تازہ تر ین

ہم دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں ، پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا کر بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ،جمہوری ادارے مضبوط ہونگے ، انسانی حقوق کا احترام ہو گا ، ارجنٹیناسفیر کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹرویو :ملک منظور احمد ،تصاویر نکلس جان ) اسلام آباد میں تعینات ارجنٹینا کے سفیر ایوان ایوان اسیوچ کا کہنا ہے کہ ارجنٹینا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سپورٹ کرتا ہے ،پاکستان نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔پاکستان نے افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کر کے بھی بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے ،افغان مہاجرین جو اپنے ملک میں خانہ جنگی کے باعث تباہ حال تھے پا کستان نے انہیں قبول کیا ۔ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پا کستان کی کوششوں کے معترف ہیں ۔ارجنٹینا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے امن مذاکرات جو کہ پا کستان کی مدد سے ممکن ہوئے ان کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ہم توقع کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان اور اس خطے میں امن لوٹ کے آئے گا ،معاشی ترقی کا حدف امن کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔امن کے دو ہی راستے ہیں یا تو دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے یا پھر ان کو اپنی منفی سرگرمیوں سے باز رکھنے پر قائل کر لیا جائے تاکہ معاشرہ امن اور ترقی کی منزلیں حاصل کر سکے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فا ئیو کے پروگرام ©©©’ڈپلومیٹک انکلیو “میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ،©ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیسری بار جمہوری طریقے سے اقتدار منتقل ہوا ہے ،جو کہ بہت ہی خوش آئند پیش رفت ہے ،جمہوریت کا تسلسل ہی قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے ،ارجنٹینا نے بھی 1976ءسے لے کر 1983ءتک ایک فوجی حکومت کا تجربہ کیا جو کہ بہت ہی ناکام ثابت ہوا ،جمہوریت فوری طور پر نتائج نہیں دیتی ،اورسوےلین حکمران غلطیاں بھی کرتے ہیں اور انہی غلطیوں سے سیکھتے بھی ہیں ۔طویل مدتی نظام کے طور پر جمہوریت ہی اچھا نظام ہے لیکن اس کے ساتھ پا لیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا لے گا ،اور بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ۔جمہوری ادارے تقویت پکڑیں گے ،سول اداروں اور انسانی حقوق کا احترام ہو گا ،آزادی اظہارپر بھی کوئی قدغن نہیں ہو گی ،پاکستان ابھی سیکھنے کے ارتقائی مراحل میں ہے ،اور ہمیں پر امید ہونا چاہیے ،کہ وقت کے ساتھ بہتری آئیگی ،اور ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کا مستقبل روشن ہو گا ۔سیا حت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ،مجھے ذاتی طور پر پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں ،میں خاص طور پر پولو میچ دیکھنے شندور بھی جا چکا ہوں،اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے لوگ بھی بہت ہی ملنسار اور مہمان نواز ہیں،پاکستان جیسے پہاڑی سلسلے دنیا میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے ہیں،ایک کام جو کرنے کی ضرورت ہے کہ ان علاقوں میں ہوٹلوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے ،سیکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آچکی ہے ،اورخاص طور پر شمالی علاقہ جات بہت محفوظ ہو چکے ہیں ،اور مجھے کبھی ان علاقوں میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا ۔میری ایک خواہش ہے کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک اسٹیم انجن کی لا ئن کو بحال کیا جائے ،مجھے ذاتی طور پر اسٹیم ٹرینیں اور پرانی ٹرینوں پر سفر کا بہت شوق ہے ،میں 2004ءمیں پشاور سے لنڈی کوتل اس اسٹیم ٹرین کا سفر کر چکا ہوں اور مجھے جو خو بصورتی اس سفر کے دوران دیکھنے کو ملی وہ آپ کو دنیا میں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رجنٹینا نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات 1951ءمیں استوار کیے ،ہم یہ تعلقات قا ئد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی استوار کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا ہوا ،واشنگٹن میں پا کستانی سفیر نے بیونس آ ئرس کا دورہ کرنا تھا لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ واپس چلے گئے اور یہ دورہ نہ ہو سکا اور ہمیں سرکاری سطح پر تعلقات استوار کرنے میں مزید تین سال لگ گئے ،لیکن ارجینٹینا نے 1948ءمیں ہی ایک کونسل خانہ کراچی میں قائم کرلیا تھا اور ہم اس وقت پا کستان سے یوٹی امپورٹ کیا کرتے تھے ، جو کہ گندم کی بوری بنانے میں کام آتی تھی ،اور پاکستان ارجینٹینا کو یوٹی سپلائی کرنے والا مرکزی ملک تھا ،دونوں ممالک کے درمیان اسی دور سے ایک گہرا تجارتی رشتہ قائم ہو چکا تھا ۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان با ہمی تجارت سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ پا کستان کے ساتھ اپنی با ہمی تجارت کا فروغ چاہتے ہیں ،اس وقت جو ہمیں مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک پا کستان اور ارجینٹینا کو معاشی مسائل کا سامنا ہے ،اور جب بھی معیشت خراب ہوتی ہے تو تجارت میں کمی کا رجحان دیکھا جا تا ہے ،لیکن اس کے باوجود ارجینٹینا میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے فروغ کی بڑی گنجائش موجود ہے ،اور پا کستان کھیلوں کے سامان کو فراہم کرنے والا مرکزی ملک ہے ،پا کستان میں دنیا کے بہترین فٹ بال باسکٹ بال اور رگبی بال بنائے جاتے ہیں ،پاکستان کو اپنے فنشڈ کپڑوں کی برآمد بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے ،پا کستان اس وقت بیڈ لنن اور تولیے زیادہ برآمد کر رہا ہے ،پاکستان کو کپڑوں کی ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے ،پاکستان ارجینٹینا کو پہلے بھی کپڑے جن میں شرٹس وغیرہ شامل ہیں برآمد کر رہا ہے ،لیکن پا کستان کو فیشن برانڈز کی برآمد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں فیشن کی صنعت کا شعبہ اہمیت اختیار کر رہا ہے ،جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،لیکن بات پھر وہی ہے اس کے لیے بہتر معاشی حالات کی ضرورت ہے ،کیونکہ خراب معاشی حالات میں پہلی چیز جو لو گ خریدنا بند کر دیتے ہیں وہ کپڑے ہوتے ہیں ،لوگ کپڑوں کو چھوڑ کر اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ہمارے ملک مہنگائی کی شرح بھی چالیس فیصد ہے جو کہ بہت ہی بلند ہے ،ہمارا ملک پا کستان کو زیادہ تر زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے ،سیویا بین اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات اور پاکستان کو وہ دالیں بھی برآمد کر رہے ہیں جوپا کستان میں پیدا نہیں ہوتیں ،اس کے علاوہ پاکستان کی ڈیری کی صنعت کے لیے پاکستان کو چارہ بھی برآمد کرتے ہیں ۔فارما سیوٹیکل کے شعبے میں سرل نامی پاکستانی کمپنی اور ارجنٹائن کی کمپنی کا اشتراک ہوا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اشتراک کامیاب ہو گا ،اور ارجنٹینا کی کمپنیاں پا کستان میں سائلو بیگز فروخت کر رہی ہے جو کہ زرعی مصنوعات کی پیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ،یہ بیگز نجی شعبے تحت صوبہ پنجاب میں فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایم اﺅ یو (MOU)سائن کرنے کے حق میں نہیں ہوں یہ سائن کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ،میں ٹھوس اقدامات پر یقین رکھتا ہوں ،جیسا کہ پا کستان اور ارجینٹینا کے درمیان نجی شعبے میں کوئی ایم اﺅ یو موجود نہیں لیکن اس کے با وجود نجی شعبے کے تحت زرعات میںبہت اچھا کام ہو رہا ہے ۔میرے خیال میں دونوں ممالک کا نجی شعبہ ہی معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایوان ایوان اسیوچ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سے مطمئن نہیں ہوں ،اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ہجم 277ملین ڈالر ہے جو کہ ماضی میں 500ملین ڈالر بھی رہ چکا ہے ،یعنی کہ اس وقت تجارتی ہجم نصف رہ گیا ہے ،اس میں معیشت کا بھی کافی عمل دخل ہے ،دونوں ملکوں کی معیشتیں اس وقت زیادہ درآمدات کرنے کی سکت نہیں رکھتیں ،ماسوائے بنیادی اشیا کے جن میں فٹ بال ،رگبی بال ہاکی اسٹک اور گلوز وغیرہ شامل ہیں ۔پاکستان پہلے ارجنٹینا سے فارما مصنوعات بھی درآمد کر رہا تھا جس کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کے ماحول میں بہت بہتری آئی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن یہ درست سمت کی جانب پہلا قدم ہے ،مزید بہتری کی کافی گنجائش ہے ۔بدقسمتی سے اس وقت ارجینٹینا میں کاروبار کافی مندی کا شکار ہیں اور بیرون ملک سرمایہ کاری نہیں کر رہے ارجینٹینا کی برازیل ،یورا گوائے ،پیرا گوائے اور ایکوڈور کے ساتھ مشترکہ منڈی ہے اور ان ممالک کے ساتھ ہی کا روبار کا رجحان زیادہ ہے ،جیسا کہ پا کستان بھی چین اور عرب ممالک کے ساتھ زیادہ تجارت کر رہا ہے۔ پاکستان میں ارجنٹینا کی سرمائی کاری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ارجینٹینا کی کمپنیاں بیرون ملک زیادہ تر فارما اور زرعات کے شعبوں میں ہی سرمایہ کاری کرتیں ہیں ،اس کے علاوہ ڈیزائن کے شعبے میں خدمات برآمد کی جاتیں ہیں ،لیکن یہ خدمات بھی پا کستان کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں ،یہ زیادہ یورپی اسٹائل میں زیادہ ہیں ،جو کہ پاکستانیوں کے زوق سے مطابقت نہیں رکھتیں،لیکن زراعت اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے کی گنجائش موجود ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نہیں دفا ع کے شعبے میں بھی پا کستان اور ارجینٹینا کا تعاون اتنا زیادہ نہیں ہے ،ارجینٹیا کی مسلح افواج محدود پیمانے پر کام کرتیں ہیں ہمارا اپنے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے ۔ہم اپنی دفاعی ضروریات پر اپنے جی ڈی پی کا صرف 1فیصد خرچ کرتے ہیں ،ہمارا زیادہ خرچ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر ہی ہوتا ہے ،ہم تعلیم پر جی ڈی پی کا 6فیصد جب کہ صحت پر 4.5فیصد خرچ کرتے ہیں ۔ہماری زیادہ توجہ مچھلی کے غیر قانونی شکار کو روکنے پر ہوتی ہے ، اس کے لیے ہمیں کشتیاں اور جہاز چاہیے ہوتے ہیں ،ہمارے پانی کے ساتھ ایک اسپیشل اکنامک زون ہے جس سے مچھیرے ہمارے پا نیوں میں آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کلچر ایک ایسی چیز ہے جو مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو بھی قریب لے آتی ہے اور انھیں ملنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ آرجنٹائن کے فنکار پا کستان آئیں ،اور اس کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے ،تاکہ بطور انسان ہم اپنی مشترکہ قدروں کو پہچان سکیں ،ایسے انسانوں کو ملایا جائے جو مختلف ثقافتی پس منظر رکھتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کلچر ارجنٹینا کے مقابلے مین ہزاروں سال پرانا ہے ۔ اس کے ساتھ کھیلوں کی ثقافت کو بھی فروغ دینا چاہیے ،ہم نے پا کستان سے پولو کا کھیل لیا ہے جو اگرچہ ہمارا سب سے مقبول کھیل تو نہیں لیکن ہمارا قومی کھیل ہے ، ہے۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان ہاکی کے کھیل میں بھی قریبی روابط ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ پا کستان میں ارجنٹائن کا سفارت خانہ پولو کے کھیل کے فروغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ،سفارت خانہ اسلام آباد کلب کے پولو کلب کو سپورٹ کرتا ہے ،اور یہ کلب ارجینٹینا کے پولو پلیئر متھیاس اولموس مشترکہ طور پر چلاتے ہیں ،اور کھلاڑی اپنے خاندان کے ہمراہ سال میں دو مرتبہ تین ماہ کے لیے پا کستان آکر بچوں اور بڑوں کو پولو کھیل کے گر سکھاتے ہیں یہ اکیڈمی بہت اچھے کھلاڑی پیدا کر رہی ہے ،آخری برس ارجینٹینا کے فرسٹ کلاس میں نمایاں کھلاڑی اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑی کا تعلق بھی اسی کلب سے تھا ،اس کے ساتھ ساتھ ہم ہر سال ایک پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی کرتے ہیں ،یہ ایک بڑا پولو ٹورنمنٹ ہوتا ہے ،اور اس سال اس ٹورنمنٹ میں لاہور سمیت ملک کے دوسرے حصوں سے بھی کھلاڑیوں نے شرکت کی ،اس سال اس ٹورنمنٹ کا فائنل میچ 700کے قریب لوگوں نے دیکھا ،یہ ایونٹ ہر سال بڑا ہو رہا ہے ۔سال 2016میں ہم نے بڑے ایونٹس منعقد کیے جن میں ارجینٹینا کے پینٹر کی ایگزی بیشن بھی شال تھی اس پینٹر نے پا کستان میں آرٹ کی ورکشاپس بھی منعقد کیں ۔ہم نے کچھ فنکار جن میں ٹینگو ڈانسرز بھی شامل تھے ان کو پا کستان مدعو کیا اور انھوں نے یہاں آکر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اس سال بھی ہم بہت سے ثقافتی ایونٹس منعقد کرنے جا رہے ہیں ،جن میں خواتین شعرا اپنا کلام پیش کریں گیں ،اس کے علاوہ موسیقی کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے ۔اس ساتھ ایک اور نہایت کی کامیاب ایونٹ جو ہم نے پچھلے سال منعقد کروایا تھا اور ہم اس سال بھی منعقد کروئیں گے پیر رفیع ٹھیٹر گروپ نے مختلف اسکولوں کے 150سے زیادہ بچوں کے لیے پرفارم کیا ،ان بچوں میں اسٹریٹ چلڈرن اور اچھے اسکولوں کے بچے بھی شامل تھے اور سب نے اس ایونٹ کو بہت انجوائے کیا ۔2016میں ہم نے پا کستانی کلاسیکل مو سیقی کی محفل کا انعقاد بھی کیا اس قسم کی موسقی مجھے زاتی طور پر بھی بپت پسند ہے ،اس سال ہم فنڈز کی کمی کے باعث یہ ایونٹ منعقد نہیں کروا سکے لیکن مستقبل میں اس ایونٹ کے دوبارہ انعقاد کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔اور میرے خیال میں پا کستان کو اپنے فنکاروں کو ارجنٹینا لے کر جانا چاہئے اور بیونس آئرس میں پا کستانی ایمبیسی کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے ،کیونکہ میرے خیال میں ارجنٹینا میں پا کستانی فنکاروں کو ایک بڑی ما رکیٹ ملے گی ۔جواب:ارجنٹینا پارک 1973میں اس وقت کے صدر پورٹو کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک تحفہ تھا ۔یہ پارک 1971ءکی جنگ میں پاکستان کو ارجنٹینا کی جانب سے بطور صدر سیکورٹی کونسل جنگ بندی میں مدد دینے کی نشانی کے طور پر بنوایا گیا یہ ایک بہت اچھا پارک ہے ،میں خود بھی اس پارک میں جاتا رہتا ہوں ،یہ شہر کے بالکل مرکز میں واقع ہے اور بچوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے ،ہم میئر اسلام آباد کے ساتھ مل کر اس پارک کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں ،اور مجھے خوشی ہے اس پارک کو پبلک کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved