اسلام آباد(آن لائن)معروف سیاستدان اور سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم کا سپریم کورٹ میں دفاع کرنے کےلئے ملک بلکہ دنیا کے چوٹی کے وکیل آسکتے ہیں تو کلبھوشن یادیو کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے اچھے وکیل کیوں پیش نہیں ہوسکتے،انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں پاکستان کا پانی کاٹنا آسان کام نہیں ہے،یہ عالمی قوانین کی کھلم کلا خلاف ورزی ہے جس کا بھارت متحمل نہیں ہوسکتا،نریندر مودی کی گا رکھشنک پالےسی اور اقلیتوں کے قتل وغارت کے باعث یورپ اور امریکہ بھی بھارت کے خلاف ہورہے ہیں۔انہوں نے ہکا کہ پہلے لوگ اصولوں کی سیاست کرتے تھے آج کل سیاست برائے اقتدار کا چلن ہے،ہر جماعت کو چاہئے کہ وہ حکومت ہو یا اپوزیشن اس کا مقصد اقتدار کا حصول ہے،ڈان لیکس کا فیصلہ ہو کر رہے گا چاہے حکومت جتنی مرضی آئےں بائےں شائےں کرلے اسی طرح جے آئی ٹی کی طرف سے وزےراعظم کے خاندان کو نوٹسز جاری ہوتے ہےں اگر سجن جندال بےک ڈور ڈپلومےسی کےلئے آئے تو مےرے خےال مےں کسی کو کوئی اعتراض نہےں ہوگا،اصل اعتراض طرےقہ کار پر اٹھاےا گےا ہے مےرے دور وزارت مےں مسئلہ کشمےر حل ہونے کے قرےب تھا لےکن ےہ بات واضح کردوں کہ کشمےرےوں کے بغےر اس کا حل نہےں نکلے گا ،وزےراعظم نے سرتاج عزےز کو اس لئے سےنےٹر نہےں بناےا کہ اس طرح انہےں وزےر کا درجہ دےنا پڑتا حالانکہ ہمےں وزےرخارجہ کی ضرورت ہے،ےہ ملک وزےراعظم دونوں کے مفاد مےں ہے۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن ےادےو کے معاملے مےں حکمرانوں کی سنجےدگی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہےں کہ پاکستان کا وزےرخارجہ ہی نہےں ہے،ہمےں عالمی عدالت کے پلےٹ فارم سے دنےا کو بتانا چاہئے کہ بھارت پاکستان مےں کس کس طرےقے اور قسم کی دہشتگردی مےں ملوث ہے حالانکہ بھارت خود درخواست عالمی عدالت مےں لےکر گےا لےکن اگر ہم درست طرےقے سے کےس لڑےں تو بھارت خود اپنے ہی ٹرےک مےں پھنس سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پےک گےم چےلنجر بن سکتا ہے لےکن اس لئے ہمےں بہت زےادہ محنت درکار ہے کےونکہ جب تک نےشنل اےکشن پلان پر من وعن عمل نہےں ہوتا تو ملک سے دہشتگردی کانا سور ختم نہےں ہوسکتا کےونکہ امن کے بغےر معاشی ترقی صرف خواب ہی کہلائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پےک کا منصوبہ حکومت کی طرف سے اتنا خفےہ کےوں رکھا جارہا ہے مےرے خےال مےں اگر چےن کی زرعی ضرورےات پوری کرنے کےلئے ہمارے کسان کو حصہ ملتا ہے تو اس سے ملک کی زرعی صنعت مےں انقلاب آسکتا ہے اب ےہ حکومت کی ذہانت پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے معاہدے اس کا حصہ بناتی ہے#/s#۔(ولی/طارق ورک)






































