تازہ تر ین

سول ملٹری کشیدگی….پریشانیاں بڑھ گئیں

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) لگتا ہے کہ ڈان اخبار کی خبر کی وجہ سے پیدا ہونے والا تنازع اب سویلین اور ملٹری قیادت کے درمیان نہ ختم ہونے والی کشیدگی بن گئی ہے اور متعدد تردیدوں کے باوجود یہ معاملہ اعلی سویلین اور ملٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات کا حصہ بنا ہوا ہے۔ دونوں جانب سے ان مذاکرات کے حوالے سے جاری کیے جانے والے ہینڈ آﺅٹ اور پریس ریلیز معاملہ سلجھانے کی بجائے کئی لوگوں کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر پوری توجہ خبر کی تردید اور صحافی کو سزا دینے کے معاملے پر مرکوز رکھی گئی لیکن بعد میں معاملہ اس جانب موڑ دیا گیا کہ آخر یہ خبر لیک کس نے کی یا خبر کس نے چلوائی۔ فوج کے رد عمل سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ خبر کس نے چلوائی / لیک کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے موقع پر پیدا ہوئی ہے جب تحریک انصاف نواز شریف کو حکومت سے نکلنے پر مجبور کرنے کیلئے سڑکوں پر سیاست، دھرنا اور بندش کے آخری مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔ ڈان کی متنازع خبر 6 اکتوبر کو شایع ہوئی لیکن 12 دن گزرنے کے باوجود یہ معاملہ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان اور ان کی آپسی بات چیت کے دوران تمام ایشوز میں سر فہرست ہے۔ اس ایشو پر حکومت کے مختلف محکموں بشمول وزیراعظم آفس، پاک فوج، دفتر خارجہ، پنجاب حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے کئی ہینڈ آﺅٹس اور بیانات جاری کیے گئے ہیں لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ 6 اکتوبر سے وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہر بات چیت کے دوران اس معاملے پر بات ہوتی ہے۔ 6 اکتوبر کو شایع ہونے والی ڈان کی خبر کی اسی روز وزیراعظم آفس اور پنجاب حکومت کی جانب سے تردید کی گئی۔ وزیرعظم آفس کی جانب سے خبر کی تردید جاری کرتے ہوئے اسے قیاس آرائی پر مبنی اور گمراہ کن اور غلط قرار دیا گیا تھا۔ اسی روز وزیراعظم آفس کی جانب سے ایک اور نظرثانی شدہ ریلیز جاری کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں بالخصوص آئی ایس آئی ریاست کی پالیسی اور قوم کے وسیع تر مفاد کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ درحقیقت، فوج اور آئی ایس آئی کا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے معاملے میں کردار غیر متزلزل اور سرگرم ہے۔ پنجاب کے وزیراعلی آفس کی جانب سے 6 اکتوبر کو جاری کی گئی ریلیز میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے متعلق خبر میں کہے گئے الفاظ غلط اور گمراہ کن ہیں۔ اگلے دن ڈان نے یہ تردیدیں شایع کیں لیکن اخبار نے اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 10 اکتوبر کو وزیراعظم آفس نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد ایک اور پریس ریلیز جاری کی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف نے کی جبکہ اس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے شرکت کی۔ پریس ریلیز کے مطابق، اجلاس کے شرکا نے ڈان میں سکیورٹی امور کے حوالے سے من گھڑت خبر شایع ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، خبر کی وجہ سے ریاست کے اہم مفادات کو خطرات لاحق ہوئے کیونکہ خبر میں گمراہ کن مواد شامل تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، وزیراعظم نے اس خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا اور ہدایت دی کہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی اور یہ کارروائی بلاتفریق انداز سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے کے ساتھ جاری ہے۔ 10 اکتوبر کے واقعات کے بعد، الیکٹرانک میڈیا نے سینئر فوجی اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے کہا کہ فوج نے اخبار یا پھر صحافی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ان لوگں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے یہ خبر جاری کی / چلوائی۔ دو دن بعد وزیر داخلہ چودھری نثار نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وہ کسی ملٹری ذریعے کو نہیں جانتے اور صرف حقائق کی بنیاد پر صرف اس وقت بات کریں گے جب فوج کی جانب سے اس ایشو پر کوئی ریکارڈ پر آ کر بات کرے۔ 14 اکتوبر کو آئی ایس پی آر نے کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد پریس ریلیز جاری کی جس میں فوجی کمان نے وزیراعظم ہاﺅس میں ہونے والے سکیورٹی اجلاس کی جعلی خبر لیک کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ گزشتہ ہفتے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران، دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی خبر کی تردید کی اور اس کے مواد کو غلط قرار دیا۔ 17 اکتوبر کو وزیراعظم آفس کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں آرمی چیف کی وزیراعظم سے ملاقات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ قومی سلامتی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم، ذرائع کے حوالے سے میڈیا نے بتایا کہ آرمی چیف نے پیر کو وزیراعظم کو بتایا کہ فوجی کمانڈرز نے جعلی خبر چلائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس معاملے کی انکوائری شروع ہوگئی ہے اور چند دن میں مکمل ہوجائے گی۔ 18 اکتوبر کو وزیراعظم نے وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات کی اور انہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ انکوائری میرٹ پر اور جلد مکمل کی جائے گی۔ کچھ میڈیا اطلاعات نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ چودھری نثار، جنہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس ایشو پر تحقیقات کرائی جا رہی ہیں، نے خود کو اس معاملے سے علیحدہ کر لیا ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain