گیا
    • امن معاہدہ طے,وزیراعظم نے حتمی متن کا باضابطہ اعلان کر دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سکولوں و کالجوں میں نئے دور کا مہلک ترین نشہ ” آئس پوڈر “

    By Daily Khabrainمارچ 14, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (خصوصی رپورٹ) خفیہ طریقے سے قائم پوشیدہ لیبارٹریز میں آئس نامی نشہ تیار کرکے ملک بھر میں فروخت کیا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں اور گلیوں میں پھیلائے جانے والے اس نشے کی لعنت میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جھاڑی نما مخصوص قدرتی پودوں اور درختوں سے حاصل کئے جانے والے میتھافیٹامائن نامی کیمیکل کے جز سے آئس نامی نشہ تیار کیا جاتا ہے۔ اب یہ نشہ پاکستان کی درسگاہوں تک آئس کی صورت میں پہنچ گیا ہے۔ طلباءو طالبات اور مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی بڑی تعداد اس نشے کی لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں۔ بروف سے مشابہت رکھنے والا آئس نامی نشہ میتھافیٹا مائن ہائڈروکلورائیڈ کے جز میں مختلف زہریلے کیمیکلز کی ملاوت سے تیار کیا جاتا ہے جو کہ الام آباد‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ لاہور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں کھلم کھلا فروخت کیا جارہا ہے اور اس نشے کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد میں چرس‘ شراب اور کوکین کا نشہ کرنے والے بھی شامل ہورہے ہیں کیونکہ بغیر بدبو والے اس نشے کی یہ خاصیت بھی ہے کہ اسے سگریٹ کے ذریعے عوامی مقامات پر بآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی میں آئس نشے کی فروخت کرنے والے میں مخصوص ملازمین بھی شامل ہیں تاہم ان تعلیمی اداروں کی جانب سے اس امر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس حوالے سے پولیس کے ذمہ دار افسر نے بتایا کہ کراچی جوہر آباد تھانے کی ایک مہم نے چھ مارچ کو غریب آباد کے علاقے میں چھاپے مار کر عامر عرف بھیو کے نامسے شہرت رکھنے والے شخص کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پل کے نیچے نشے کی پڑیاں بیچن کے لئے موجود تھا۔ دوران چھاپہ ملزم سے درجنوں آئس پاﺅڈر کی پڑیا برآمد کی گئیں بعدزاں گرفتار ملزم کی نشاندہی پر ذاکر نامی منشیات فروش کو بھی راتوں رات گرفتار کرک آئس پاﺅڈر برآمد کیا گیا جبکہ اس گروپ کے دیگر ساتھیوں میں ایک نام عدنان عرف انکل کا بھی شامل ہے۔ اس نشے کو پھیلانے والوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں تاہم انہوں نے گرفتار ملزمان کے درست ناموں اور تعداد کی تصدیق نہیں کرائی مگر ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ عامر بھیو کے نام سے مشہور نشہ فروش جامعہ کراچی کا ملازم ہے۔ پولیس ذرائع نے واضح کیا کہ آئس نامی نشہ فروشی کا سلسلہ کراچی میں برسوں سے جاری ہے۔ یہ گروپ کراچی کے مختلف مقامات پر مخصوص اوقات میں نشہ فروخت کرنے اور نشئی لڑکیوں کی عصمت دری بھی کرتا رہا ہے۔ عامر کے نام سے پہچانے جانے والا آئس نشہ فروش غریب آباد بندھائی کالونی کا رہائشی ہے جو جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی بآسانی رسائی رکھنے کی وجہ سے متعدد طلبا و طالبات کو اس نشے میں مبتلا کرچکا ہے جبکہ اس کا دوسرا ساتھی ذاکر نیو کراچی سندھ گورنمنٹ ہسپتال کے سامنے جیو موبائل مارکیٹ کے چاروں اطراف گھومتے پھرتے آئس نشے کی پڑیا فروخت کرتا تھا۔ ذرائع نے اس گروپ کے تیسرے رکن کی پہچان عدنان عرف انکل بتائی ہے۔ جس کا ٹھکانہ کراچی کراچی ٹبا ہسپتال کے قریب تھا۔ اس گروپ کے مختلف کارندے گلشن اقبال ڈسکو بیکری سمیت کراچی کے مختلف مقامات پر آئس نشہ کرتے ہیں بلکہ موبائل فون پر خریداروں کو ان کی سہولت کے مطابق نشہ سپلائی کیا جاتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سہراب گوٹھ‘ لیاری‘ نیو کراچی و دیگر گنجان آباد علاقوں میں اس نشہ کو تیار کرنے کی غیرقانونی لیبارٹریوں کی موجودگی کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ 2012ءمیں کراچی ڈی ایچ اے میں واقع ایسی ایک غیرقانونی لیبارٹری جہاں آئس نشہ تیار کیا جاتا تھا اچانک دھماکہ کی وجہ سے منظرعام پر آئی تھی۔ یہی حال لاہور اور پشاور کا ہے‘ جہاں اسی طرز کے مختلف گروپس نے علاقائی سطح پر خفیہ لیبارٹریز قائم کر رکھی ہیں جہاں آئس نشہ کو تیار کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ علاقائی سطح پر غیرقانونی لیبارٹریوں میں تیار ہونے والا نشہ دوسرے درجے کا ہے‘ جہاں سے تیارکردہ آئس نشے کی ایک پڑیا ایک ہزار سے 2ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ اصل تیارکردہ آئس نشے کی ایک پڑیا 5سے 10ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ اس نشے کی خاصیت ہے کہ اسے استعمال کرنے والا مسلسل 4روز جاگ سکتا ہے‘ اسی لئے بیشتر طلباءامتحانات کی تیاری کیلئے آئس نشے کا استعمال کرتے ہیں۔ آئس نشے کی بنیاد میتھافینامن ہے جسے وزن گھٹانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے‘ مگر اس کے استعمال کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 1920ءمیں جرمنی نے اس کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج دریافت کیا‘ 1930ءتک دمہ‘ بخار اور سردی کے بچاﺅ کیلئے استعمال ہوا۔ 1950ءکے ادوار میں امریکہ نے میتھاڈرین کی گولیاں بنانا شروع کیں جس کے بعد طلبائ‘ ٹرک ڈرائیور اور کھلاڑی اس کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ 1970ءمیں اس کے انجکشن مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔ پانی اور الکحل میں فوری حل ہونے والی میتھافینامن سے تیارکردہ آئس نشے کا استعمال مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ سگریٹ کو تمباکو سے آدھی خالی کرنے کے بعد درمیان میں آئس پاﺅڈر کو ڈال کر پینے یا پھر پائپ کے ذریعے ناک سے دماغ پر چڑھانا اور جلا کر پینے کے علاوہ انجکشن سے بھی اس نشے کو جسم میں داخل کیاجاتا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں ڈرگ سپلائزر کے خلاف سپیشل کریک ڈاﺅن شروع کرتے ہوئے اب تک 12ملزمان گرفتار کئے ہیں۔ اس کے باوجود ملک بھرکے تعلیمی اداروں‘ بازاروں میں آئس نشے کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے جس کی اصل ذمہ دار علاقائی پولیس سمجھی جاتی ہے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    امریکہ ایران معاہدے پر 24 گھنٹے میں دستخط ہو سکتے ہیں:شہباز شریف

    تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟ ریلیف پیکج کا اعلان

    علی امین گنڈہ پور کی مبینہ آڈیو لیک تم ناچو تو فیشن ہم ناچیں تو مجرہ

    تازہ ترین

    تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟ ریلیف پیکج کا اعلان

    آسام کے جورہاٹ میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ کریش

    فیفا ورلڈکپ: میزبان امریکا کا پیراگوئے کو شکست دے کرفاتحانہ آغاز

    دبئی ائیرپورٹ ، لاوراث سوٹ کیس سے چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد

    ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افتتاحی میچ میں میزبان انگلینڈ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.