تازہ تر ین

فرمانبردار بیٹے کی قبر سے خوشبو کے جھونکے، سود خور کی قبر سے کونسی آوازیں نکلتی ہیں ، دیکھیئے خبر

کراچی (خصوصی رپورٹ)کراچی کے قبرستانوں میں آنے والے پراسرار واقعات جاننے کیلئے ٹیم منگھو پیر کے علاقے آفریدی گوٹھ میں واقع قبرستان پہنچی تو قریبی علاقے میں تعمیراتی کام کرنے والے ایک شخص علی نے بتایا کہ …. ” میں ایک سال سے یہاں کام کررہا ہوں اور اکثر رات کو بھی اس اسی مقام پر رکنا پڑتا ہے۔ اس دوران میں نے کئی بار اس قبرستان کے اندر آدھی رات کے وقت لوگوں کی چہل پہل محسوس کی ہے۔ ایک بار جب میں اس چہل پہل کا راز جاننے کیلئے رات کے وقت قبرستان کے اندرگیا تو مجھے قبروں کے درمیان دس ، بارہ لوگ بیٹھے ہوئے دکھائی دئیے میں نے جیسے ہی ان لوگوں کی جانب قدم بڑھایا، ایک گرج دار آواز نے مخاطب کیا اورمیرا نام لے کر کہا کہ علی جہاں سے آئے ہو وہیں واپس لوٹ جاﺅ۔ اس وقت اس قبرستان میں ہمارا راج ہوتاہے۔کہیں ایسانہ ہوکہ میرے دیگر ساتھی تمہیں کوئی نقصان پہنچادیں۔ اس کے بعد وہ لوگ اچانک میری نظروں سے اوجھل ہوگئے اور میں بھی خوف زدہ ہوکر وہاں سے واپس آگیا۔ جب میں نے اس بات کا ذکر اسی علاقے کی مسجد کے پیش امام سے کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ آئندہ رات کے وقت قبرستان میں مت جانا۔ جن لوگوں کو تم نے دیکھا تھا وہ انسان نہیں بلکہ جنات تھے اور رات کے وقت اکثر اس قبرستان میں جنات کی محفل منعقد ہوتی ہے“۔ علی نے ایک قبر کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ….” میں نے ایک سال کے عرصے میں اکثر یہ بات محسوس کی ہے کہ ہر اذان کے وقت اس قبرمیں سے بھینی بھینی خوشبو کے جھونکے نکلتے ہیں جو پورے قبرستان کی فضا کو معطر کر دیتے ہیں۔ کچھ دیر بعد اس خوشبو کے آنے کا سلسلہ تھم جاتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قبر ایک محنت کش کی ہے جو دن بھر محنت مزدوری کرتا تھا اور اپنی والدہ کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتاتھا۔ وہ کام سے فارغ ہو کر اپنی والدہ کی خدمت میں لگا رہتا تھا اور باقی وقت اللہ کی عبادت میں صرف کیا کرتا تھا۔ اس کے انہی عملیات کا پھل اسے مرنے کے بعد اللہ کی جانب سے مل رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قبر سے خوشبو کا اخراج ہوتا ہے۔“ علاقے کے رہائشی ایک شخص ایاز نے بات کرتے ہوئے قبرستان میں ایک مقام کی نشاندہی کی جو ایک بڑا احاطہ لگ رہا تھا۔ اس میں آٹھ ستون نصب تھے اور اپنی بناوٹ کے لحاظ سے وہ صدیوں پرانا معلوم ہورہا تھا ایاز نے بتایا کہ ….” ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے اور اسے کب تعمیر کیا گیا تھا؟ لیکن اس علاقے کے کئی پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ قبرستان کے اس مقام کو تعمیر ہوئے ایک صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس مقام کی تعمیر انسانوں نے نہیں بلکہ جنات نے کی تھی۔ کیونکہ یہاں کسی ایسے شخص کی قبر پوشیدہ ہے، جو بہت نیک اور دین دار تھے اور روحانی عملیات کے ماہر تھے۔ ان کے تابع کئی جنات تھے اور ان کے انتقال کے بعد ان کے تابع جنات نے ہی ان کی تدفین اس مقام پر کی تھی۔ہر سال کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جب رات کے وقت اس صحن نما احاطے میں جنات کا مجمع جمع ہوتا ہے اور وہ صاحب قبر کیلئے فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ کئی لوگوں نے اس مقام پر جنات کے مجمع کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس وقت پورے قبرستان میںصرف اسی مقام پر چراغاں ہورہا ہوتا ہے اور بے شمار پراسرار لوگ جمع ہوتے ہیں جو تلاوت کلام پاک اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ ا گر کوئی انسان غلطی سے اس جانب چلاجائے تو وہ منظر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور جنات کی محفل میں خلل ڈالنے والے شخص کو اس غلطی کی سزا بھی مل جاتی ہے۔ یا تووہ شدید بیمار ہوجاتا ہے یا پھر اس کونادیدہ تھپڑ پڑتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جنات والے احاطے میں دور دور سے لوگ بیمار افراد کو لے کر آتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ اس احاطے میں اگر کسی بیمار کو لایا جائے تو اس کی بیماری دور ہوجاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی یہاں مانگی جانے والی دعائیں بھی اللہ رد نہیں کرتا ہے اور ہر جائز مراد پوری ہوجاتی ہے“۔قبرستان میں چوکیدار کے فرائض انجام دینے والے شخص اخلاق نے بتایا کہ …. یہاں ایک قبر ایسی بھی ہے جس میں سے اکثر رات کے اوقات میں شعلے نکلتے ہیں اور قبر کے اندر سے چیخ وپکار کی آوازیں بھی آتی ہیں ایک رات میں قبرستان کا چکر لگانے اپنے گھر سے یہاں آیا تو میں نے دیکھا کہ قبرستان کے اندر کسی نے آگ روشن کر رکھی ہے۔ میں سمجھا کہ شاید کوئی نشئی وہاں بیٹھا ہے ، جس نے آگ جلائی ہے۔ یہ سوچ کر میں اس نشئی کو سبق سکھانے اس مقام کی جانب بڑھا میں جب قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ یہ آگ ایک پرانی قبر کے اندر سے نکل رہی ہے۔ آگ کی لپٹوں سے ایسی آوازیں پیدا ہورہی تھیں جیسے گی کٹر چلانے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ مجھے قبر کے اندر سے کسی کے چیخنے کی آواز آتی محسوس ہوئی۔ میں نے اپنے بڑوں سے اس قبر کے متعلق سن رکھا تھا کہ یہ کسی سود خور کی قبر ہے، جس نے اپنی ساری زندگی سود خوری میں گزاری۔یہ صورتحال دیکھ کرمیں وہاں سے الٹے قدموں لوٹ آیا۔ اب بھی اگر مجھے اس مقام پر آگ جلتی دکھائی دیتی ہے تو میں اس کی جانب ہرگز نہیں جاتا کہ کہیں ان معاملات کے بیچ آکر میں بھی کوئی نقصان نہ اٹھا بیٹھوں“۔ایک فاتحہ خواں نصیر نے بتایا کہ ….”ایک رات کے اوقات میں ، میں یہاں فاتحہ خوانی کیلئے آیا۔ جب واپس جارہا تھا تو میں نے قبرستان میں ایک جگہ غلطی سے تھوک دیا۔ میرا اس مقام پر تھوکنا تھا کہ مجھے ایسا لگا جیسے میرے کاندھوں پر کوئی شخص سوار ہو گیا ، جو مجھے نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ اس نادیدہ شخص نے مجھ پر سوار ہوتے ہی میرے چہرے کو اپنے تھپڑوں سے تختہ مشق بنا ڈالا اور اسی طرح نادیدہ شخص کے تھپڑ کھاتے کھاتے میں اپنے گھر کی جانب دوڑا۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر میں بے ہوش ہوگیا مجھے جیسے ہی ہوش آتا تو وہ نادیدہ طاقت مجھے تھپڑ مارنا شروع کردیتی اور تھپڑوں کی شدت سے میں دوبارہ بے ہوش ہوجاتا۔ میری یہ حالت دیکھ میرے گھر والے مجھے ایک روحانی عامل کے پاس لے گئے اورانہوں نے میرا علاج کیا۔ انہوںنے بتایا کہ تم نے قبرستان میں ایسے مقام پر تھوک دیا تھا جہاں جنات بیٹھے تھے، جس کی وجہ سے ان کے لباس ناپاک ہوگئے۔ پھر عامل صاحب کے کہنے اور معافی مانگنے پر جنات نے میری جان چھوڑی ۔ اس کے بعد میں نے قبرستان کے اندر کسی بھی قسم کی کوئی غلاظت پھیلانے سے توبہ کرلی“۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain