وزارت عظمیٰ کے متوقع امیدوار

سیالکوٹ(بیورو رپورٹ) وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہیں ¾کوئی وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہا ہے ¾ کوئی انتخابات کے خواب دیکھ رہا ہے ¾جے آئی ٹی رپورٹ مضحکہ خیز ہے ¾ ہم عدالت میں سرخرو ہونگے ¾ دھرنے دینے والوں کو پہلے کی طرح اب بھی مایوسی کا سامنا کر نا پڑیگا ¾نوازشریف کسی کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دینگے ¾ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کر دار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ¾ ایک پارٹی کے ارکان استعفے واپسی کی بھیک مانگتے ہوئے اسمبلی میں آئے ¾ اب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں ۔اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرخواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ مضحکہ خیز ہے جس پر قوم بھی غصے میں ہے رپورٹ کو (آج) پیر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ہم عدالت سے سرخرو ہوں گے جب کہ دھرنے دینے والوں کو پہلے کی طرح اب بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑےگا ¾ نوازشریف کسی کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔خواجہ آصف نے کہاکہ قوم نوازشریف کی خدمات کا اعتراف کررہی ہے اوردنیا بھی ملکی ترقی کی معترف ہے، نوازشریف نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اب معاشی قوت بنائیں گے، 1999 میں بھی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی پاداش میں عالمی سازش کے تحت نوازشریف کی حکومت کو ختم کیا گیا۔ تاہم 2 بار غیرآئینی طریقے سے ہماری حکومت کو ختم کرنے کے باوجود نوازشریف دوبارہ بھرپور طاقت کے ساتھ ملک کے وزیراعظم بنے۔ وزیردفاع نے کہاکہ بیرونی طاقتیں سی پیک اور گوادر پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہیں دشمن پاکستان کو اپنے دباو¿ میں رکھنا چاہتے ہیں دہشت گردوں کی امداد ایک بین الاقوامی کاروبار بن چکا ہے لیکن پاکستانی قوم ایک بہادر قوم ہے اس قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور یہ قربانیاں دہشت گردی کے خلاف بنی نو انسان کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہیں کچھ مخالفین وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں اور کچھ نئے انتخابات کے خواب دیکھ رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ڈھائی سال قبل اسپیکر قومی اسمبلی کو استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منظوری کےلئے نہیں ہیں اور بعد میں وہی ہوا استعفیٰ دینے والے گھٹنوں کے بل معافیاں مانگتے ہوئے اسمبلیوں میں واپس آئے، اب وہی معافیاں مانگنے والے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور پہلے خود عدالتوں کا سامنا کرکے اپنے کیسز نمٹائیں کوئی شخص نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کرسکتا کیوں کہ نوازشریف کو وزارت عظمیٰ ان لوگوں نے نہیں بلکہ عوام نے اپنے مینڈیٹ کے ذریعے دی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved