اسلام آباد، چترال، ایبٹ آباد (کرائم رپورٹر، نیوز رپورٹر، نامہ نگار خصوصی) طیارہ حادثے میں جاںبحق ہونےوالے47 بدنصیب مسافروں کی لاشیں پمزہسپتال اسلام آباد منتقل کردی گئی ہیں اور26مسافروں کے واحقین کا ڈی این اے ٹیسٹ کرلیا گیا ہے۔دوسری طرف پمزہسپتال کے باہرطیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے ورثاءکومعلومات کی آگاہی کے لئے قائم سنٹر پر تعینات عملے کے پاس کسی قسم کی معلومات نہ ہونے اورشناخت ہونےوالے بدنصیب مسافروں کی ناموں کی لسٹ آویزاں نہ کئے جانے کی وجہ سے دن بھر ورثاءشدیداذیت سے دوچار رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرات داخلہ کو ابتدائی طورپر ارسال کی گئی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اب تک47 لاشیں اسلام آباد پہنچائی گئی ہیں۔پمزہسپتال میں منتقل شدہ نعشوں کا ڈی این اے سیمپل لینے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔واقعہ کے بعد راولپنڈی اسلام آباد اوردیگر شہروں سے درجنوں شہری اپنے پیاروں کی لاشیں لینے پمزہسپتال کے باہرپہنچ گئے۔وزیرداخلہ کی ہدایت پر پمزہسپتال میں لواحقین کی رہنمائی اورسہولت کے لئے سہولت سنٹر کاقیام فوری طورپر عمل میں لایاگیا تاہم دن بھراس سنٹرپرجاں بحق ہونے والے مسافروں کے ورثاءشدیدکرب اورپریشانی کی حالت میں رہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب تک پانچ مسافروں کی شناخت ہوچکی ہے۔جس میں سے ایک کی شناخت فنگرپرنٹ اورباقی مسافروں دیگرشواہدسے شناخت ہوئی ہے۔دوسری طرف وزرات داخلہ ذرائع کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کو وفاقی وزیرداخلہ نے احکامات جاری کئے ہیں کہ چوبیس گھنٹے ضلعی انتظامیہ اوروفاقی پولیس شفٹ وار ہسپتال میں موجود رہیں گے۔جومسافروں کے لواحقین اورہسپتال میں دیگرسہولیات سے متعلق لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھیں گے۔مارچری میں صفائی کے ساتھ ساتھ چلرز کی بھی ہردوگھنٹے بعد چیکنگ کی جائے گی اوریہ ضلعی انتظامیہ کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہسپتال میں تمام ترامورکی نگرانی کریں گے ۔وائس چانسلرپمزہسپتال ڈاکٹرجاویداکرم کے مطابق لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ کاعمل جاری ہے جبکہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کا ڈی این اے ٹیسٹ ایبٹ آباد ہسپتال سے ہی ہوگیاتھا اس عمل میں کچھ وقت درکارہے جیسے ہی رپورٹ ہسپتال انتظامیہ کو موصول ہوگی تومسافروں کی لاشوں سے متعلق ایک لسٹ آویزاں کردی جائے گی۔چوبیس گھنٹے کے لئے ایک معلوماتی سنٹرقائم کردیاگیاہے۔جہاں تعینات عملہ لواحقین کواپ ڈیٹ کرتارہے گا۔انہوں نے بتایاکہ لاشوں کی شناخت چہروں اوردیگراعضاءسے ناممکن ہے جس کی وجہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کیاجارہاہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرمملکت برائے کیڈ ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہاہے کہ پمزہسپتال میں لاشوں کی جلدازجلدپہچان کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں اوراس سلسلے میں ایک ہیلپ لائن بھی مقرر کی گئی ہے جس میں تمام مسافروں کے لواحقین کے ساتھ اگرکوئی نارواسلوک اختیارکیاجاتاہے توبراہ راست شکایات کرسکتے ہیں۔ اب تک جنید جمشید کے بھائی سمیت 30 میتوں کے ورثاءسے خون کے نمونے لئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری وزیر مملکت کیڈ نے بتایا کہ لاشوں میں خون نہیں بچا، بلڈ سیمپل لے لئے ہیں، جن کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے گا۔ میتیں نمونے لینے کے بعد روات کے نجی ہسپتال منتقل کر دی گئی جن میتوں کی ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ موصول ہو جائے گی ان کو لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ، ان کی اہلیہ مہرین اور بیٹی ماہ ر±خ کو اسلام آباد کی ایچ الیون قبرستان میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ انہیں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حویلیاں میں طیارہ حادثے کے مقام پر ملبہ ہٹانے اورلاشوں کو منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے میتوں کو ایبٹ آباد سے اسلام آباد پمزاسپتال لایا جا رہا ہے۔ اس آپریشن میں آرمی کے جوان اور ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی نے جائے حادثہ کو حصار میں لے رکھا۔ ہر چہرہ سوگوار ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ طیارے کا حادثہ پوری قوم کو غم دے گیا۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین بھی دکھ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سمندری کا 4 بہنوں کا اکلوتا بھائی عامر شوکت چترال میں ویلڈنگ کا کام کرنے گیا تھا۔ واپسی پر استاد نے طیارے کا ٹکٹ لے دیا لیکن عامر کا پہلا فضائی سفر ہی آخری ثابت ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کا رہائشی اے ایس ایف اہلکار سمیع اللہ بھی دو روز پہلے ڈیوٹی پر گیا لیکن لوٹ نہ سکا۔ خبر ملتے ہی اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔گوجر خان سے تعلق رکھنے والے اے ایس ایف اہلکار احسن غفار کے گھر میں بھی صف ماتم بچھی ہے۔ کنسٹرکشن کا کام کرنے والا فیصل آباد کا خالد مسعود بھی حادثے کا شکار ہو کر ملک عدم جا بسا۔ منڈی بہاو¿الدین کا 22 سالہ تیمور ارشد بہن بھائیوں سے ملنے گھر جا رہا تھا لیکن ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا۔ کالا باغ کے بزنس مین اختر محمود اور شکر گڑھ کے رہائشی بینک آفیسر عتیق جنجوعہ بھی المناک حادثے میں دنیا چھوڑ گئے۔ جاں بحق افراد کی پمز ہسپتال میں غائبانہ نماز جنازہ میں میتیں لینے کیلئے آئے لواحقین اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ دریں اثناءملک بھر میں متعدد شہروں میں طیارہ حادثے کے شہداءکی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ گزشتہ روز ایبٹ آباد کے علاقہ حویلیاں میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کا بلیک باکس تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے بلیک باکس کموڈور(ر) منیر بٹ کے حوالے کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کے ذریعہ طیارہ حادثہ کی تفصیلی،آزادانہ اور شفاف تحقیقات جلد کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی میں پاک فضائیہ کا ایک سینئر افسر بھی شامل ہو۔ جمعرات کو یہاں وزیر اعظم ہاﺅس میں پی آئی اے کے طیارہ حادثہ کے اسباب جاننے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ضروری ہے کہ سچ سامنے لایا جائے جسے جلد عوام کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے پی آئی اے کی انتظامیہ سے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک پہنچا جائے اور ان کے دکھ درد دور کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جائے۔ وزیراعظم کو امدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے اسلام آباد لائی گئی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ رشتہ داروں سے سیمپل حاصل کرنے اور تمام میتوں کی شناخت میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی یہ عمل جلد مکمل کیا جائے۔ پی آئی اے کے چیئرمین، سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن، ڈی جی سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وزیراعظم کو بتایا کہ پی آئی کا تمام عملہ اور پائلٹ انتہائی تجربہ کار پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں جو ہزاروں گھنٹے پرواز کا تجربہ رکھتے ہیںاور متوفی کیپٹن دس ہزار گھنٹے سے زائد پرواز کا تجربہ رکھتا تھا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بدقسمت طیارہ کی معمول کے مطابق باقاعدہ مینٹیننس کی جاتی تھی اور ہر لحاظ سے اڑان کیلئے موزوں تھا جس کا آخری معائنہ اس سال جولائی اور نومبر میں ہوا تھا۔





































