کابل(ویب ڈیسک) امریکا نے افغانستان کے علاقے ننگرہار میں پہلی بار نان نیوکلیئر بم کا استعمال کیا ہے۔ اس نان نیوکلیئر بم کو شدت پسند تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ غیر ملکی خبر رسااں ادارے کے مطابق جی بی یو 43 میسو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم (ایم او اے بی) نان نیوکلیئر بم کو "مدر آف آل بمز” تمام بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں بمباری سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حملے کو گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہلاک کیے گئے امریکی فوجی کی ہلاکت کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نان نیوکلیئر بم کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں گرایا گیا۔ پینٹاگان کے مطابق 9800 کلوگرام وزنی یہ بم جمعرات کی شام کو ننگرہار کے ڈسٹرکٹ آچن میں گرایا گیا۔
امریکی ایئر فورس کے ترجمان کرنل پیٹ رائڈر کا کہنا ہے کہ 21 ہزار پونڈ وزنی لارجسٹ نان نیوکلیئر بم جی بی یو 43 بی (دی مدر آف آل بومب) پہلی بار کسی لڑائی میں استعمال کیا گیا ہے۔
پنٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ کے مطابق خوفناک ترین بم ایم سی 130 طیارے کے ذریعے اہداف پر گرایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق آئی ایس آئی ایس خراسان کئی ٹھکانوں سے ہاتھ دھونے کے بعد زیر زمین ٹھکانوں تک محدود ہوگئی ہے، داعش افغانستان کو کسی بھی طرح کا موقع فراہم نہیں کریں گے۔

VALPARAISO, FL - MARCH 11: In this handout provided by the Department of Defense (DoD), A Massive Ordnance Air Blast (MOAB) weapon is prepared for testing at the Eglin Air Force Armament Center on March 11, 2003 in Valparaiso, Florida. The MOAB is a precision-guided munition weighing 21,500 pounds and will be dropped from a C-130 Hercules aircraft for the test. It will be the largest non-nuclear conventional weapon in existence. The MOAB is an Air Force Research Laboratory technology project that began in fiscal year 2002 and is to be completed this year. (Photo by DoD via Getty Images)