تازہ تر ین

ججز کا طرز عمل پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے،وزیر اعظم کی لیگی ارکان اسمبلی کیلئے بڑی ہدایت

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر ججز کے طرز عمل کو زیر بحث لایا جائے۔اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ہر آئینی ادارہ اپنی حدود میں کام کرے، منتخب نمائندوں کو چور کہا جاتا ہے، حکومتی فیصلوں کو رد کیا جاتاہے جو اچھی روایت نہیں، ہمیں پارلیمنٹ کے وقار کو محفوظ کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ اور ججز سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ججز کے طرزعمل کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز میں زیربحث لایا جائے۔لودھراں کا فیصلہ احتساب کے نام پر انتقام کا عوامی جواب ہے، نواز شریف پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے وزیراعظم کے اس اعلان کی بھرپور حمایت کی جبکہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے صبر و تحمل کی پالیسی کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ انہوں نے کابینہ اور پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ عدلیہ کے خلاف بیان بازی نہ کی جائے تاہم اب اچانک ان کا مو¿قف تبدیل ہوگیا ہے۔عوامی عدالت نے اہل اور نااہل کا فیصلہ کردیا، مریم نواز خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل کیے جانے کے بعد سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور حکمراں جماعت کے دیگر رہنما بشمول مریم نواز بارہا یہ بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں کہ عدلیہ نے انہیں نااہل قرار دے کر عوام کے ووٹوں کی تذلیل کی۔این اے 154 لودھران کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کی کامیابی اور پی ٹی ا?ئی کے امیدوار علی ترین کی شکست کے بعد بھی نواز شریف کی جانب سے یہ بیان سامنے ا?یا تھا کہ لودھران کے عوام نے نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کردیا۔عوام سے ووٹ لے کر ا?نا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان الیکشن میں کامیابی کے بعد لودھراں میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں بھی نواز شریف نے کہا کہ ”مجھ پر ایک روپے کی رشوت کا الزام نہیں ہے لیکن کچھ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا، ایسا فیصلہ دنیا میں کہیں نہیں سنا“۔ نواز شریف نااہلی کے فیصلے کے بعد سے ہر جلسے جلوسوں اور دیگر فورمز پر یہی بیانیہ اپناتے ہیں کہ انہیں بلاجواز نکالا گیا جبکہ ریلیوں میں مریم نواز بارہا عوام سے یہ نعرہ لگواتی ہیں کہ عوامی عدالت ناہلی کے فیصلے کو نہیں مانتی۔اس حوالے سے نواز شریف کے سیاسی حریف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عوام سے ووٹ لے کر ا?نے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ شخص قانون سے بالاتر ہوگیا ہے۔البتہ گزشتہ روز عمران خان نے بھی اپنے بیان میں پاناما کیس کے فیصلے کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ کیس پاناما کا تھا مگر سابق وزیراعظم نواز شریف کو اقامے پر سزا دی گئی۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف عدلیہ کے خلاف تقاریر کر رہے ہیں، عوام کو ا±کسا رہے ہیں مگر عدلیہ نے کچھ نہیں کیا، اس لیے وہ شیر ہو گئے ہیں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved