تازہ تر ین

سندھ پولیس بتائے راﺅ انوار کہاں ہے ، کیا پیپلز پارٹی نے چھپا رکھا ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب سے قبل میں ملتان گیا تھا۔ ہمارے آفس رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف وہاں ہار رہی تھی۔ ہماری ٹیم نے علاقے کے تین چار سروے کئے تھے اور یہ رپورٹ مرتب کی تتھی کہ جہانگیر ترین یہاں سے جیتنے کے بعد کبھی علاقے میں نہیں آئے اور زیادہ تر بنی گالہ میں رہتے تھے۔ جہانگیر ترین کی رہائیش ملتان میں ہے۔ ان کے بیٹے علی ترین کے بارے خبریں چھپیں کہ انہوں نے انگلستان میں بہت بڑا گھر خریدا ہوا ہے۔ اور وہیں کاروبار کرتے ہیں۔ لودھراں کے الیکشن میں انہوں نے بہت پیسہ خرچ کیا ہے۔ نمائندے کے مطابق اس ضمنی الیکشن میں انہوں نے 80 کروڑ یومیہ خرچ کیا ہے۔ جہانگیر ترین نے وعدہ کیا تھا کہ تھانہ کچہری کے معاملات میں مداخلت نہیں کروں گا۔ قصبے اور دیہات میں رہنے والوں کا اصل مسئلہ ہی تھانہ کچہری ہوتا ہے۔ کیونکہ پولیس رشوت خور ہے اور پیسے لے کر لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے اس لئے دیہاتوں میں لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور ووٹ ڈالتے ہیں جو انہیں تھانہ پولیس سے بچائے۔ میں جہانگیر ترین کو بتانا چاہتا ہوں کہ جہازوں میں پھرنے سے لوگ ووٹ نہیں دیتے میں ملگان گیا تو لوگوں نے بتایا کہ پیر جاوید اقبال لوگوں کے مسائل خود حل کروتا تھا۔ اور معمولی سے معمولی انسان کو بھی اپنی گاڑی میں بٹھا کر خود لے کر جاتا اور اس کا مسئلہ حل کرواتا۔ لوگ دولت کے قصے سن کر متاثر نہ ہوئے بلکہ ”جیلس“ ہوتے ہیں۔ عمران خان کے بارے لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑے آدمیوں کے ہیں ہمارے پاس بھی جہاز ہوتا تو ہمارے بھی تعلقات ان سے ہوتے۔ ہم تو ہاتھ تک نہیں ملا سکتے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا راﺅ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم سامنے آیا ہے اس کا مطلب ہے راﺅ انوار یہاں موجود تھے اور انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنا کیس بھی پیش کیا۔ دراصل سید مراد علی شاہ جو کہ سندھ کے بے تاج بادشاہ بنے پھرتے ہیں ان کے منہ پر اور پولیس کے منہ پر تھپڑ ہے یا تو یہ راﺅ انوار سے ملے ہوئے تھے اور انہیں چھپا رکھا تھا۔ جیسے کے عام لوگوں کا خیال تھا کہ پی پی پی کی لیڈر شپ اس کے پیچھے ہے۔ راﺅانوار کا اس انداز میں سپریم کورٹ میں پیش ہونا ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور پولیس بری طرح ناکام ہوئی اور اسے گرفتار نہ کر سکی۔ فاروق ستار جتنے معصوم بن کر بیانات دے رہے ہیں۔ وہ اتنے معصوم نہیں۔ الطاف حسین لندن میں ہوتا تھا۔ جبکہ یہاں تمام تر کام یہی فاروق ستار سنبھالتا تھا۔ بھتہ خوری فیکٹریوں کو ااگ لگانا۔ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا سب فاروق ستار کے سپرد تھا۔ پاکستان میں جتنے جرائم ہوا کرتے تھے۔ چائنہ کٹننگ، زمینوں پر ناجائز قبضہ۔ بھتہ خوری لوگوں کو مارنا سب کی کڑیاں ایم کیو ایم سے ملتی تھیں اور اسکے نگران پاکستان میں یہی فاروق ستار ہوا کرتے تھے۔ یہیں سے لندن پیسے بھیجے جاتے تھے۔ ہم نے جرائم پیشہ افراد کی لسٹ شائع کی تھی جس میں 91 فیصد مجرموں کا تعلق ایم کیو ایم سے جا ملتا تھا۔ میں بہت دنوں سے کہہ رہا تھا کہ ان کی ہنڈیا چوراہے میں پھوٹے گی۔ پی ایس پی نے کھل کر الطاف حسین کی مخالفت کی اور ایم کیو ایم پر تنقید بھی کی۔ اب ایم کیو ایم کا ووٹ چار دھڑوں میں تقسیم ہو گا۔ ملتان واقعہ کے ملزمان بہت مضبوط ہیں اور زکریا یونیورسٹی کے ملزمان کے چچا، تایا اور دیگر لوگ علاقے کی معروف اور مشہور شخصیات ہیں انہوں نے وہاں ناجائز قبضے کروا رکھے ہیں۔ اور سبزی منڈی کے بڑے حصے پر خود قابض ہیں۔ اس واقعہ کے ملزم لڑکے کے پاس بہت حرام کا پیسہ موجود تھا۔ اس کے پاس دو دو گارڈز ہوتے تھے۔ فخر سے دونوں ہاتھوں میں گنیں اٹھا کر تصویریں بنوا رکھی ہیں۔ ملتان کے شہریوں کی غیرت کہاں چلی گئی جو ابھی تک اس ملزم کے باپ کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلا رہے یہاں کے شرفاءکو کیا ہو گیا ہے کیا انہیں اس وقت تک غیرت نہیں آئے گی جب تک ان کی بیٹیوں کی ویڈیوز سامنے نہیں آئیں گی۔ ڈی ایس پی صاحب جو اس کی تحقیقات کر رہے ہیں موصوف خود یہاں کے طالب علم ہیں اور پی ایچ ڈی فرما رہے ہیں۔ وکلاءاور بار کے نمائندے بھی خاٹوش ہیں۔ نامعلوم وہ کس کے انتظار میں ہیں۔ وہ اپنے ساتھ واقعات ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ نمائندہ خبریں لودھراں چودھری نعیم نے کہا ہے کہ لودھراں میں تحریک انصاف کے ضمنی انتخاب ہارنے کی چار وجوہات ہیں جہانگیر ترین جب یہاں سے 2013ءمیں جیتے تو انہوں نے لوگوں سے بہت وعدے کئے کہ وہ علاقے کو پیرس بنا دوں گا۔ دوسری بات یہ 85ءسے یہاں صدیق بلوچ الیکشن لڑتا رہا۔ 2015ءمیں اس کی نفرتکا ووٹ جہانگیر ترین کو پڑ گیا۔ جہانگیر ترین کے نااہل ہونے کے بعدیہاں الیکشن کیلئے (ن) لیگ کو متبادل مل نہیں رہا تھا۔ انہوں نے دنیا پور سے پیر اقبال کو یہاں بلا کر متعارف کروایا جبکہ اس کی کمپئن بھی پارٹی نے نہیں کی۔ ان کے پاس پیری مریدی کا ووٹ تھا اور لوگ جہانگیر ترین سے متنفر تھے۔ انہوں نے ن لیگ کو ووٹ ڈالا۔ جہانگیر ترین کا بیٹا انگلینڈ میں رہتا ہے اور وہ وہاں کاروبار کرتا ہے۔ وہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ دو تین سال میں ایک دو مرتبہ آیا۔ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ مورثی سیاست ختم کر دی گئی ہے جبکہ اس نے یہ ٹکٹ جہانگیر ترین کے بیٹے کو دے دی۔ جہانگیر ترین نے اس الیکشن میں 80 کروڑ روپیہ خرچ کر دیا ہے۔ جبکہ پیر اقبال نے یہاں روپیہ پیسہ بھی خرچ نہیں کیا پھر بھی وہ یہاں سے جیت گئے۔ پی ایس پی کے وسیم آفتاب نے کہا ہے کہ ضیا شاہد صاحب جتنی گہری نظر آپ کی موجودہ سیاست پر ہے بہت کم صحافیوں کی ہے۔ ایم کیو ایم کا نام جب تک رہے گا اس کا مطلب ہے الطاف حسین کا نام رہے گا۔ اس کا مطلب ہے ”را“ آپریٹ کرے گی۔ خالد مقبول خود کو کنوینر کہہ رہا ہے یہ بھی انڈیا جا کر ”را“ کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف تقریر کر چکا ہے۔ ”را“ کا رول صرف پاکستان کو نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔ کراچی شہر میں بہت بڑے بڑے مسائل موجود ہیں۔ صاف پانی نہیں۔ کچرا اٹھانے والے موجود نہیں۔ سیوریج کا نظام تباہ و برباد ہے۔ عام آدمی بہت کمزور ہے۔ ملک کی عدالتیں اگر آزاد ہیں تو وہاں صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ایم کیو ایم کا کچا چٹھا سامنے آنا چاہئے۔ نمائندہ خبریں ملتان میاں غفار نے کہا ہے کہ لوگ انفرادی مذمت تو کرتےے ہیں لیکن اجتماعی مذمت کوئی نہیں کرتا۔ ملتان واقعہ پر پولیس نے 12 دنوں میں کوئی چیز برآمد نہیں کی۔ اب ریمانڈ صرف (2) دن کا باقی ہے۔ قانون کے مطابق 14 دنوں سے زیادہ ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا۔ ڈی سی او انتہائی نالائق ہے۔ انچارج ڈی ایس پی اس یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ جس کا تھیسس وہی مقرب لکھ رہا ہے۔ کل سرکٹ ہاﺅس میں گورنر صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں وہ ویڈیو دکھائی وہ دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ میں تمام ایجنسیوں کو اس میں شامل کروں گا۔ اور تتحقیقات کرواﺅں گا۔ گورن صاحب نے ایک منٹ کی ویڈیو دیکھی تو ان کے ماھے پر پسینہ آ گیا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved