تازہ تر ین

پشاور سکول حملہ ،سقوط ڈھاکہ ہم نے 16سمبر سے کچھ نہیں سیکھا ۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ دو سال قبل اے پی ایس کا المناک واقعہ پیش آیا جسے آج بھی یاد کریں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ افسوس سے کہتا ہوں کہ اس المناک واقعہ میں حکومت کیلئے دو سبق تھے ایک تو عمران خان نے اس وقت سیاسی قیادت کے اتحاد کیلئے دہشتگردی کیخلاف دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا لیکن آج بھی سیاسی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس طرح کے سانحات کی روک تھام کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات میں سے10 ایسے ہیں جن پر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا گیا۔ حکومت کے حلیف مولانا فضل الرحمان نے 3 دن قبل پھر بیان دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ 1971ءمیں پاکستان دو لخت ہو گیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا اس میں بھی ہمارے لئے دو سبق ہیں ایک یہ کہ مدت تک ہمیں کہا جاتا رہا کہ ہم سے سیاسی غلطیاں ہوئیں سارے صوبوں کو ساتھ لے کر نہیں چلے۔ اس غلط فہمی کے تحت ہمارے حکمران تو بنگلہ دیش جا کر معافیاں بھی مانگتے رہے لیکن اب بھارتی انٹیلی جنس اور نریندر مودی نے خود ڈھاکہ جا کر اعتراف کیا کہ اس سارے کھیل میں بھارت نے مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان میں ناعاقبت اندیش لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بھارت ہمارا خیر خواہ یا دوست ہو سکتا ہے انہیں اپنے ذہنوں سے یہ خیال نکال دینا چاہئے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدراامد کرانے کی ذمہ داری سول حکومت سے زیادہ فوج کی تھی۔ سابق آرمی چیف راحیل شریف سے جب بھی اس حوالے سے سوال کیا جاتا تو جواب دیتے کہ میں کام مکمل کر کے جاﺅں گا۔ نئے آرمی چیف کی بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ متنازع خبر بارے کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ فوج اور سول حکومت دونوں کا موقف ہے کہ خبر ہی جھوٹی اور من گھڑت تھی تو کیا اس ملک میں آئین و قانون ہے جو خبر لگانے والے اخبار سے اس بارے پوچھ سکے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ جسٹس قاضی عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی ہے ابھی تک چودھری نثار نے ایک لفظ نہیں بولا جبکہ وزیرریلوے بول پڑے ہیں کیا سعد رفیق نے ہر بات کا جواب دینے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی اس رپورٹپر کوئی لب کشائی نہیں کی۔ میں اس رپورٹ کے حوالے سے پچھلے 21دن سے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سے فون پر رابطہ کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ناکام رہا ہوں۔ ڈاکٹر عبدالمالک سے اب اس پروگرام کے توسط سے بھی پوچھتا ہوں کہ آپ نے اڑھائی سال کتنے دعوے اور تقریریں کیں، دعوے کرتے رہے کہ میں برہمداغ، حربیات اور دیگر باغی لیڈرو ںکو واپس لا رہا ہوں وہ سب باتیں کیا ہوئیں قوم کا وقت اور پیسہ کیوں برباد کیا گیا۔ سابق وزیراعلیٰ کا فون کیوں بند ہے۔ بلوچستان کی موجودہ حکومت کا بھی اخبار میں بیان چھپا کہ برہمداغ آج بھی پاکستان آ جائیں تو گلے لگائیں گے۔ حکومت اس بات کا جواب دے کر پاکستان کے وہ غدار جو بھارت اور اسرائیل سے مل کر ملک کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ انہیں گلے لگانے کی بات کریں۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت کی حتمی پالیسی پر آج بھی عمل پیرا ہے جو نہرو دور سے شروع ہوئی۔ پاکستان جب کسی عالمی ادارے کے پاس جاتا ہے تو بھارت کا لہجہ فوری تبدیل ہو جاتا ہے اور پیشکش کر دیتا ہے کہ ہم تو بھائی بھائی ہیں مل کر بات کرتے ہیں۔ دوسری جانب ورلڈ بینک کی جانب سے عجیب ہدایت سامنے آئی ہے کہ آپس میں بات چیت کریں اگر حل نہ نکلے تو ایک ماہ بعد میرے پاس آئیں۔ اس کی مثال تو ایسے ہی ہے کہ دو گروپ آپس میں سر بھٹول پر اترے ہوں اور عدالت کہے کہ خود ہی بیٹھ کر حل نکال لو۔ ایک ماہ بعد پتہ نہیں ان میں سے ایک زندہ بھی رہے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جسٹس قاضی عیسیٰ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت امن و عامہ قائم کرنے میں یکسر ناکام رہی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا یہ قومی ادارے سیاسی مداخلت کے باعث مفلوج ہو چکے ہیں۔ یہ رپورٹ وزیرداخلہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف چارج شیٹ ہے اسی لئے ہم نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے اگر کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرنا تو کمیشن بنانے کا کیا مقصد تھا۔ حکومت کے رویے نے ہمارا موقف درست ثابت کر دیا ہے کہ پانامہ کیس پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں آج تک کسی کمیشن رپورٹ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ مولانا فضل الرحمان حکومت کے حلیف ہیں وہ اس اے پی سی میں شریک تھے جس میں متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت نہیں ہے یہ تو دہرا معیار ہے جو نہیں چلے گا۔ بیورو چیف امریکہ محسن ظہیر نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ڈی ایم سی کا ای میل اکاﺅنٹ ہیک کیا گیا۔ ای میلز منظر عام پر آئیں تو نیشنل سکیورٹی حکام کیلئے خطرے کا الارم بچ گیا کہ برسر اقتدار جماعت کی ای میلز ہیک ہونا معمولی واقعہ نہ تھا۔ الیکشن سے 6 ہفتےے قبل نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے رپورٹ دی کہ ای میلز ہیک کرنے والے ہیکرز روس میں تھے اور انہیں پیوٹن کی معاونت حاصل تھی۔ یہ بڑا الزام تھا لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کو خاطر میں نہ لانے کے باعث متنازعہ بن گیا ہے ہیکرز نے آزمودہ حربہ استعمال کیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی مہم کے انچارج کو ای میل کی کہ آپ کا اکاﺅنٹ ہیک ہو رہا ہے لہٰذا فوری پاس ورڈ تبدیل کر لیں۔ صدر ٹرمپ نے جو کابینہ تشکیل دی ہے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے قدامت پسند کابینہ ہے۔ سکیورٹی آف سٹیٹ ایکس ٹیلرسن دنیا کی بڑی تیل کمپنی کے سی ای او ہیں۔ ایڈیٹر مشرق کوئٹہ کامران ممتاز نے کہا کہ قاضی عیسیٰ کمیشن رپورٹ سامنے آ گئی زمینی حقائق بھی اہی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ بلوچستان میں صورتحال یہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کی خبریں چھاپنے کا کہہ کر درجنوں اخبارات اور اخبار نویسوں کے خلاف ایف آئی آرز کاٹی جا چکی ہیں۔ دوسری طرف ہم نے پچھلے دنوں وزارت داخلہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ کالعدم تنظیموں کی خدمت کا اخبارات میں اشتہار دیں اور بتائیں کہ ان کی خبروں کی اشاعت ممنوع ہے لیکن کوئی جواب نہ دیا گیا۔ اسی وقت بلوچستان میں لشکر جھنگوی العالمی دہشتگرد وارداتیں کرنے میں مصروف ہے۔ ٹی ٹی پی اتنی فعال نہیں ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain