تازہ تر ین

حدیبیہ پیپر ملز ،جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تہلکہ خیز فیصلہ ،بڑا سیاسی بھونچال

اسلام آباد(ویب ڈسک) سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کھولنے کی اپیل سننے سے معذرت کر لی۔جس کے نتیجے میں کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی ہوگئی ہے۔حدیبیہ ریفرنس کھولنے کی اپیل کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دینے کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی ہے جبکہ نیب نے کیس کو آئندہ ہفتے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کردی۔ جسٹس کھوسہ کیخلاف ریفرنس سے ایاز صادق کی بدنیتی ظاہر ہوگئی، عمران خانجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے کیس غلطی سے بینچ کے سامنے لگا دیا گیا اور شائد رجسٹرار آفس نے پاناما کیس پر میرا فیصلہ نہیں پڑھا، اپنے فیصلے میں حدیبیہ کیس کھولنے کے حوالے سے ایک حد تک فیصلہ دے چکا ہوں، رجسٹرار آفس کو کیس ہمارے بینچ کے سامنے نہیں لگانا چاہیے تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پاناما کیس میں چیئرمین نیب کو بھی بلایا گیا تھا، اقی ججزکے فیصلوں کے متعلق میں کچھ نہیں کہوں گا تاہم میں نے اپنے فیصلے میں حدیبیہ کیس سے متعلق 14 پیراگراف لکھے ہیں، اسحاق ڈار کی حد تک بھی میں فیصلہ دے چکا ہوں، اسحاق ڈار پہلے ملزم تھے پھر وعدہ معاف گواہ بن گئے، میں نے پاناما کیس کے اپنے فیصلے میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب کو کارروائی کا بھی کہا تھا۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ تشکیل دیا تھا جس کی ا?ج پہلی سماعت تھی۔ واضح رہے کہ پاناما بنچ کے سربراہ بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ تھے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حدیبیہ پیپرز ملز کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ حدیبیہ پیپرملز کے حوالے سے بننے والے بنچ کے سربراہ تھے‘ نے مقدمے کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار آفس کی غلطی سے یہ کیس ان کے پاس لگ گیا ہے، شاید رجسٹرار آفس نے میرا پاناما فیصلہ نہیں پڑھا۔ان کا کہنا تھامیں نے پاناما کیس سے متعلق 20 اپریل کے فیصلے میں حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر14 پیراگراف لکھے، جس میں نیب کو اس ریفرنس کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے رواں ماہ 10 نومبر کو قومی احتساب بیورو (نیب)کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔ بنچ کا سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کو مقرر کیا گیا تھا جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر خیل عالم میاں خیل شامل تھے۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عظمیٰ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف کارروائی کرے جس میں عدالت عالیہ کے دو ججز کے درمیان اس کیس پر فیصلہ ٹائی ہوا تھا اور تیسرے ریفری جج نے کیس ختم کرنے کا کہا تھا‘جبکہ سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹتے ہی جاتی عمرارائیونڈ میں نوازشریف‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ پہنچ گئے جہاں کئی دوسرے سینئر رہنما بھی موجود ہیں جو تازہ ترین صورتحال پر نئے لائحہ عمل کیلئے مشاورت کر رہے ہیں۔

لاہور‘اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)سپریم کورٹ میں رواں ہفتے کیلئے 6بنچ تشکیل دیئے ہیں۔ پانچ بنچ اسلام آباد جبکہ ایک کراچی میں مقدمات کی سماعت کریگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بنچ کل عمران خان کی نااہلی کے مقدمہ کی سماعت کرے گا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ حدیبیہ پیرز ملز کیس کھولنے کے لئے نیب کی اپیل پر آج پیر کو سماعت کرے گا۔ جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل بنچ پیر کو لاپتہ افراد جبکہ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل بنچ آج پیپلزپارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت کرے گا۔ ادھر وزیر خارجہ خواجہ آصف کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اقامہ کیس کی سماعت (آج)پیر کو ہوگی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں خصوصی لارجر بنچ سماعت کرے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے تحریری جواب طلب کررکھا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے وزیر خارجہ کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عثمان ڈار نے اپنی درخواست میں خواجہ آصف پر اپنے اثاثے چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے ان کی نااہلی کی استدعا کی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے اپنی درخواست میں کہا کہ اقامہ چھپانے پر خواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے۔دریں اثناآن لائن کے مطابق حدیبیہ پیپر کیس ری اوپن کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے بنائے گئے بنچ پر اعتراض کیلئے مسلم لیگ (ن)آج درخواست دائر کریگی۔ نواز شریف نے شہباز شریف سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کے حوالے سے جو بنچ بنایا گیااسکے سربراہ پانامہ پیپر پر انکے خلاف فیصلہ دے چکے ہیں اور اب انہیں مزید توقع نہیں کہ انہیں انصاف مل سکے گا۔ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اعتراضات کی درخواست آج پیر کو دائر کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے قانونی ٹیم کو درخواست تیار کرنے کے احکامات دیدیئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں دائر ریفرنسز کی آئندہ سماعت (کل) منگل کو ہوگی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار اس حوالے سے ایک درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ان کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے سے استثنی کی درخواست کی جائے گی۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کے بیٹوںحسن نواز اورحسین نواز کو اشتہاری قراردینے اور اثاثوں کی ضبطگی سے متعلق سماعت کل (14نومبرکو)ہوگی، امکان ہے کہ 14 نومبر کی سماعت میں عدالت ملزمان کے پیش نہ ہونے پر ان کو اشتہار ی قرار دیتے ہوئے پیشی کے لئے اشتہار دینے کی ہدایت کرے گی اور ساتھ ہی ملزمان کی جائیداد کی قرقی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ اس پہلے احتساب عدالت کی جانب سے عدالت میں ہی اشتہار چسپاں کیا گیا تھا جس کے مطابق گرفتاری دینے کے عدالتی احکامات کی مقررہ مدت 8 نومبر کو ختم ہوگئی تھی لیکن وہ تاحال عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔ احتساب عدالت کے حکم نامے کے مطابق اگر حسن نواز اور حسین نواز مسلسل عدالت میں سماعت سے غیر حاضر رہے تو ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔ اشتہار کے مطابق 30 دن میں پیش نہ ہوئے تو مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جائےگا۔ واضح رہے کہ نیب نے گزشتہ ماہ 12 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ملنے والی ہدایت کے بعد فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر حسن نواز اور حسین نواز کی پیشی کے لئے حکم نامہ آویزاں کیا گیا تھا۔ حکم نامے میں حسن نواز اور حسین نواز کو گرفتاری دینے اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ، العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ جائیدادوں کے ریفرنسز میں عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کا کہا گیا تھا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved