تازہ تر ین

بچوں کی صحت

ڈاکٹر نوشین عمران
نوزائدہ اور شیرخوار بچوں کے عمومی مسائل میں نزلہ‘ کھانسی‘ گلا خراب‘ دست‘ قے عام ہیں۔ پیدائش سے تین ماہ تک بچوں کو بہت جلدی سردی لگ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کے لئے پہلی سردی بہت مشکل ہوتی ہے۔ بچے کے سارے کپڑے فوری اتار دینے سے بھی سردی لگ جاتی ہے۔ اس کی علامات ناک بہنا‘ کھانسی‘ بخار‘ دست اور شدت بڑھانے پر نمونیا اور سینے میں انفیکشن ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بچے کو فوری پیناڈول‘ پیراسٹامول شربت دیں۔ پانی اور دودھ پلاتے رہیں۔ بچے کو گرم رکھیں۔ بہت زیادہ کپڑے پہنانے کے بجائے مناسب کپڑے پہنائیں لیکن کمرہ کا درجہ حرارت بھی مناسب رکھیں۔ تین ماہ سے زائد عمر بچوں کو مرغ کی یخنی بھی دیں۔ بلغم وائی کھانسی ہونے پر بچے کھانسی کے ساتھ بلغم نہیں نکال سکتے۔ اس لئے کھانسی آنے پر وہ قے کر دیتے ہیں۔ ایسے میں گھبرائیں مت۔ یہ بلغم نکالنے کا ایک طریقہ ہے بچے کو سیدھا لٹانے کے بجائے کروٹ پر لٹائیں تاکہ قے کی صورت میں مادہ منہ میں نہ رہے بلکہ منہ سے باہر نکل جائے کمر پر ہاتھ ملیں۔ اگر بچے کی بہت تیز سانس ہو‘ سانس کے ساتھ سیٹی جیسی آواز نکلتی ہو‘ سانس کھینچ کھینچ کر لیتا ہو‘ رنگت پیلی یا نیلی ہو‘ ہونٹ یا ناخن نیلے ہوں تو فوری ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ سینے میں انفیکشن ہونے کے ساتھ تیز بخار ہو تو بچے کو اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہوتی ہے وگرنہ اینٹی بائیوٹک سے ہر ممکن پرہیز کریں۔ ہلکے بخار یا نزلہ‘ زکام‘ فلو پر صرف پیراسٹامول دیں۔ ساتھ ایری نیک یا کیلپول یا اینٹی ہٹامین ٹرائی مینک شربت دیں۔ بچے کو بھاپ دیں۔ ناک میں نارمل سیلائن کے قطرے ڈالیں۔ ناک پر‘ گلے یا کپڑوں کے کالر پر ویزلین یا وکس لگا دیں جو سانس کے ساتھ تھوڑی تھوڑی ناک میں داخل ہو گی۔ اگر بچہ بہت زیادہ تھوک نکالے تو پریشان نہ ہوں۔ اس کے ساتھ بلغم بھی نکل جائے گی۔
بعض بچے دن میں دو تین بار پاخانہ کرتا ہے۔ ہر بچے کی اپنی روٹین ہوتی ہے۔ اگر یہ بچے کی نارمل عادت ہو تو پریشان نہ ہوں۔ البتہ اگر پاخانہ پتلا‘ سرخی یا کالا یا سنہری مائل ہو‘ اس میں پیپ ریشہ یا جھاگ ہو‘ بدبودار ہو‘ یا نارمل سے زیادہ تعداد اور مقدار میں ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے کو ماں کا دودھ جاری رکھیں۔ نمکول یا او آر ایس بنا کر دیں۔ تین چار ماہ سے زائد عمر کے بچے کو چاول کی پچ کا پانی یا دہی اور کیلا مکس کر کے بھی دیں۔ بوتل سے دودھ لینے والے بچوں کی بوتلوں کی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں کچھ بچوں میں پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک معدے اور خوراک کی نالی کے درمیان بنے قدرتی والوز پوری طرح فعال نہیں کرتے اس لئے بچہ دودھ پینے کے بعد قے کر دیتا ہے۔ خاص کر اگر دودھ کے بعد بچہ سیدھا لیٹ جائے یا دودھ زیادہ پی لے‘ ایسے بچوں کو دودھ کے بعد کچھ دیر کندھے سے لگا کر ڈکار دلوائیں‘ پھر کروٹ دے کر لٹائیں۔ سیدھا لٹانے سے گریز کریں۔ بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں نہ صرف دودھ دیر سے ہضم ہوتا ہے بلکہ پیٹ میں ہوا کا مسئلہ بھی رہتا ہے۔ اس لئے بچوں کو ڈکار دلوا کر کروٹ دے کر لٹائیں۔ سیدھا لٹانے سے گریز کریں۔ بوتل سے پیٹ میں گیس زیادہ ہو جاتی ہے۔ بچے کو دن میں ایک یا دو بار گرائپ واٹر نیم گرم کرکے دیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved