Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار جام شہادت نوش کر گئے
    • پانی خطے کی لائف لائن، بطور ہتھیار استعمال نہیں ہونے دیں گے:وزیراعظم
    • مشتاق احمد کا قومی ٹیم کے فیصلوں پر اعتراض
    • عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتیں اور بیٹوں سے فون پر گفتگو کروائی جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ
    • بین اسٹوکس کی بگ بیش میں واپسی، ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کریں گے
    • امریکی پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی وافر مقدار میں موجود، ایران کا دعویٰ
    • باسط علی نے مائیک ہیسن کی ریڈ بال کوچ تقرری کو مذاق قرار دے دیا۔
    • ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا
    • مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا
    • راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب
    • راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی
    • عالمی عدالت کا بھارت کو حکم، سندھ طاس معاہدے پر عمل کریں
    • ناقص کارکردگی، ہیڈ کوچ،بولنگ کوچ سمیت7 کھلاڑی ریلیز
    • خان ہو اور خان کو سپورٹ نہیں کرے یہ ہو نہیں سکتا، یونس خان
    • سلمان علی آغا پاکستان ٹیسٹ ٹیم سے فارغ
    • لیونل میسی ، ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • ٹیسٹ کوچ سر فراز، عمر گل فارغ
    • لارڈز: تاریخی میدان میں محمد عباس کا نام امر
    • روایت معافی زندہ،سہیل سمیر شرمندہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    لندن فلیٹ کہاں سے خریدے ؟انرونی کہانی سامنے آگئی

    By Daily Khabrainنومبر 15, 2016
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    suprem-court-of-pakistan
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما کیس میں سماعت 17نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے،ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ،ہم صرف لندن میں خریدے گئے فلیٹس پر فوکس کریں گے ۔

    سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔

    وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز پاکستان میں مقیم نہیں، مریم نواز کی جانب سے دستاویزات جمع کروا دی ہیں، وہ اپنے موکلین کی ایک دستاویز کے علاوہ تمام دستاویزات جمع کرارہے ہیں۔ اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پاکستان سے کوئی پیسہ باہر نہیں گیا ، میاں شریف کے70کی دہائی میں صنعتی 6 یونٹ تھے، جن میں سے 5 یونٹ قومیالیے گئے ، گلف اسٹیل دبئی کے امیر راشد المکتوم کی مدد سے لگائی گئی، 1980 میں پہلے 75 فیصد پھر 25 فیصد حصص بیچے گئے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواستوں پرچیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم5رکنی لارجر بینچ سماعت کی۔

    جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 6سو سے زائد صفحات کی دستاویزات جمع کرائیں جن کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں ، درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 700صفحات ایک طرف سے 1600دوسری طرف سے جمع کرائے گئے ، ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔

    جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ چیئرمین نیب خود ساختہ جلاوطنی میں چین چلے گئے ہیں، ہم کیا کریں؟ نعیم بخاری نے جو کاغذات جمع کرائے ان کی ضرورت نہیں تھی، اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔

    وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں کی دستاویزات جمع کرارہاہوں، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کل جمع کرادیتے ہم دیکھ تو لیتے، حامد خان نےکہا کہ انہوں نےدستاویزات پہلے جمع کرانی تھی نا ۔

    اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ نے اخباری تراشے جمع کرادیے ہیں، اخباری تراشے الف لیلی کی کہانیاں ہیں،الف لیلی کی کہانیوں پر ہمارا وقت کیوں ضائع کیا؟ کیا کسی اخبار کی خبر پر کسی کو پھانسی ہو سکتی ہے؟ اخبار میں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو پھانسی دیدیں گے؟ اخبار ایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں۔

    جسٹس عظمت نے کہا کہ پہلے آپ نے 4 فلیٹس کا کہا اب 1982ء سے لے کر اب تک کی دستاویزات جمع کرادیں،ان دستاویزات کا کوئی سر ہے نہ پیر، سارا مواد ریکارڈ پر ہے، اس کو کمیشن تسلیم نہیں کرتا تو کہیں گے سارا ریکارڈ نہیں دیکھا ، اگر سارے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو 6 ماہ میں بھی رپورٹ نہیں آئے گی، وہ دستاویزات دیں، جن سے معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے، اخباری خبر کی بنیاد پر فیصلے نہیں کئے جاسکتے۔

    حامدخان نے کہا کہ جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں انہیں دیکھنے کے لیے 48گھنٹے کا وقت دیا جائے ۔اکرم شیخ نے کہا کہ مریم نواز شریف کا اضافی بیان جمع کرارہاہوں ۔ قطر کے شہزادے حماد بن جاسم کی جانب سے دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دی جائے جو صرف عدالت کے ملاحظے کے لیے ہے ۔

    عدالت نے کہا کہ آپ جس شخصیت کا نام لے رہے تو کیا بطور گواہ بلوانے پر وہ پیش ہوںگے؟ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ شیخ صاحب کیا آپ کو اس دستاویز کی حساسیت کا پتہ ہے ؟ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ غیر ملکی سربراہ نے آپ کو تحفہ دیا ہے۔

    اکرم شیخ نے کہا کہ میاں شریف کے 70کی دہائی میں 6یونٹ تھے، ان میں سے 5یونٹ قومیا لیے گئے ۔ گلف اسٹیل دبئی کے امیر کی مدد سے لگائی گئی ، یہ دستاویزات عدالت میں پیش کردی گئی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے برعکس ہیں۔

    اکرم شیخ نے کہا کہ میں وزیر اعظم کے بچوں کا وکیل ہوں وزیر اعظم کا نہیں ، وزیر اعظم کا جواب سلمان اسلم بٹ دیںگے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش تھی اتنا مواد آئے کہ 2،3روز میں جائزہ لیکر خود فیصلہ کریں ، ہمارا تاثردرست ثابت نہیں ہوا، بہت زیادہ دستاویزات آگئیں کہ اصل اور نقل کا پتہ ہی نہ چل سکے، اس طرح تو اس کیس کا فیصلہ 6ماہ بھی ممکن نہیں ہے۔کیس کی سماعت 17نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا

      مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

      راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب

      تازہ ترین

      ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا

      مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

      راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب

      راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.