تازہ تر ین

ٹرمپ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے سے متعلق فیصلے کا اعلان آج کریں گے

امریکی(ویب ڈیسک ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے سے متعلق فیصلے کا اعلان آج کریں گے۔ ترجمان وائٹ ہاو¿س سارا ینڈرز نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ صدر ٹرمپ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے متعلق فیصلے کا اعلان آج کریں گے۔ اعلیٰ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج یروشلم کو اسرائیل کا دالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے تاہم امریکی سفارتخانے کی منتقلی میں 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بجے فارتخانے کی منتقل کے حوالے سے اعلان کریں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں موجود امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے کانگریس نے 1995 میں قانون پاس کیا تھا جس کے بعد آنے والے ہر امریکی صدر سے اس پر عملدرآمد کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ترکی کی مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی
دوسری جانب سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش،ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔متعدد عرب اور مسلم ممالک نے متوقع فیصلے کی مخالفت کی ہے، سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک اقدام ہوگا جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا۔عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے مشرق وسطیٰ کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔فلسطینی صدر محمود عباس کا امریکی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام امن کو ناکام بنائے گا اور خطے کی سلامتی اور تحفظ کے منافی ہوگا۔فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام سے خطرات میں اضافہ اور یہ تمام حدود کو پار کرنے کے مترادف ہوگا۔فلسطین کی درخواست پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا جس میں امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔مصر کے صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ٹرمپ سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ اس اقدام کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔اردن کے شاہ عبداللہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، گفتگو کے دوران شاہ عبداللہ نے امریکی صدر کے اقدام پر مسلمانوں کے مشتعل ہونے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کا مسئلہ نہایت اہم ہے، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا نتیجہ انقرہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔دوسری جانب فرانس اور جرمنی نے بھی امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، جرمن وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طے ہونا چاہئے۔فرانس کے صدر ایمونیل میکرون پہلے ہی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوئیتریس نے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام کے نتیجے میں دو قومی ریاست کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved